بچپن میں ایک کہانی سنی تھی جس میں ایک باپ اور بیٹا اپنے پالتو گدھے کے ساتھ سفر پر نکلے تو راستے میں پڑتے گاؤں کے لوگوں نے باپ ، بیٹے اور گدھے کو گاؤں سے گزرتے دیکھ کر آوازے کسے کہ کیا بیوقوف باپ بیٹا ہیں گدھے پر سواری کی بجاۓ ساتھ چل رہے ہیں ، بیٹے نے لوگوں کے مذاق اڑانے پر باپ سے کہا بابا آپ گدھے پر بیٹھ جائیں میں ساتھ چلتا ہو باپ نے بیٹے کو محبت سے دیکھا اور گدھے پر سوار ہوگیا دوسرا گاؤں راہ میں پڑا تو وہاں کھڑے لوگ نے کہا کیسا سخت دل باپ ہے معصوم بچہ پیدل چل رہا ہے اور باپ عیش سے گدھے پر سوار ہے باپ کو یہ آوازیں سن کر دکھ ہوا اور زبردستی بیٹے کو گدھے پر سوار کروا دیا تیسرا گاؤں راہ میں آیا تو راہ چلتے لوگ کہنے لگے کیسا ناہنجار بیٹا ملا بیچارے باپ کو ، خود گدھے کی سواری کر رہا ہے اور بزرگ باپ پیدل چل رہا ہے یہ سن کر بیٹا شرمندہ ہوگیا اور والد سے بولا بابا یہ اچھا نہیں ہوا گاؤں والوں کی باتیں سننے سے اچھا ہے ہم دونوں ہی گدھے پر سوار ہو جاتے ہیں سو چوتھے گاؤں پہنچنے سے پہلے دونوں ہی گدھے پر سوار ہو گیے تاکہ اگلے گاؤں کے طعنوں سے بچ پائیں مگر لوگ ہوں اور باتیں نہ بنائیں ؟ ممکن نہیں سو اگلے گاؤں کے باہر بیٹھے بیکار گپ باز شور مچانے لگے کہ ہاۓ ہاۓ کیا ظالم باپ بیٹا ہمارے گاؤں سے گزر رہے ہیں ایک کمزور گدھے پر دونوں ہٹے کٹے سواری کر رہے ہیں ، شرم بھی نہیں آتی انکو ...... باپ بیٹا یہ سن کر سخت پریشان ہوۓ فورا گدھے سے اتر گیے مگر اب اگلے گاؤں سے گزرنے کی ہمت نہیں تھی کہ لوگوں کی ملامت پھر سننے کو ملے سو فیصلہ یہی ہوا کہ آخری حل نکالا جائے سو گدھے کو اپنے اوپر سوار کر کے پانچویں گاؤں سے گزر جاتے ہیں لیکن تنقید کے تیر ہر گاؤں میں باپ اور بیٹے کے منتظر تھے . آپ سوچ رہے ہونگے کہ اس کہانی کو دہرانے کا آخر مقصد کیا ہے؟ تو دوستو ! موجودہ زمانے میں سندھ حکومت کے نمایندوں پربے جا تنقید کی زد میں آۓ ان باپ بیٹے کی آزمائش حرف بہ حرف پوری ہوتی ہے یعنی جو کام کریں اعتراض ، جو کام کریں اسمیں کیڑے ، بقول شخصے " آٹا گنددے ہلدی کیوں اے
یہ کوئی مبالغہ نہیں خاص طور پر جب آپ "اسکرین پرنمودار ہونے والےمیک اپ زدہ اینکر نیوں اور سوٹ میں ملبوس سینئر تجزیہ کاروں " کا تجزیہ سنیں اور دن میں تین چیختے چلاتےنیوز بلیٹین ! جس صوبے یا شہر میں پاکستان پیپلزپارٹی نہیں جیتتی وہاں ان بقراطوں کے مطابق " پیپلزپارٹی کی سیاست ختم ہوچکی ، کیونکہ یہاں کام پر ووٹ ملتے ہیں نام پر نہیں " اور جہاں پیپلزپارٹی کو ووٹ ملتے ہیں وہاں " کام " پر نہیں بلکہ وڈیروں ، جاگیرداروں اور عوام کی ا پنی "جہالت " کی وجہ سے ووٹ ملتے ہیں . جہاں سندھ حکومت کی کوتاہی دیکھانی ہو وہاں لوٹ مار کا بازار گرم " ہوگا " کی خبر چلادو اور جہاں محنت اور کام دیکھائی دیتا ہے وہاں " فوٹو سیشن " کا الزام لگا دو یہ پاکستان کی واحد وفاقی پارٹی ہے جو قومی ، صوبائی ، بلدیاتی الیکشنز جیت کر بھی اپنے ہی صوبے میں "غیر مقامی "کا طعنہ سہتی ہے کیونکہ صوبے میں حقیقتا " غیر مقامیوں " کی تعداد تقریبا مقامیوں کے برابر ہے شکریہ بانیان پاکستان . اور یہ بھی ایک بہت بڑی وجہ ہے کہ "آدھا بھرا گلاس "اکثر لوگوں کو آدھا خالی ہی نظر آتا ہے یہ نظر کا دھوکہ نہیں عقل کا فتور ہے
ابھی کچھ روز پہلے اس پارٹی کے چئیرمین کو مجبورا صوبہ سندھ میں اپنی پارٹی کی کارکردگی کے بارے میں دو گھنٹے تک ملکی و غیر ملکی مہمانوں اور صحافیوں کو بریفنگ دینی پڑی ایسا کیوں ہوا اس میں ان میڈیا ہاوسز ، اینکرز کا بہت بڑا ہاتھ ہے جو کبھی "لفافوں "کی وجہ سے تو کبھی اپنے بے تحاشہ تعصب کی وجہ سے اور کبھی "ڈنڈے " کے ڈر سے پیپلزپارٹی حکومت کی مثبت کارکردگی کو صفر اورحکومت کی غلطیوں،کوتاہیوں کو سوا سو ڈگری زیادہ دیکھاتے اور بتاتے رہے ہیں اب "باپ بیٹا " پر ان لفافہ اینکروں کا اعتراض یہ ہے کہ بریفنگ "ایوان صدر " میں کیوں دی ؟ اور اگر اسکا جواب بھی مل جاۓ کہ سفارتکاروں کی سیکیورٹی بہت اہم ہوتی ہے تو پھر سوشل میڈیا پر جمائیاں لیتی مہر بخاری اور حامد میر وائرل کیے جاتے ہیں مطلب کہ کسی حال میں یہ "گاؤں والے " راضی نہیں ہیں اوپر سے تین کروڑ کی آبادی میں بدقسمتی سے کوئی حادثہ پیش آجاۓ توقومی میڈیا والوں کی پانچوں گھی میں اور مخالف سییاسی گروہوں کے سر کڑاہی میں !! وہ ننھے ابراہیم کی ناگہانی موت ہو یا گل پلازہ میں لگی آگ ... ہر چینل نے اشتہاروں کی لائینیں لگائیں ، اینکروں نے سوشل میڈیا پر "کلک " سمیٹے اور سیاسی مخالفین نے اپنی فتح اور حکومت سندھ کی شکست کے دعوے کیے
امر واقعہ یہ ہے کہ پورے پاکستان میں نہ کوئی شہر کوپن ہیگن ہے اور نہ کوئی صوبہ برٹش کولمبیا . ہر صوبہ پسماندہ اور ترقی پزیر شہری ودیہی علاقوں کا مجموعہ ہے ہر صوبے کے عوام معاشی اور معاشرتی مشکلات میں اسی طرح گھرے ہیں جیسے کہ تیسری دنیا کے دوسرے ممالک کے عوام !ہر شہر میں گٹروں پر سے ڈھکن غایب ہوتے ہیں ، ہر محلے میں دو چار پاگل کتے موجود ہیں ، بچے بڑے ان حادثوں کا شکار بھی ہوتے ہیں ، اور یوں قومی طور پر دہشت گردی اور سیاسی رسہ کشی ہمیں اکثر تمام تر مثبت کوششوں کے باوجود ، دوبارہ سے کئی سال پیچھے لے جاتی ہیں .
لاہور ، کراچی ، راولپنڈی ، کویٹہ ، پشاور مالی لحاظ سے چھوٹے شہروں اور دیہی علاقوں کو پرکشش محسوس ہوتے ہیں اور کیونکہ روزگار کی تلاش میں آتے افراد اپنے خاندانوں کے ہمراہ کم ہی ہجرت کرتے ہیں تو ایسے میں یہ شہر ان افراد کے لیے "اجنبی " رہتے ہیں نہ ان کو شہر کی صفائی کا لحاظ ہوتا ہے نہ امن و امان کا ایسے میں کراچی جو پورے پاکستان بلکہ پاکستان سے باہر کے لیے بھی ایک بہتر روزگار اور نسبتا سستی بود باش کی منزل ہے یہاں ایسے لوگوں کی تعداد سیکڑوں یا ہزاروں میں نہیں بلکہ لاکھوں میں ہے اور جہاں لاکھوں لوگ گھر کو سراۓ سمجھ لیں وہاں کا حال " کراۓ کے گھر "جیسا ہی ہوتا ہے اور یہ کوئی انہونی نہیں ! ایسے شہر کے حالات کو ان شہروں سے ملانا جہاں نہ کروڑوں کی آبادی ہے اور نہ ہی کثیر السانی اور متنوع سیاسی نظریات کے حامل گروہ ، یہ سراسر ناانصافی ہے
پاکستان پیپلزپارٹی کے نوجوان چئیرمین نے اپنے صوبے میں بہت سے ترقیاتی منصوبوں کے بارے میں مثبت اعداد و شمار تو دیے مگر صوبے نے جن مشکلات کا سامنا ناگہانی آفات اور دھشتگردی کی صورت میں کیا ان میں وہ بیس سالہ " فوجی حکومتوں" اور ریاست کی آشیر باد سے کی جانے والی " ہڑتالوں " کا ذکر کرنا یا تو بھول گیے یا پھر ماضی کا قصۂ سمجھ کر نظرانداز کر گیے جب کہ یہ وہ عوامل تھے جن کی وجہ سے انکا صوبہ ترقی کا وہ سفر نہ کرسکا جو کہ اس کا حق تھا
جرنیل ضیا کا دور صوبہ سندھ کی معاشی، معاشرتی ، سیاسی اور نظریاتی ترقی کے لیے بدترین دور تھا ان دس برسوں میں سندھ میں نہ کوئی تعلیمی کام ہوا نہ صحت عامہ کی بھلائی کا کوئی کارنامہ کسی بھی سطح پر متعارف کروایا گیا بلکہ سیاسی کارکنان ، طلباء ، مزدور لیڈروں اور تو اور اساتذہ کے لیے بھی یہ وقت ترقی معکوس کا دور رہا .اس دوران پنجاب کے لیے معاشی ترقی کے دروازے کھولے گیے ، یہ درست ہے کہ نظریاتی اور سیاسی طور پر پنجاب کو اسی عرصے میں بانجھ کردیا گیا، جہاں سندھ کے شہروں کواس دوران لسانی سیاست میں الجھا کر "بھتہ خوری ، ٹارگٹ کلنگ اور بوریوں " سے تباہ کیا گیا وہاں پنجاب میں " لفافوں اور بریف کیسز " کی سیاست نےقدم رکھے اور آج بھی ہم کو پنجاب کی زرخیز زمین پر نظریاتی سیاست کرنے والا کوئی سورما نہیں ملتا نہ ہی ایسے جی داروں کو عوام میں پزیرائی ملتی ہے مگر یہ پنجاب کی عمومی اور لاہور کی خصوصی حالت جرنیل ضیا کے دور میں باقی صوبوں سے بہت بہتر رہی سندھ تو خیر ضیا کے ٹارگٹ پر تھا مگر پختونخواہ اور بلوچستان کا بھی کچھ ایسا ہی ملا جلا معاملہ رہا . پختونخواہ کو افغان جنگ میں جھونک کر تباہ کیا گیا اور بلوچستان کے وسایل کی ریاستی سطح پر لوٹ مار جاری رہی ، اپنے ہمنوا سرداروں کو بیچا خریدا گیا جب کہ عوام کے لیے آواز اٹھانے والے لیڈران کو پچھلے ادوار کی طرح اس بار بھی صوبائی اور قومی سطح پر آنے سے ریاستی مشینری کی مدد سے روکا گیا یہ اثرات ابھی تک ان صوبوں کی ترقی میں حایل ہیں
مشرف دور بھی صوبہ سندھ کے لیے نہ صرف معاشی حساب سےنقصان میں رہا بلکہ جرنیل مشرف نے ایک لسانی جماعت کو اپنی چھپر چھاؤں میں جس طرح پھلنے پھولنے کا موقع فراہم کیا اس سے امن و امان قایم کرنے والی پولیس کی کمر ٹوٹ گئی ، تھر میں تاریخ کا بدترین قحط ہو یا سندھ ڈیلٹا میں مینگرو جنگلات کی تباہی یا ٹھٹہ ، بدین سے لاڑکانہ تک بارشوں اور سیلاب کی تباہ کاریاں ،اور ہلاکتیں مشرف کی وفاقی اور متحدہ قومی موومنٹ کی صوبائی حکومتیں تو ان تمام ہلاکتوں اور ناگہا نیوں کو نظر انداز کرتی ہی رہیں مگر آپ اپنے اس "نام نہاد آزاد نیوز میڈیا " کی مجرمانہ خاموشی ملاحظہ فرمائیں جو آج کسی کینٹر ، کسی گٹر اور کسی اسٹریٹ کرائم سے ہوئی ہلاکت پر تو ہیڈ لاینز بھی دیتا ہے اور ہفتے کے آٹھ ٹاک شوز بھی کر گزرتا ہے مگر دوہزارتین اور دو ہزار پانچ کی طوفانی بارشوں ، ، سیلاب کی تباہ کاریوں سے ہوئی سندھ بھر کی ہلاکتوں کا شاید آپ قارین کو پتہ تک نہ ہوگا ہزاروں اسکول ، ڈسپینسریاں ، دفاتر ، کاروبار ان ناگہانی آفات میں صفحہ ہستی سے مٹ گیے نہ حکومتیں مدد کو آئیں نہ بین الاقوامی ادارے کیونکہ صوبے پرجو لسانی جماعت اور نااہل مسلم لیگی ٹولہ قابض تھا اسکو فی الحال پورے صوبے کے بجٹ کو صرف ایک شہر کے کچھ علاقوں کی سڑکوں ، انڈر پاس اور اوورہیڈ برجز پر بہا دینا تھا
ذیل میں ان تباہیوں کے بارے میں خبریں ہیں جو صوبہ سندھ پر وارد ہوئیں. اس دور میں نقصانات کا علم میڈیا کی "سردردی "تھا نہ صوبائی اور وفاقی حکومت کا ! سندھ کے بےبس عوام کسے وکیل کرتے اور کس سے انصاف مانگتے ؟
The 2003 floods in Sindh, Pakistan, were a catastrophic, climate-driven event occurring in late July and August of that year, resulting in widespread devastation, significant loss of life, and massive destruction of property and agriculture. The disaster was characterized as the worst monsoon in the region in nearly a decade. |
| 12 August 2003: Relief Web According to the Emergency Relief Cell of the Sindh Government the recent floods have affected a total of 4,791 persons from 74 villages of 4 districts of the province. The Revenue Department informed that already some 90% of areas with mud houses have submerged. A total of 326 large and 1,500 small villages, 171 primary schools, 43 middle schools, 125 police check posts, and 26 police stations have been inundated in the 17 districts of Sindh.The flood-affected people in Sindh Province have not yet received emergency assistance from Government or NGOs. 5 August 2005 :Relief Web The drought of 1998-2002 was the worst drought to hit Pakistan since its 50 years of existence. The province of Balochistan and Sindh were most badly affected, where 26 districts of Balochistan suffered from severe famine. In Sindh, Tharparkar was the most affected district. Hundreds of thousands of houses were damaged, thousands of acres of crops destroyed and livestock killed. This drought was estimated to have affected about a total of 3.3 million people; hundreds of which died of thirst and starvation and thousands were left homeless. 20 July 2018 https://cscr.pk/ |
ان دو جرنیلوں کے نحس ادوار کے درمیان جو منتخب حکومتیں گزریں ان کا تمام وقت رسہ کشی میں گزرا اور چونکہ سندھ کے معاشی مرکز پر قابض لسانی تنظیم زبان کے نام پر ووٹ لے چکی تھی لحاظہ اسلام آباد میں حکومت کسی کی بھی ہو لیکن کل وقتی بلیک میلنگ ہی اس لسانی پارٹی کا منشور بن گیا تھا. مہینوں تک ہر ہفتے دو دن ہڑتالیں کرنا، سڑکوں پر محنت کشوں کا قتل عام ، لوہے کے گیٹ لگا کر پورے علاقے کو اپنی مرضی سے جب چاہے بند کردیا جاتا .سرکاری زمینوں پر قبضے ، بوریوں میں لاشیں ، سرکاری ملازمین کا دفتروں میں قتل عام.... یوں شہر کراچی کو معاشی ، سیاسی اور معاشرتی بد حالی کے اندھے کوئیں میں دھکیل دیا گیا جس کے اثرات پھر پورے ملک میں ظاہر ہوے
اسمیں کو ئی دو راۓ نہیں ہوسکتی کہ کراچی شہرکی بربادی پورے صوبے کی تباہی بن گئی . ملک کی باری تو بہت بعد میں آتی ہے پہلے تو اس شہر کی بربادی ہوتی ہے جہاں کاروبار تباہ ہوتا ہے ، لوگ بیروزگار ، پبلک ٹرانسپورٹ کو ہر دوسرے دن جلایا جاتا رہا اور تعلیمی ادارے تا حکم ثانی بند رہے اور پھر اس تباہی کے اثرات صوبے کی سطح پر ظاہر ہونا شرو ع ہوجاتے ہیں جہاں مختلف شہروں اور دیہاتوں میں اسکے اپنے شہریوں کی لاشیں وصول ہوتی ہیں اس بےیقینی، خوف اور تقسیم کی سیاست نےصوبہ سندھ کو کم سے کم تیس سال تک اپنی لپیٹ میں لیے رکھا ایسے میں کوئی مخبوط الحواس یوٹیوبر ، لفافہ صحافی ، متعصب سوشل میڈیا ٹرول یا مفاد پرست سیاستدان تو صوبہ سندھ یا اسکی زخمی معاشی رگ کراچی پر انگلیاں اٹھا سکتا ہے کوئی دماغ والا شخص نہیں . قارین ! اگر آپ صوبہ سندھ کے علاوہ کسی دوسرے صوبے یا کراچی کے سوا کسی بھی دوسرے پاکستانی شہر کی یہ تاریخ دیکھ چکے ہیں تو اس شہر اور صوبے کا نام ضرور بتائیں اور یہ بھی کہ وہاں ان مشکلات اور مسایل کے بعد آج کتنی مایہ ناز ترقی ہوچکی ہے ؟
آج جو بہتری بھی سندھ میں نظر آرہی ہے یہ ایک طویل طوفانی رات کے بعد کی رو پہلی صبح ہے جب انسان اپنی ہمت باندھ کر کام شرو ع کرتا ہے اور رات کو گزرنے والی تباہ کن آندھی میں ہونے والی ٹوٹ پھوٹ کا جایزہ لے کر قدم بڑھاتا ہے تو وقت بھی لگتا ہے اور طاقت بھی ، پلاننگ بھی ضروری ہے اور وسایل بھی چاہیے ہوتے ہیں . ابھی کوئی کام بھی مکمل نہیں ہوا، ابھی شروعات ہے. پچھلے تیس سال کی بربادیوں کو پندرہ سال میں کون مکمل درست کرسکتا ہے ؟ یہ سب میرا آنکھوں دیکھا ہے ، آج کی نسل نے تو وہ بھی نہیں دیکھا جو ہم سب دیکھتے رہے ہیں اور پھر ہم سے پہلی نسلوں نے تو سندھ کو ون یونٹ کے خلاف ، مشرقی بنگال کے حق میں، مارشل لا کے خلاف ، اپنی شناخت ، اپنی زبان اور جمہوریت کے لیے طویل جدوجہد کرتے دیکھا تھا جب کہ پاکستان کے پنجاب کی تاریخ میں ایسی کسی جدوجہد کا ذکر نہیں جسمیں عوام نے تیس چالیس برس تک مسلسل معاشی ،سیاسی ،معاشرتی اورتعلیمی زک اٹھائی ہو .... لسانی تنظیموں اور دہشت گردی سے نبرد آزما رہے ہوں ، ون یونٹ سسٹم اورفوجی طالع آزماؤں کے خلاف سر پر کفن باندھے ہوں !! اب ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ حقوق اور جمہوریت کی طویل جدوجہد میں صوبہ سندھ کی قربانیوں اور جدوجہد کے نتیجے میں ہونے والے معاشی اورتعلیمی نقصانات، امن وامان کے دیرینہ مسائل کی اصل وجوہات آئیندہ نسلوں کو قومی میڈیا کے ذریعے بتا کرسندھ اوراسکے عوام کو انکی لامتناہی قربانیوں کا بہترین صلہ دیا جاتا مگر ہوا کیا ؟ ؟ ؟ ان چینلز پر بیٹھے افلاطونوں نے سندھ کو پچھلے چوبیس پچیس سال سے کچے کے ڈاکوؤں، تھرمیں بھوک، کراچی میں گٹروں کے لاپتہ ڈھکنوں اور لاڑکانہ میں کتے کے کاٹے کی ویکسین نہ ہونے پر اس طرح لتاڑتا ہے جیسے باقی پاکستان تو یورپ ، کینڈا یا جاپان بن چکا ہے، جہاں کوئی مسلہ ہے ہی نہیں اور پھر ایسے منفی ماحول میں سوشل میڈیا پر اداروں اور مخالفین کے "سدھاۓ " ٹرولز جلتی پر تیل ڈالنے کا کام کرتے جاتے ہیں. تعصبی مخالفین تو سمجھ آتے ہیں مگر یھاں تو کچھ بے صبرے اور ناشکرے نادان دوست بھی موجود ہیں جو سب کچھ جانتے بوجھتے سندھ کے خلاف سازشیوں اور نفرت پھیلانے والوں کا آلہ کاربن رہے ہیں ان کم عقل لوگوں پر افسوس ہی کیا جاسکتا ہے جو اپنے صوبے پر برا وقت تو خاموشی سے دیکھتے رہے اوراب نسبتا '' بہتر وقتوں میں ماتم کناں ہیں
یا رب وہ نہ سمجھے ہیں نہ سمجھیں گے میری بات ......... دے اور دل انکو جو نہ دے مجھ کو زباں اور
نوٹ : اس بلاگ میں سن دوہزار سات سے صوبہ سندھ اور خاص طور پر کراچی میں برپا ہونے والے مذہبی ، سیاسی اور لسانی دہشتگردی پر تفصیلی بحث نہیں کی گئی اور نہ ہی دو ہزار دس اور دو ہزار بائیس کے اندوہناک سیلاب کا ذکر کیا گیا ہے بوجہ طوالت