The worst form of inequality is to try to make unequal things equal.
PAKISTAN .... The Best example of the worst form of inequality !
Thursday, December 17, 2015
Thursday, November 26, 2015
صحافت یا دکانداری ؟؟
صحافت یا دکانداری ؟؟
صحافت کے بارے میں عوام کی عمومی راۓ یہی ہے کہ یہ معلومات حاصل کرنے کا واحد طریقہ ہے اسکے مقا صد میںعوام میں انصاف اور جمہوریت کے بارے میں شعور اجاگر کیا جانابھی شامل ہےصحافییوں کی مستند تنظیموں کے مطابق صحافتی اقدارکا مطلب ھی صحافی برادری کی طرف سے ایسی کوششیں ہیں جس میں اس بات کو یقینی بنایا جا سکے کہ معاشرے کے باشعور و بے شعور ، تعلیم یافتہ اور غیر تعلیم یافتہ ہر دو قسم کے افراد کو معلومات کی فراہمی اس طرح یقینی بنائی جاۓ کہ یہ معلومات " غیر جانبدارانہ ، مکمل اور مستند " ہوں
سن ٢٠٠٢ کے بعد پاکستانیوں کا پیشہ ورصحافییوں اور روایتی تجزیہ کاروں کے علاوہ ایک نئی قسم سے پالا پڑا جسکو " اینکر پرسن " کا نام دیا جاتا ہے عالمی طور پرنیوزاینکرز کی بھی کچھ تعلیمی اور پیشہ وارانہ قابلیتیں ہوتی ہیں مثلا کسی بھی اینکر کو اپنے شو کی میزبانی اور ایڈیٹنگ کا 65 فیصد خود نبھانا ہے اسکی اپنی رپورٹنگ 25 فیصد ہوگی اور اپنے شو کا بقیہ انتظام دس فیصد وغیرہ بھی وہ خود کرے گا اس تمام زمھداری کے دوران نیوزڈاریکٹر اسکی مدد کرے گا اپنے نیوز آئیٹم پر شو کے دوران ایک اینکر کو بے تکان ، بلاوجہ بولنے پر پزیرائی شاید ہمارے ملک میں تو مل جاتی ہے مگر عالمی سطح پر اصل عزت افزائی کا موجب اینکر کی نیوز آئیٹم کے بارے میں مستند معلومات ، صحیح وقت کاتعین اور معلومات کا
صحیح استعمال ہے
خبریں سنانے والےاورانپر تجزیہ کرنے والے اینکرز کے لیے ضروری ہے کہ انکو مقامی سے لے کر بین الا اقوامی سیاسیات ،قانون ،معا شیات اور ثقافت کا بھر پور علم ہو وہ بہترین صحافتی اقدار کا علم رکھتے ہوں اور انپر عمل کرنے کی مسلسل کوشش کرتے رہیں
سیاسی شوز کے دوران انکو بہتر الفاظ کے چناؤ اور اپنے جذبات پر قابو رکھنے کا تجربہ بھی ہو اور اپنے پروگراموں میں موجود سیاسی شخصیات اور تجزیہ کاروں کو " قابو " میں رکھنے کا ہنر بھی جانتے ہوں
پروگرام کے دوران کبھی بھی ایسا محسوس نہیں ہونا چاہیے کہ موڈریٹر کی کرسی پر اینکر نہیں بلکہ مرغے یا ریچھ اور کتے لڑانے والا مداری جلوہ افروز ہے
پاکستان کی صحافتی تاریخ پر نظر ڈالیں تو آپکو فیلڈ رپورٹرز کے فرایض نبھاتے جانفشاں افراد بھی ملیں گے جنہوں نے اپنی جانوں پر کھیل کراپنی جان کی دشمن " سول ؤ ملٹری اشرفیہ " کے پول کھولے ، آپکو زیادہ سرکولیشن کی اخباروں میں لکھتے بکاؤ تجزیہ کار بھی ملیں گے جنہوں نے اپنی اولادوں کو ولایت میں تعلیم دینے کے لیے پاکستان کے نجات دھندہ ،منتخب جمہوری رہنماؤں کے خون میں ہاتھ ڈبوۓ اور پھر ہوا کا رخ بدلتے دیکھ کر جمہوریت کی بہتی گنگا میں ہاتھ دھو کر "پاک پوتر " ہونے کی بہترین اداکاری بھی کی
یہ مضمون بہت لمبا ہوسکتا ہے اورغیر دلچسپ بھی اس لیے میں اسکو طوالت اور آپکو بور ہونے سے بچانے کے لیے آج صرف کچھ سوالات اٹھاؤں گی ، جواب میرے پاس بھی نہیں لحاظہ ایسے میں بہترین طریقہ ہے ڈیٹا کا تبادلہ ! میرے سوالات کے جواب ڈھونڈنا آپکا کام
سوالا ت یہ ہیں کہ اپنے فرایض منصبی کے دوران جو فیلڈ رپورٹر شہید کر دیے گیۓ وہ پاکستان کے کن علاقوں سے تعلق رکھتے تھے ؟ کیا وہ علاقے الیکڑانک نیوز میڈیا کی پہنچ سے باہر ہیں ؟ اگر ان صحافیوں کو ہم تک خاص معلومات پہنچانے کی وجہ سے شہید کیا گیا تو کیا نیوز چینلز پر پرایم ٹائم کے دوران "دکانیں " سجانے والے ہم تک وہ خبریں ، وہ معلومات نہیں پہنچا رہے اگر پہنچا رہے ہیں تو پھر کوئی انکو "شہید " کیوں نہیں کر رہا اور اگر نہیں پہنچا رہے تو کیوں نہیں پہنچا رہے؟ کیا یہ ممکن ہے کہ مین اسٹریم میڈیا ان خبروں سے لاعلم ہو ؟ اگر نہیں تو یہ صحافتی بد دیانتی کرنے والے اینکرز اپنے ارد گرد رہنے والے عوام کو اپنی بد دیانتی اور " کرپشن " کا کیا جواز دیتے ہیں ؟
ایسا تو نہیں کہ جان دینے والے رپورٹرز اور جوابداری کرنے والی عوام کسی اور علاقے کی مخلوق ہوں اور " صحافتی کرپشن " میں ملوث اینکرز اور انکے شوز میں مدعوہ ہونے والے نام نہاد "سینئیر تجزیہ کار " کسی اور "دیس " کے لا ؤ ڈ سپیکرز ہوں ؟
اعداد ؤ شمار آپکی خدمت میں پیش ہیں خود ھی ملاحظہ فرمائیں ، میرے سوالات کے جواب آپکے پاس ہیں تو ارسال کریں ، تنقید اور ڈیٹا میں درستگی کو کھلے دل سے تسلیم کروں گی کیوں کہ میں کوئی "سینئیر یا جونیر تجزیہ کار یا لاکھوں کمانے والا ہیرو ٹائپ اینکر " نہیں جو سوال اور تنقید برداشت نہ کر پاؤں اور اپنے کو خدا یا اولیاء اللہ سمجھ کر مخلوق خدا کا منہ بند کر دوں بلکہ میں ایک عام سی انسان ہوں جس کا کام ھی لوگوں سے سیکھنا اور اپنی بساط بھر انکو سیکھانا ہے
ایک بین الا اقوامی تنظیم جس نے صحافیوں کے حقوق اور انکی آزادانہ رپورٹنگ کے تحفظ کے لیےآواز اٹھانے کا بیڑا اٹھایا ہے، اس تنظیم نے سن ١٩٩٢ سے صحافیوں کی پیشہ وارانہ سرگرمیوں کے دوران ہلاکتوں کا ریکارڈ جمع کیا ہے اس تنظیم کےمطابق پاکستان سن ٢٠٠٠ سے ٢٠١٤ تک ہمیشہ ھی 15 سرفہرست ممالک میں شامل رہا سن ٢٠١٠ اور ٢٠١١ میں یہ صحافیوں کے لیے دنیا کے خطرناک ممالک میں سر فہرست رہا ان دو برسوں میں اس ملک خدا داد میں بائیس صحافی شہید کر دیۓ گئے
٢٠٠٨ میں پاکستان کے 6 صحافی قتل کر دیے گئے جن میں تین پشتون صحافی تھے اسی طرح سن ٢٠١٢ میں پاکستان اس فہرست میں تیسرے نمبر پر رہا آٹھ صحافی شہید کر دیے گئے 4 بلوچستان ،تین سندھ اور ایک پختونخواہ سےتعلق رکھتے تھے .سن ٢٠٠٩ اور ٢٠١٣ میں پاکستان اس خطرناک ممالک کی فہرست میں چوتھے نمبر پر رہا اور یہاں ١٦ صحافیوں کو موت کی نیند سلا دیا گیا جن میں اکثریت ہمارے پشتون صحافیوں کی تھی .سن ٢٠٠٩ میں تقریبا '' پانچ صحافی خیبر پختونخواہ میں ٹارگٹ کیۓ گئے ٢٠١٣ بھی صحافی برادری کے لیے خون آشام سال کہلایا چار شہید صحافیوں کا تعلق بلوچستان سے اور تین کا پختونخوا سے تھا پچھلے سال یعنی ٢٠١٤ میں چار صحافی شہید کیۓ گیۓ جن میں سے تین کا
بلوچستان اور ایک کا سندھ سے تعلق تھا
Population Percentage of Provinces (on est Population 2012) & Percentage of Journalists Killed
|
اس ڈیٹا پر آپ ایک اچٹتی ہوئی نگاہ بھی ڈالیں تو شہید صحافیوں میں سب سے زیادہ تعداد پختونخواہ اور بلوچ صحافیوں کی ملے گی . ایک مزید افسوسناک پہلو یہ بھی ہے کہ پنجاب کے شہید ہونے والے رپورٹرز میں جن صحافیوں کو ٹارگٹ کیا گیا ان میں سےاکثر کی رپورٹنگ اور تفتیشی صحافت کا تعلق بھی خیبر پختونخواہ ، بلوچستان اور کراچی سے تھا یعنی خبروں کی حساسیت مخصوص علاقوں سے وابستہ ہے یہ پاکستان کے وہ علاقے ہیں جو چھوٹے صوبے یا سیاسی زبان میں "چھوٹے بھائی " کہلاتے ہیں
پاکستان کی آبادی کاتقریبا '' 49 فیصد ان تین صوبوں میں موجود ہے اور بقیہ 51 فیصد صوبہ پنجاب میں اور غور طلب بات یہ ہے کہ ان تین صوبوں میں آبادی کم ہونے کے باوجود صحافیوں کے قتل کی فیصد وارداتیں بہت زیادہ ہیں خاص کر کے بلوچستان میں جہاں کل پاکستانی آبادی کا صرف 7 فیصد آباد ہے
آئیے اب چلیں ٢٠٠٢ کے بعد پاکستان میں آنے والے "انقلاب " کی طرف جسکا نام " آزاد میڈیا "رکھا گیا اور پاکستان کے طول ؤ وعرض میں موجود نہ ہونے کے باوجود وطن عزیز میں اسکے رعب داب کو عمومی طور پر چیلنج کرنے والا کوئی دوسرا نہیں
اکثر چینلز پہلے سے جاری شدہ اخبارات کی ایکسٹینشن ہیں وہ اسی پالیسی کو اپنے الیکٹرانک چہرے پر بھی اچھی طرح "مل " لیتے ہیں جو برس ہا برس سے انکی اخبا رات کا حصہ ہے مگر اسکے ساتھ ساتھ کیونکہ ٹی وی ایک "تصویری میڈیا " ہے اس لیے اخبارات اور جرائد کے مقابلے میں یہ زیادہ "بازاری " ہے !معاف کیجیے گا آپکو میرے اس لفظ بازاری سے تکلیف محسوس ہو ئی ،دراصل پرنٹ میڈیا میں تو معلومات کے اضافے کے لیے کچھ خبریں شا ئع ہوجاتی تھیں مگر الیکٹرانک نیوز میڈیا کسی فلم ، ڈرامے ، رنگ برنگے گانوں کی ویڈیوز کی طرح صرف اور صرف " بکنے " والی شے بن چکا ہے خبریں ہیں تو طنز ؤ مزا ح میں ڈوبی جگتیں ، بیک گراونڈ میں چلتے انڈین ؤ پاکستانی گانے ، جلتی پر تیل چھڑکتی جملے بازی یعنی بکنے والی ہر سوغات آپکو نیوز چینل پر مل سکتی ہے سواے آپکی معلومات میں اضافے کا با عث بننے والی حقیقت پر مبنی ، غیر جذباتی ، میعاری اور عوام کی نظر سے پوشیدہ رہ جانے والی خبریں
اب چونکہ میڈیا کی پہلی ترجیح " بکنا اور بکتے" ھی چلے جانا ہے لحاظہ ایسی تمام معلومات کو زیر بحث نہیں لایا جاتا جو معلومات تو ہوں مگر بازار میں بکنے کا انکا کوئی خاص چانس نہ ہو بلکہ ایسی خبریں سنانے سے ہوسکتا ہے میڈیا ہاؤس اور اسکے زیر کفالت امیر ؤ کبیر اخبار ؤ چینل مالکان کے "نفع میں نقصان " ہوجاۓ
جہاں صحافی موجود ہے اور جان سے جارہا ہے وہاں کی خبریں بکتی نہیں اور اسمیں مصالحہ موجود نہیں اور جہاں جان کا خطرہ نہیں وہاں نام نہاد صحافی یعنی "اینکرز " زیادہ موجود ہیں
پچھلے ایک ہفتے کے مین اسٹریم نیوز میڈیا پر آنے والے پولیٹیکل شوز دیکھے جو شام کے آٹھ اور رات کے دس بجے نشر کیۓ جاتے ہیں ، انمیں اکثرشوز ہر شہری گھرانے کا مرد ؤ زن ،بچے بوڑھے شوق سے دیکھتے ہیں سوال ہے کہ یہ لوگ کون ہیں اگریہ اینکرز ہیں تو کیا عالمی میعار پر پورے اتر رہے ہیں ؟ اگر نہیں تو ان میں وہ کیا ہیرے جڑے ہیں جو انکی زندگیوں کے ضامن ہیں جبکہ ان ھی کی فیلڈ سے متعلق صحافی سچی اور میعاری خبریں اکھٹی کرنے کے جرم میں دشمنوں کے ہاتھوں را ہی ملک عدم ہوگئے ؟
سات دن میں ٢٧ نیوز چینلز کے پرایم ٹائم شوز دیکھیں اور اینکرز کی اہلیت جانچیں ، اس نیوز آئیٹم پر بھی غور فرمائیں جس کو پروگرام کا عنوان بنایا گیا ! ٨٠ سے ٩٥ فیصد اینکرز کا تعلق پاکستان کے مخصوص علاقوں سے ہے، انکی اکثریت بلوچستان ، اندرون سندھ اور قبائلی علاقوں کے بارے میں اتنا ھی جانتی ہے جتنا ایک پانچویں جماعت کا طالب علم، بی ا ے فلسفہ کے کورس کے بارے میں ،انکی اہلیت یا تو ایک طویل عرصے تک کسی اخبار سے وابستگی ہے یا طاقتور حلقوں کی آشیر با د یا پھر ریچھ اور کتے لڑا نے میں مہارت بھی ایسے شوز کرنے کا میرٹ بن گئی ہے، عنوانات کا تجزیہ کریں تو انڈیا سے کرکٹ کا جنگی جنون ،عمران ریحام شادی ، عمران ریحام طلاق ،محترمہ زمانی سے " اندر کی بات " اگلوانے کے لیے انٹرویوز ، آ یان کی میک اپ زدہ پیشیاں ، نواز زرداری کرپشن کے گھسے پٹے افسانے ، شکریہ راحیل کا دورہ امریکہ ، نندی پورمیں نیند کرتا میاں کرپشن میٹرو " ملن " کے فوائد ،سندھ فیسٹیول پر تبرے ، میرا کی شادیاں وغیرہ وغیرہ شامل ہیں.یہ وہ خبریں ہیں جو " محفوظ ترین " ہیں ان بے مقصد خبروں کو عوام تک پہنچا نے اور انپر گھنٹوں بے مصرف "سر پٹھول " کرنے والے "گڈ اینکرز " پاکستان کے بڑے بڑے شہروں میں محفوظ زندگیاں گزارتے ہیں ، بہترین تنخواہیں ، قیمتی لباس ، مہنگی گھڑیاں اور " حسین "بنانے والی بیوٹیشنز سےرابطہ رکھتے ہیں یہ "گڈ طالبان " جیسے گڈ اینکرز طاقتور حلقوں کی چھپر چھاؤں تلے عوام میں جڑیں رکھنے والے ،ووٹ لینے والے منتخب نمایندوں کی کرپشن پرمیڈیائی تماشوں میں روزانہ ھی انگلیاں اٹھاتے ہیں مگر اپنی " بد ترین صحافتی کرپشن " پر نظر ڈالنا گوارہ نہیں کرتے اگر ان گڈ اینکرز کو سوشل میڈیا پر بلوچستان کے جبری گمشدہ افراد ، توتک خضدار کی اجتماعی قبروں ، وزیرستان کے لٹےپٹے" مہاجرین " پرگولیاں برسانے والےقانون کے رکھوالوں اور کراچی میں اندھیر مچانے والے بھتہ خوروں ، ٹارگٹ کلرز کی یاد دلائی جاۓ تو یہ آپ پر اپنےفیس بک یا ٹویٹر اکاؤنٹ کے دروازے بند کرنے میں سیکنڈ نہیں لگاتے
دوسری طرف ہیں "برے صحافی " جو اپنے فرایض منصبی کو ہم تک پہنچآ نے کے لیے اپنی جانیں ھتیلی پر لیے باجوڑ سے پنجگور اور لاڑکانہ سے خضدار تک موجود ہیں وہ اپنے فرایض کی انجام دہی کرتے ہوۓ انہی قتل گاہوں میں شہید ہو جاتے ہیں اور انکی حاصل کی گئیں خبریں اکثر انہی کے ساتھ دفن کر دی جاتی ہیں
بدقسمتی سے وہ جو "تاریک راہوں میں مارے گیے " وہ کبھی نہیں جان پائیں گے کہ اسلام آباد ، لاہور اور کراچی کے محفوظ اسٹوڈیوز میں بیٹھ کر زمانی بیگم سے لا یعنی انٹرویوزلینا کسقدر فایدہ مند تھا........کسی چودھری یا ملک صاحب
کے لیے اور انکو پر کشش تنخواہیں دینے والے،ریٹنگ کی بدنما دوڑ میں شامل چینلز اور میڈیا ہاوسز کے لیے
Reference :
1) www.cpj.org
2) www.pvndg.org
Monday, October 26, 2015
تین دوست ..... تین کہانیاں
میں نے اپنی تمام عمر دولت حاصل کرنے پر لگا دی جب ایک انبار دولت کا لگا چکا تو جن کے لیے اکھٹا کر رہا تھا وہ
بہت دور جا چکے تھے .... میرے لیے تو سب کچھ ختم ہوگیا
سرفراز اظہر
میں نے اپنی تمام تر جدوجہد اپنی محبت کوحاصل کرنے میں صرف کی مگر مجھے اس سے محبت تھی، اسکو مجھ سے نہیں...... سو آج میں خالی ہاتھ کھڑا ہوں
تنویر انجم
میں نے دولت کمائی مگربانٹ دی ،کچھ محبت پائی کچھ لوگوں پر لٹا دی آج میں مطمین ہوں تھوڑا لے کر چلا تھا ، تھوڑا بچا ہوا ہے ...... اسی کے سہارے زندگی گزار لوں گا
رضوان حیات
Wednesday, October 21, 2015
Saturday, October 3, 2015
Tuesday, September 22, 2015
جناب منیرؔ نیــازی
سدھی جئی گل"
ــ ــ ــ ــ ــ ــ ــ ــ ــ ــ
ــ ــ ــ ــ ــ ــ ــ ــ ــ ــ
مَرنا ای جے تقدیر اَے اَپنی
کیوں فیر اَیس توں نسیئے
کیوں فیر اَیس نوں بُھلن لئی
دُنیا دے جال چ پھسیئے
جھوٹے سچے یار بنا کے
دِل دیاں گلاں دسیئے
کیوں نا گھر وچ کلّیاں بہہ کے
پاگلاں وانگوں ہسیئے
Tuesday, September 15, 2015
YAAR DHADI ISHQ AATISH LAYEE AE
شایدحضور سےکوئی نسبت ہمیں بھی ہو
آنکھوں میں جھانک کرہمیں پہچان جائیے
Friday, August 28, 2015
کبڈی
کبڈی
کبڈی پنجاب کا قومی کھیل ہے. اگرآپ خاتون ہیں اور وہ بھی ذرا نازک ترین حس لطافت کا شکار تو یہ کھیل ٹی وی پر دیکھنا بھی آپکی طبیعت پرگراں گزر سکتا ہے مگر کو شش کریں کہ بات کی تہہ تک پہنچنے کے لیے ہمت ، حوصلہ اور " مردانگی " سے کام لے سکیں .
اس کھیل کے بنیادی اصول تمام پاکستانی ریاست و سیاست پرحا وی ہوچکے ہیں اس لیے بھی کہ صوبہ پنجاب آبادی کے لحاظ سے پاکستان کا سب سے بڑا صوبہ ہے، اتنا بڑا کے اپنی آبادی کو دوسرے صوبوں کے کونے کونے تک پہنچا دیا ہے اور اس لیے بھی کہ ملک کے طاقت ورمقتدرہ حلقوں میں سینٹرل پنجاب کے کبڈی یافتہ افسروں کی بہتات ہے اور اگر وہ اپنے دلپسند کھیل کے بنیادی اصولوں کو اپنے محکموں پرلاگو نہیں کریں گے تو کیا میں کروں گی ؟
کبڈی کے اس حیرت انگیز کھیل پر غور کریں. ایک کھلاڑی دوسرے سے نبرد آزما ہونے کو تیارنہیں بلکہ صرف " چھیڑخانی " کے لیے حریف ٹیم کے غول میں جاتا ہے. مزید یہ کہ اپنے حریف کے کاندھوں، بازوں یا سینے پر نہیں بلکہ جھکاؤ دیتا ہوا اسکی ٹانگوں پر"حملہ آ ور" ہوتا ہے اس طرح کہ ہلکا سا" چھوا " اور اسکے بعد؟ بس دم دبا کر بھاگنے کی سر توڑ کوشیں، یعنی حوصلہ بس اتنا ہی کہ ہاتھ لگا کر بھا گو!!! اب حریف ہے جو آپکو بھاگنے نہ دے مگر اسکی بھی پہلی کو شش آپکی " ٹانگیں کھینچنے " میں ہی ہوتی ہے . دام میں آگیا تو ٹانگیں چھوڑنے کا نام نہیں لیتا اور اگر ہاتھ سے نکل گیا تو اپنی ٹیم تک پہنچ کرایسے تکبراور اکڑا ہٹ کا مظا ہرہ کرتا ہے کہ توبہ !
اب نظر گھوما کر اپنی سیاست ، حکومت ،پارلیمنٹ ، عدلیہ ، میڈیا اور قانون نافذ کرنے والے اداروں بشمول جاسوسی کے آلات خواتین وزیروں، مشیروں تک کے گھروں میں نصب کرنے والی ایجنسیوں کی طرف دیکھیں . " کوڈی ، کوڈی ، کوڈی کرتی ایک دوسرے سے چھیڑخانی میں مصروف ایک ہاتھ لگا یا اور پھر یہ جا وہ جا ! دھر لیۓ جائیں تو شرمندگی مٹانے کو یہ نعرے کہ " بین الاقوامی سازشیں" پیچھا کرتی ہیں اور ٹانگیں کھینچتی ہیں اور اگر دم دبا کر دوڑ لگانے میں کامیاب ہوگیے تو سینے پر ایک اور تمغہ ، کاندھوں پر ایک اور پھول! نہ ذمہ داری کا احساس ، نہ خود احتسابی ، نہ بہادری و جوانمردی نہ ارادے کی پختگی !
ایسا لگتا ہے کہ اس پاکستان نامی گھر کا کوئی بھی ما لک مکان نہیں یا جو مالک تھا وہ بے چارہ سوتیلی اولاد کے ذمے چھوڑ کر اللہ کو پیارا ہوگیا ہے اور سوتیلی اولاد نے بھی ڈھونڈ ڈھونڈ کر ایک سے بڑھ کر ایک کمبخت کرایہ دار رکھا ہے جو نہ کرایہ دیتا ہے نہ مکان چھوڑتا ہے .
ہمارا ماضی یقینن بہت "تابناک " ہے مگر یہ تابناکی دیکھنے اتنی دور کیوں جائیں جب کہ ابھی بھی لاکھوں نہیں کروڑوں آنکھوں کے سامنے " کبڈی " کا عمل جاری و ساری ہے . کچھ کھلاڑی حریف کے غول میں گھسے اسکی ٹانگیں کھینچنے کے عمل کو لمبا کرتے جارہے ہیں چاہے اس عمل میں حریف کی ٹانگوں کی بجاۓ اپنا اور اسکا سر بوٹ والوں کا فٹ بال بن جاۓ مگر " کوڈی ، کوڈی " کی دھن پر بھنگڑے ڈالنا نہیں چھوڑیں گے.
بہادر اتنے ہیں کہ عورتوں اور بچوں کے ترلے منتیں کرتے جاتے ہیں " مجھے چھوڑ کر مت جانا " حالاں کہ یہ تو بہت پہلے فیصلہ ہو چکا ہے کہ " دل توڑ کے مت جیو برسات کا موسم ہے ، مجھے چھوڑ کے مت جیو بر سات کا موسم ہے " !
لطف کی بات اس بار یہ ہے کہ اکھاڑے کے دونوں جا نب ہی کبڈی کے کھلاڑی ہیں وگرنہ اس ملک خداداد میں اکثر ایک طرف کبڈی کے مشاق کھلاڑی اور دوسری طرف" کنچے " کھیلنے والے مار کھانے کی نشانیاں ! یعنی ابھی وہ نشانہ باندھ کر اپنی انگلیاں ہی مروڑ رہے ہوتے ہیں کہ کبڈی کا کہنہ مشق صرف ہاتھ لگا کر نہیں بلکہ " دو چار" لگا کر منہ کے بل گرا کر دوڑ لگا دیتا ہے اور پھر اپنی "رسی " کے پار جاکر عوام سے اپنی " بہادری وجوانمردی " کی داد بھی وصول کرلیتا ہے . مگر وہ کہتے ہیں نا کہ خدا کے یہاں دیر ہے اندھیر نہیں تو جناب اس بار اکھاڑہ سجا اور دنگل کا بگل بجا تو پاکستانی عوام کیا دیکھتے ہیں کہ دونوں طرف ہی " کوڈی کوڈی " کی صدا ئیں ہیں .دونوں ہی فریق " چھیڑخانی " پر تلے ہیں. کبھی ایک" اوے" کی صدا لگاتا ہے تو کبھی دوسرا " جا ا وے " کا آوازہ کستا ہے.
ایک دھاندلی تو دوسرا کرپشن اور تیسرا ان دونوں پر بغاوت کے الزامات لگا رہا ہے. حالانکہ ایک دوسرے کے گریبان نوچنے سے پہلے اگر اپنے سر کو خم دے کر اپنے گریبان میں جھانکیں تو انہیں وہاں دھاندلی کے ساتھ نا انصافی ، کرپشن کے ساتھ منافقت اور بغاوت کے ساتھ مفاد پرستی اور سودے بازی کے پھوڑے پھنسیاں ملیں گے جنہیں اب خالی مرہم کی نہیں سرجری کی بھی ضرورت ہے.
سو اے پیارے پاکستانیوں !! اس بارکبڈی کے میچ کا فیصلہ جلد نہ ہونے کی وجہ بھی یہی ہے کہ دونوں طرف ہے آگ برابر لگی ہوئی .... یہ بھی مخالف پر ہاتھ مار کر یہ جا وہ جا ، وہ بھی مسلسل کوشش میں کہ ٹانگیں کھینچ کر خوار کروں چاہے اس تگ و دو میں جسم پر موجود آخری کپڑا بھی اتر جاۓ .
ہی کہا تھا میری آنکھ دیکھ سکتی ہے ...... کہ مجھ پہ ٹوٹ پڑا سارا شہر. نابینا
فرزانہ مجید بلوچ بول رہیں تھیں ، مسلسل .... انکی آواز میں تلخی گھلتی جار ہی تھی ایسا لگنے لگا کہ میرے آنسوں بھی انکےگلے میں اٹکنے لگے ہیں " ہم پاگل لڑکیاں نہیں ہیں ،ہم ڈرامہ نہیں کر رہے تم ہم سے ڈرامہ کر رہے ہو" میں نے اپنی آنکھیں بند کر لیں میرے آنسوں ،ہچکیوں میں بدل گیۓ! یا خدا ! کیا وقت ھے اس بدقسمت ملک پر ایک بہن جو اپنے بھائی کے لیے در بدر ہے انصاف ڈھونڈ رہی ہے، اسکی اس ملک کی عدالت میں شنوائی ہے نہ حکومت میں پاکستانی میڈیا جو پچھلے تین چار ما ہ سے ان جی دار بلوچوں سے نہ نظریں ملا رہا تھا نہ انکے جائز مطالبات ملک کےطو ل وعرض میں پھیلانے کے لیے تیار تھا ایک دم سے بھوکے بھیڑیوں کی طرح ان تین ہزار کلومیٹر کا سفر کر کے اسلا م آباد کے بیدرد و بے وفا شہر میں پہنچنے والے اپنے پیاروں کے لیے تکلیفیں سہنے والے مظلوم قافلے پر ٹوٹ پڑا
ا یک اینکر نے تو حد کر دی یہ کہہ کر کے آپ کے ساتھ ہزاروں افراد نہیں پھر کس طرح آپکی مظلومیت اور جائز مطالبات کا یقین کیا جاۓ یعنی اب ظلم کے خلاف آواز اٹھانے کے لیے بھی اسی طرح ہزاروں گواہ چاہیے ہونگے جیسے اسلامی نظر یات کونسل کے ایک بودے فیصلے کے مطابق زیادتی کا شکار خاتون چارگواہ اکھٹے کرے تو اس پر ظلم توڑنے والوں کا گریبان پکڑا جاۓ گا.
یہ پڑھے لکهے جاہل جو ہر روز پاکستانی ا سکرینوں پر آٹھ بجے اور دس بجے اپنی اپنی " چھا بڑیاں " لگا کر گرم گرم مال کی صدا لگاتے ہیں اپنی جیبیں بھر تے ہیں چاہیے انکے گرم مال سے اس عوام کا منہ ہی جل جاۓ جو سستی کی ایسی ماری ہےکہ اپنے ارد گرد پھیلے ظلم کو جاننے کے لیےبھی اسکوایک کیمرے اور اینکر کی ضرورت ہوتی ہے
حقیقت حال تو یہ ہے کہ مغربی اکثریتی آبادی کے صوبے کو یہ تک نہ پتہ چلا کہ اس سے بڑی آبادی کا مشرقی صوبہ کب اور کس طرح بے زاری کے ایسے دریا کو پار کرگیا جہاں سے اسکا لوٹ آنا اتنا ہی مشکل تھا جتنا آج فرزانہ مجید بلوچ کے دل میں بھرے شک اور آواز میں بسی شکایت کودور کرنا.
لیکن یہ بات وہ کیا سمجھیں گے جن کے لیے پاکستان کی تاریخ کی پہلی "فوڈاسٹریٹ " قائیم کی گئی جہاں کوئی
شاعر ،ادیب قصہ گو، فلاسفر اور مفکر اپنی ذہانت کے موتی بکھرنے نہیں آتا بلکہ صرف اور صرف کھانا کھانے والے جاتے ہیں جنہوں نے اپنی زندگی کا مقصد ہی ہلاگلا اور کھانا پینا بنا لیا ہو انکی تکا لیف بھی انہی بے معنی چیزوں کے گرد پھرتی ہیں ،انکی زندگی کے مسایل بھی کھانےپینے سے جڑے ہوتے ہیں اسی لیے شہروں میں پھوٹنے والے ہنگاموں کا تعلق نہ کسی ظلم کے خلاف جلوس سے ہوتا ہے نہ کسی ناانصافی کے خلاف توڑ پھوڑ سے بلکہ ادھر "سوئی گیس " غایب ہوئی ادھر ملک بھر کے بھوکے سڑکوں پر موجود اپنے حکمرانوں کو حرام و حلال جانوروں سے تشبیہہ دینے لگتے ہیں.
کاش یہ لوگ جتنا وقت ڈھول ڈھمکوں اور کھانے پینے کی عیاشی میں گزارتے ہیں اتنا اپنے دائیں بائیں ظلم کے خلاف اپنی توانائیا ں خرچ کرنے میں لگاتے تو نہ آج پاکستان کی یہ حالت ہوتی نہ بلوچستان کی اور نہ فرزانہ مجید کی آواز میں دکھ ،تلخی اور شکایت ہوتی
کاش ہمارے کا ندھوں پر رکھے سروں میں دماغ نام کی کوئی چیز ہوتی اور اس سینے میں پتھر کی بجاۓحساس دل ہوتے تو ہم جان سکتے کہ بلوچوں نے کیا سوچا ھوگا جب انکے منتخب وزیر اعلی کو پنجرے میں بند کیا گیا ، کیا کبھی پنجاب کے اپنے آپ کو صبح شام " خادم اعلی" کہنے والے شہباز شریف کو بھی کسی پنجرے میں بند کر کے کورٹ کچہری پیش کیا جاۓ گا؟ کیا آپ ایسا کبھی سوچ بھی سکتے ہیں؟
کیا اگر نواز شریف ،چودھری شجاعت یا پھرشیخ رشید جیسے آخری صفوں کے نام نہاد رہنما کو سرداراکبر خان بگٹی شہید کی طرح پہاڑوں میں چن دیا جاۓ اور انکے تابوت کو تالے ڈال دیۓ جائیں تو محب وطنی کے دعوے دار اس ملک سے کس طرح کا سلوک کریں گے ؟ یہ تو چینی کے چار آنے بڑھنے اور آٹے کے دو روپے زیادہ ہونے پر چیخ و پکار شرو ع کردیتے ہیں اگر یہاں ٨٠٠٠ افراد غایب کردیۓ جائیں اور پھر عدالتیں بازیابی کا حکم دیں تو انہی عدالتوں کا منہ چڑانے کوانکے پیارں کی مسخ شدہ لاشیں ویرانوں میں پھینکی جائیں کیا تب بھی یہ لوگ سب سے پہلے پاکستان کا راگ الاپیں گے ؟ کیا اس وقت یہ اتنے پرامن اور صابر رہیںگے جتنے آج ماما بلوچ اور ان کے ساتھی ہیں ؟ اگر ایسا ھوگا تو انکی وطن پرستی کو ساری بلوچ قوم سلام پیش کرے گی وگرنہ حال تو یہ ہے جو بہادرذاکر مجید بلوچ کی عظیم بہن اور بلوچستان کے حقوق کی جنگ لڑنے والے ہراول دستے کی بلند کردار و باہمت فرزانہ مجید بلوچ نے کہا
"ہم لوگ ڈرامہ نہیں کر رہےآپ لوگ ہمارے ساتھ ڈرامہ کر رہے ہو ،ڈرامہ کر رہے ہو بلوچ ماؤں اور بہنوں کے ساتھ".
مگر اس بار یہ ڈرامہ ریاست کو پہلے سے زیادہ مہنگا پڑے گا کیونکہ یہ 1970ء نہیں بلکہ 2014 ء ہے .
Subscribe to:
Comments (Atom)