Sunday, January 18, 2026

نیت اگر خراب ہوئی ہے حضور کی................گھڑ لو کوئی کہانی ہمارے قصور کی !

بچپن میں ایک کہانی سنی تھی جس میں ایک باپ اور بیٹا اپنے پالتو گدھے کے ساتھ سفر پر نکلے تو راستے میں پڑتے گاؤں کے لوگوں نے باپ ،  بیٹے اور گدھے کو گاؤں سے گزرتے دیکھ کر آوازے کسے کہ کیا بیوقوف باپ بیٹا ہیں گدھے پر سواری کی بجاۓ ساتھ چل رہے ہیں ، بیٹے نے لوگوں کے مذاق اڑانے پر باپ سے کہا بابا آپ گدھے پر بیٹھ جائیں میں ساتھ چلتا ہو باپ نے بیٹے کو محبت سے دیکھا اور گدھے پر سوار ہوگیا دوسرا گاؤں راہ میں پڑا تو وہاں کھڑے لوگ نے کہا کیسا سخت دل باپ ہے معصوم بچہ پیدل چل رہا ہے اور باپ عیش سے گدھے پر سوار ہے باپ کو یہ آوازیں سن کر دکھ ہوا اور زبردستی بیٹے کو گدھے پر سوار کروا دیا تیسرا گاؤں راہ میں آیا تو راہ چلتے لوگ کہنے لگے کیسا ناہنجار بیٹا ملا بیچارے باپ کو ،   خود گدھے کی سواری کر رہا ہے اور بزرگ باپ پیدل چل رہا ہے یہ سن کر بیٹا شرمندہ ہوگیا اور والد سے بولا بابا  یہ اچھا نہیں ہوا گاؤں والوں کی باتیں سننے سے اچھا ہے ہم دونوں ہی گدھے پر سوار ہو جاتے ہیں سو چوتھے گاؤں  پہنچنے سے پہلے دونوں ہی گدھے پر سوار ہو گیے تاکہ اگلے گاؤں کے طعنوں سے بچ پائیں مگر لوگ ہوں اور باتیں نہ بنائیں ؟  ممکن نہیں سو اگلے گاؤں کے باہر بیٹھے بیکار گپ باز شور مچانے لگے کہ ہاۓ ہاۓ کیا ظالم باپ بیٹا ہمارے گاؤں سے گزر رہے ہیں ایک کمزور گدھے پر دونوں ہٹے کٹے سواری کر رہے ہیں ، شرم بھی نہیں آتی انکو ...... باپ بیٹا یہ سن کر سخت پریشان ہوۓ فورا گدھے سے اتر گیے مگر اب اگلے گاؤں سے گزرنے کی ہمت نہیں تھی کہ لوگوں کی ملامت  پھر سننے کو ملے سو فیصلہ یہی ہوا کہ آخری حل نکالا جائے سو گدھے کو اپنے اوپر سوار کر کے پانچویں گاؤں سے گزر جاتے ہیں لیکن تنقید کے تیر ہر گاؤں میں باپ اور بیٹے کے منتظر تھے  . آپ سوچ رہے ہونگے کہ اس کہانی کو دہرانے کا آخر مقصد کیا ہے؟  تو دوستو ! موجودہ زمانے میں سندھ حکومت کے نمایندوں  پربے جا تنقید کی زد میں آۓ ان باپ بیٹے کی آزمائش  حرف بہ حرف پوری ہوتی ہے یعنی جو کام کریں  اعتراض ، جو کام کریں اسمیں کیڑے ،   بقول شخصے " آٹا گنددے ہلدی کیوں اے 

یہ کوئی مبالغہ نہیں خاص طور پر جب آپ "اسکرین پرنمودار ہونے والےمیک اپ زدہ  اینکر نیوں اور  سوٹ میں ملبوس سینئر تجزیہ کاروں " کا تجزیہ سنیں اور دن میں تین  چیختے چلاتےنیوز بلیٹین ! جس صوبے یا شہر میں  پاکستان پیپلزپارٹی نہیں جیتتی وہاں ان  بقراطوں کے مطابق " پیپلزپارٹی کی سیاست  ختم ہوچکی  ، کیونکہ یہاں کام پر ووٹ ملتے ہیں نام پر نہیں  "  اور جہاں پیپلزپارٹی کو ووٹ ملتے ہیں وہاں " کام " پر نہیں  بلکہ وڈیروں ،  جاگیرداروں  اور عوام کی ا پنی "جہالت " کی وجہ سے ووٹ ملتے ہیں . جہاں  سندھ حکومت کی کوتاہی دیکھانی ہو وہاں لوٹ مار کا بازار گرم  " ہوگا " کی خبر چلادو اور جہاں محنت اور کام دیکھائی دیتا ہے وہاں " فوٹو  سیشن " کا الزام لگا دو یہ پاکستان کی واحد وفاقی پارٹی ہے جو قومی ،  صوبائی ، بلدیاتی الیکشنز جیت کر بھی اپنے ہی صوبے میں "غیر مقامی "کا طعنہ سہتی ہے کیونکہ صوبے میں حقیقتا " غیر مقامیوں " کی تعداد تقریبا مقامیوں کے برابر ہے شکریہ بانیان پاکستان . اور یہ بھی ایک بہت بڑی وجہ ہے کہ "آدھا بھرا گلاس "اکثر لوگوں کو آدھا خالی ہی نظر آتا ہے یہ نظر کا دھوکہ نہیں عقل کا فتور ہے  

ابھی کچھ روز پہلے اس پارٹی کے چئیرمین کو مجبورا صوبہ سندھ میں اپنی پارٹی کی کارکردگی کے بارے میں دو گھنٹے تک ملکی و غیر ملکی مہمانوں اور صحافیوں کو بریفنگ دینی پڑی ایسا کیوں ہوا اس میں ان میڈیا ہاوسز ،  اینکرز کا بہت بڑا ہاتھ ہے جو کبھی "لفافوں "کی وجہ سے تو کبھی اپنے بے تحاشہ تعصب کی وجہ سے اور کبھی  "ڈنڈے " کے ڈر سے پیپلزپارٹی حکومت  کی مثبت کارکردگی کو صفر اورحکومت کی  غلطیوں،کوتاہیوں کو سوا سو ڈگری زیادہ دیکھاتے اور بتاتے رہے ہیں اب "باپ بیٹا "  پر ان لفافہ اینکروں کا اعتراض یہ  ہے کہ بریفنگ "ایوان صدر " میں کیوں دی ؟  اور اگر اسکا جواب بھی مل جاۓ کہ سفارتکاروں  کی سیکیورٹی بہت اہم ہوتی ہے تو پھر سوشل میڈیا  پر جمائیاں لیتی مہر بخاری اور حامد میر  وائرل کیے جاتے ہیں مطلب کہ  کسی حال میں یہ "گاؤں والے " راضی نہیں ہیں اوپر سے تین کروڑ کی آبادی میں بدقسمتی سے  کوئی حادثہ  پیش آجاۓ توقومی میڈیا والوں کی پانچوں  گھی میں اور مخالف سییاسی گروہوں کے سر کڑاہی میں !!   وہ ننھے ابراہیم کی ناگہانی موت ہو یا گل پلازہ میں لگی آگ ... ہر چینل نے  اشتہاروں کی لائینیں  لگائیں  ،  اینکروں نے سوشل میڈیا پر "کلک " سمیٹے اور سیاسی مخالفین نے اپنی فتح اور حکومت سندھ کی شکست کے دعوے کیے   

امر واقعہ یہ ہے کہ پورے پاکستان میں نہ کوئی شہر کوپن ہیگن  ہے اور نہ کوئی صوبہ  برٹش کولمبیا . ہر صوبہ پسماندہ اور ترقی پزیر شہری  ودیہی علاقوں کا مجموعہ ہے ہر صوبے کے عوام معاشی اور معاشرتی مشکلات میں اسی طرح گھرے ہیں جیسے کہ تیسری دنیا کے دوسرے ممالک کے عوام !ہر شہر میں گٹروں پر سے ڈھکن غایب ہوتے ہیں ،  ہر محلے میں دو چار پاگل کتے موجود ہیں ، بچے بڑے ان  حادثوں کا شکار بھی ہوتے ہیں ،  اور یوں قومی طور پر  دہشت گردی اور سیاسی رسہ کشی ہمیں اکثر تمام تر مثبت کوششوں کے باوجود ،  دوبارہ سے کئی سال پیچھے لے جاتی ہیں . 

لاہور ،  کراچی ، راولپنڈی ،  کویٹہ ، پشاور مالی لحاظ سے چھوٹے شہروں اور دیہی علاقوں کو پرکشش محسوس ہوتے ہیں اور کیونکہ روزگار کی تلاش میں آتے افراد اپنے خاندانوں کے ہمراہ کم ہی ہجرت کرتے ہیں تو ایسے میں یہ شہر ان افراد کے لیے "اجنبی " رہتے ہیں نہ ان کو شہر کی صفائی کا لحاظ ہوتا ہے نہ امن و امان کا ایسے میں کراچی جو پورے پاکستان بلکہ پاکستان سے باہر کے لیے بھی ایک بہتر روزگار اور نسبتا سستی بود باش کی منزل ہے یہاں ایسے لوگوں کی تعداد سیکڑوں یا ہزاروں میں نہیں بلکہ لاکھوں میں ہے  اور جہاں لاکھوں لوگ گھر کو سراۓ سمجھ لیں وہاں کا حال " کراۓ کے گھر "جیسا ہی ہوتا ہے اور یہ کوئی انہونی نہیں ! ایسے شہر کے حالات  کو ان شہروں سے ملانا جہاں نہ  کروڑوں کی آبادی ہے اور نہ ہی کثیر السانی اور متنوع سیاسی نظریات کے حامل گروہ ،  یہ سراسر ناانصافی ہے  

پاکستان پیپلزپارٹی کے نوجوان چئیرمین نے اپنے صوبے میں بہت سے ترقیاتی منصوبوں کے بارے میں مثبت اعداد و شمار تو دیے مگر صوبے نے جن مشکلات کا سامنا ناگہانی آفات  اور دھشتگردی کی صورت میں کیا ان میں وہ  بیس سالہ  " فوجی حکومتوں" اور ریاست کی آشیر باد سے کی جانے والی " ہڑتالوں " کا ذکر کرنا یا تو بھول گیے یا پھر ماضی کا قصۂ سمجھ کر نظرانداز کر گیے جب کہ یہ وہ عوامل تھے  جن کی وجہ سے انکا صوبہ ترقی کا وہ سفر نہ کرسکا جو کہ اس کا حق تھا 

جرنیل ضیا کا دور صوبہ سندھ  کی معاشی، معاشرتی ،  سیاسی اور نظریاتی  ترقی کے لیے بدترین دور تھا ان دس برسوں میں سندھ میں نہ کوئی تعلیمی کام ہوا نہ صحت عامہ کی بھلائی کا کوئی کارنامہ کسی بھی سطح پر متعارف کروایا گیا بلکہ سیاسی کارکنان ،  طلباء ، مزدور لیڈروں اور تو اور اساتذہ کے لیے بھی یہ وقت  ترقی معکوس کا دور رہا .اس دوران  پنجاب کے لیے معاشی ترقی کے دروازے کھولے گیے ، یہ درست ہے کہ  نظریاتی اور سیاسی طور پر پنجاب کو اسی عرصے میں بانجھ کردیا گیا،  جہاں سندھ  کے شہروں کواس دوران  لسانی سیاست میں الجھا کر "بھتہ خوری ،  ٹارگٹ کلنگ اور بوریوں " سے تباہ کیا گیا وہاں پنجاب میں " لفافوں اور بریف کیسز " کی سیاست نےقدم رکھے اور آج  بھی ہم کو پنجاب کی زرخیز زمین پر نظریاتی سیاست کرنے والا کوئی سورما نہیں ملتا نہ ہی ایسے جی داروں کو عوام میں پزیرائی ملتی ہے مگر یہ پنجاب کی عمومی اور لاہور کی خصوصی حالت جرنیل ضیا کے دور میں باقی صوبوں سے بہت بہتر رہی سندھ تو خیر ضیا کے ٹارگٹ پر تھا مگر پختونخواہ  اور بلوچستان کا بھی کچھ ایسا ہی ملا جلا معاملہ رہا . پختونخواہ کو افغان جنگ میں جھونک کر تباہ کیا گیا اور بلوچستان کے وسایل کی ریاستی سطح پر لوٹ مار جاری رہی ،  اپنے ہمنوا سرداروں کو بیچا خریدا گیا جب کہ عوام کے لیے آواز اٹھانے والے لیڈران کو پچھلے ادوار کی طرح  اس بار بھی صوبائی اور قومی سطح پر آنے سے ریاستی مشینری کی مدد سے روکا گیا یہ  اثرات ابھی تک ان صوبوں کی ترقی میں حایل ہیں

مشرف دور بھی صوبہ سندھ کے لیے نہ صرف معاشی حساب سےنقصان میں رہا بلکہ جرنیل مشرف نے ایک لسانی جماعت کو اپنی چھپر چھاؤں میں جس طرح پھلنے پھولنے کا موقع فراہم کیا اس سے امن و امان قایم کرنے والی پولیس کی کمر ٹوٹ گئی ، تھر میں تاریخ کا بدترین قحط ہو یا سندھ ڈیلٹا  میں مینگرو جنگلات کی تباہی یا ٹھٹہ ، بدین سے لاڑکانہ تک بارشوں اور سیلاب کی تباہ کاریاں ،اور ہلاکتیں  مشرف کی وفاقی اور متحدہ قومی موومنٹ کی صوبائی حکومتیں تو ان تمام ہلاکتوں اور ناگہا نیوں کو نظر انداز کرتی ہی رہیں مگر آپ اپنے اس "نام نہاد آزاد نیوز میڈیا " کی مجرمانہ خاموشی ملاحظہ فرمائیں جو آج کسی کینٹر ،  کسی گٹر اور کسی اسٹریٹ کرائم سے ہوئی ہلاکت پر تو ہیڈ لاینز بھی دیتا ہے اور ہفتے کے آٹھ ٹاک شوز بھی کر گزرتا ہے مگر دوہزارتین اور دو ہزار پانچ  کی طوفانی بارشوں ، ،  سیلاب کی تباہ کاریوں سے ہوئی سندھ بھر کی ہلاکتوں کا شاید آپ قارین کو پتہ تک نہ ہوگا ہزاروں اسکول ،  ڈسپینسریاں ،  دفاتر ،  کاروبار ان ناگہانی آفات میں صفحہ ہستی سے مٹ گیے نہ حکومتیں مدد کو آئیں نہ بین الاقوامی ادارے کیونکہ صوبے پرجو لسانی جماعت اور نااہل مسلم لیگی ٹولہ  قابض تھا  اسکو  فی الحال  پورے صوبے کے بجٹ کو صرف ایک شہر کے کچھ علاقوں کی سڑکوں ،  انڈر پاس اور اوورہیڈ برجز پر بہا دینا تھا

ذیل میں ان تباہیوں کے بارے میں خبریں ہیں  جو صوبہ سندھ پر وارد ہوئیں. اس دور میں نقصانات کا علم میڈیا کی "سردردی "تھا نہ صوبائی اور وفاقی حکومت کا !  سندھ کے بےبس عوام کسے وکیل  کرتے اور کس سے انصاف مانگتے ؟  


The 2003 floods in Sindh, Pakistan, were a catastrophic, climate-driven event occurring in late July and August of that year, resulting in widespread devastation, significant loss of life, and massive destruction of property and agriculture. The disaster was characterized as the worst monsoon in the region in nearly a decade. 
12 August 2003: Relief Web

According to the Emergency Relief Cell of the Sindh Government the recent floods have affected a total of 4,791 persons from 74 villages of 4 districts of the province. The Revenue Department informed that already some 90% of areas with mud houses have submerged. A total of 326 large and 1,500 small villages, 171 primary schools, 43 middle schools, 125 police check posts, and 26 police stations have been inundated in the 17 districts of Sindh.The flood-affected people in Sindh Province have not yet received emergency assistance from Government or NGOs.                                                                                                                                          5 August 2005 :Relief Web

The drought of 1998-2002 was the worst drought to hit Pakistan since its 50 years of existence. The province of Balochistan and Sindh were most badly affected, where 26 districts of Balochistan suffered from severe famine. In Sindh, Tharparkar was the most affected district. Hundreds of thousands of houses were damaged, thousands of acres of crops destroyed and livestock killed. This drought was estimated to have affected about a total of 3.3 million people; hundreds of which died of thirst and starvation and thousands were left homeless.                                                                                                        

                                                                            20 July 2018     https://cscr.pk/

ان دو جرنیلوں کے نحس ادوار کے درمیان جو منتخب حکومتیں گزریں ان کا تمام وقت رسہ کشی میں گزرا اور چونکہ سندھ کے  معاشی مرکز پر قابض لسانی تنظیم زبان کے نام پر ووٹ لے چکی تھی لحاظہ اسلام آباد میں حکومت کسی کی بھی ہو لیکن  کل وقتی بلیک میلنگ ہی اس  لسانی پارٹی کا منشور بن گیا تھا. مہینوں تک  ہر ہفتے  دو دن ہڑتالیں کرنا،  سڑکوں پر محنت کشوں کا قتل عام ،  لوہے کے گیٹ لگا کر پورے علاقے کو اپنی مرضی سے جب چاہے بند کردیا جاتا .سرکاری زمینوں پر قبضے ،  بوریوں میں لاشیں ،  سرکاری ملازمین کا دفتروں میں قتل عام....  یوں  شہر کراچی کو معاشی ،  سیاسی اور معاشرتی بد حالی کے اندھے کوئیں میں دھکیل دیا گیا جس کے اثرات پھر پورے ملک میں  ظاہر ہوے 

اسمیں کو ئی دو راۓ نہیں ہوسکتی کہ کراچی  شہرکی بربادی پورے  صوبے کی تباہی بن گئی . ملک کی باری تو بہت بعد میں آتی ہے پہلے تو اس شہر کی بربادی ہوتی ہے جہاں کاروبار تباہ ہوتا ہے ،  لوگ بیروزگار ،  پبلک ٹرانسپورٹ  کو ہر دوسرے  دن جلایا جاتا رہا  اور تعلیمی ادارے تا حکم ثانی بند رہے اور پھر اس تباہی کے اثرات صوبے کی سطح پر ظاہر ہونا شرو ع ہوجاتے ہیں جہاں  مختلف شہروں اور دیہاتوں  میں اسکے اپنے  شہریوں کی لاشیں وصول ہوتی ہیں اس  بےیقینی،  خوف اور تقسیم کی سیاست نےصوبہ سندھ کو کم سے کم تیس سال تک اپنی لپیٹ میں لیے رکھا ایسے میں کوئی مخبوط الحواس یوٹیوبر ،  لفافہ صحافی ،  متعصب سوشل میڈیا ٹرول یا  مفاد پرست سیاستدان تو صوبہ سندھ یا اسکی زخمی معاشی رگ کراچی پر انگلیاں اٹھا سکتا ہے کوئی دماغ والا شخص نہیں . قارین ! اگر آپ  صوبہ سندھ کے علاوہ کسی دوسرے صوبے یا کراچی کے سوا کسی بھی دوسرے پاکستانی شہر کی  یہ تاریخ دیکھ چکے ہیں  تو اس شہر اور صوبے کا نام ضرور بتائیں اور یہ بھی کہ وہاں ان مشکلات اور مسایل کے بعد آج  کتنی مایہ ناز ترقی ہوچکی ہے ؟  

آج جو بہتری بھی سندھ میں نظر آرہی ہے یہ  ایک طویل  طوفانی رات کے بعد کی رو پہلی صبح ہے جب انسان اپنی ہمت باندھ کر کام شرو ع کرتا ہے اور رات کو گزرنے والی تباہ کن آندھی میں ہونے والی ٹوٹ پھوٹ کا جایزہ لے کر قدم بڑھاتا ہے تو وقت بھی لگتا ہے اور طاقت بھی ،  پلاننگ بھی ضروری ہے اور وسایل بھی چاہیے ہوتے ہیں .  ابھی کوئی کام بھی مکمل نہیں  ہوا،  ابھی شروعات ہے. پچھلے تیس سال کی بربادیوں کو پندرہ سال میں کون مکمل درست کرسکتا ہے ؟  یہ سب میرا آنکھوں دیکھا ہے ،  آج کی نسل نے تو وہ بھی نہیں دیکھا جو ہم سب دیکھتے رہے ہیں اور پھر ہم سے پہلی نسلوں نے تو سندھ کو   ون یونٹ کے خلاف ،  مشرقی بنگال کے حق میں،  مارشل لا کے خلاف ،  اپنی شناخت ،  اپنی زبان  اور جمہوریت کے لیے طویل جدوجہد کرتے دیکھا تھا جب کہ  پاکستان کے  پنجاب کی تاریخ میں ایسی کسی جدوجہد کا ذکر نہیں جسمیں عوام نے تیس چالیس برس تک  مسلسل معاشی ،سیاسی ،معاشرتی اورتعلیمی زک اٹھائی ہو .... لسانی تنظیموں اور دہشت گردی سے نبرد آزما رہے ہوں ،  ون یونٹ سسٹم اورفوجی طالع آزماؤں کے خلاف سر پر کفن باندھے  ہوں !!  اب ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ حقوق اور جمہوریت کی  طویل جدوجہد میں صوبہ  سندھ کی قربانیوں اور جدوجہد کے نتیجے میں ہونے والے  معاشی اورتعلیمی نقصانات،  امن وامان  کے دیرینہ مسائل کی اصل وجوہات  آئیندہ نسلوں کو قومی میڈیا کے ذریعے بتا کرسندھ اوراسکے عوام کو انکی لامتناہی قربانیوں کا بہترین صلہ دیا جاتا مگر ہوا کیا ؟ ؟ ؟   ان چینلز پر بیٹھے افلاطونوں  نے  سندھ  کو پچھلے چوبیس پچیس سال سے کچے کے ڈاکوؤں،  تھرمیں بھوک، کراچی میں گٹروں کے لاپتہ  ڈھکنوں اور لاڑکانہ میں کتے کے کاٹے کی ویکسین نہ ہونے پر اس طرح لتاڑتا ہے جیسے باقی پاکستان تو  یورپ ،  کینڈا یا جاپان  بن چکا ہے،   جہاں کوئی مسلہ ہے ہی نہیں  اور پھر ایسے منفی ماحول میں سوشل میڈیا پر اداروں اور مخالفین کے "سدھاۓ " ٹرولز جلتی پر تیل ڈالنے کا کام کرتے جاتے ہیں. تعصبی مخالفین تو سمجھ آتے ہیں مگر یھاں تو  کچھ  بے صبرے اور ناشکرے  نادان دوست بھی موجود ہیں جو  سب کچھ جانتے بوجھتے سندھ کے خلاف سازشیوں اور نفرت پھیلانے والوں کا آلہ کاربن  رہے ہیں ان کم عقل لوگوں پر افسوس ہی کیا جاسکتا ہے جو اپنے صوبے پر برا وقت تو خاموشی سے دیکھتے رہے اوراب نسبتا '' بہتر  وقتوں میں ماتم کناں ہیں

 یا رب وہ نہ  سمجھے ہیں نہ سمجھیں گے میری بات ......... دے اور دل انکو جو نہ دے مجھ کو زباں اور 

  نوٹ :  اس بلاگ میں سن دوہزار سات سے صوبہ سندھ  اور خاص طور پر کراچی میں برپا  ہونے والے   مذہبی ، سیاسی اور لسانی دہشتگردی پر تفصیلی بحث نہیں کی گئی اور نہ ہی دو ہزار دس اور دو ہزار بائیس کے اندوہناک سیلاب کا ذکر کیا گیا ہے بوجہ طوالت  

Sunday, June 29, 2025

اظہار ہمدردی مگر کب تک ؟

  پہلے وہ سوشلسٹوں کےپیچھے  آ ئے ، میں نہیں بولا کیوں کہ میں سوشلسٹ نہیں تھا،  پھر وہ ٹریڈ یونینسٹ کے  پیچھے آ ئے میں  چپ رہا  کیوں کہ میں ٹریڈ یونینسٹ  نہیں تھا ، پھر وہ یہودیوں کے پیچھے  آ ئے میں جب بھی نہیں بولا کیوں کہ میں یہودی نہیں تھا  اورپھر وہ مجھے لینے آگیے ....لیکن تب تک کوئی نہیں بچا تھا جو میرے لیے کچھ بولتا  ...... جرمن پادری مارٹن نیمولر کی یہ نظم آپ سینکڑوں نہیں ہزاروں بار سن چکے ہونگے ہوسکتا ہے پچھلے کچھ برسوں میں آپ یہ نظم کسی نہ کسی سیاسی ، لسانی ، مذہبی یا سماجی مسلے پر گفتگو کے دوران اپنے اردگرد بیٹھے افراد کو سنا بھی چکے ہوں کیوں کہ یہ نظم ایک آفاقی حقیقت کو بیان کرتی ہے، یہ  ہمیں عمومی حالات میں بہت سے سبق دیتی ہے مگر آج کل پاکستان کے جو سیاسی حالات  ہیں اسمیں  تو یہ بہت سے لوگوں کا قومی  ترانہ بھی بن سکتی ہے  
سن دو ہزاراٹھارہ کے انتخابات کے بعد تحریک انصاف کی حکومت  وجود میں آئی جس کو ریاستی اداروں کی مکمل حمایت حاصل تھی اور شاید پہلی بار پاکستان کے غیراعلانیہ مگر طاقتور ترین "ادارے " یعنی میڈیا کی مکمل آشرباد بھی حاصل تھی کسی کو بھولنے کا مرض ہو تو ہو مگر جن کی یاداشت کچھ کام کرتی ہے وہ اس معاملے میں بلکل واضح ہیں کہ عمران خان اور انکی حکومت کی نالائقی اور نااہلی  کو تقریبا تمام چینلز نے کسی  بھی ٹاک شو  یا  نیوز بلیٹن میں عوام کے سامنے اس انداز سے لانے کی کوشش نہیں کی جیسے کہ پیپلزپارٹی کی حکومت کے ہر روز بخیے ادھیڑے جاتے تھے. نواز لیگ کو یقینن ریاستی اداروں اور میڈیا کی طرف سے اتنی مخالفت کا سامنا نہیں کرنا پڑا جتنا پیپلزپارٹی کو مگر بہرصورت "لاڈلے" جتنی محبت انکے حصے میں بھی  نہیں آئی تھی اپنے دور حکومت میں جوکچھ  تحریک انصاف کے وزیراعظم اور وزراء نے اپنے سیاسی مخالفین ، مخالف راۓ رکھنے والے صحافیوں اورسوشل میڈیا آیکٹیوسٹس کے ساتھ روا رکھا وہ اپنی جگہ مگر عوام کے 
مختلف گروہوں مثلآ کسانوں، مزدوروں، ہیلتھ  ورکرخواتین ،سرکاری ملازمین ،خواجہ سراؤں اور سیاسی کارکنوں کے ساتھ جو بدسلوکی اور ناانصافی روا رکھی تھی وہ ہماری یاداشت میں محفوظ ہے
اگر آپ یہ بلاگ پڑھ رہے ہیں تو یقینن آپ ان سیاسی حالات سے بھی واقف ہونگے جو اس وقت ملک خدا داد کے طول و عرض میں پھیلے ہیں اور سوشل میڈیا اور الیکٹرانک میڈیا پر نان سٹاپ ہوتی اس بحث کے بارے میں بھی بہت اچھی طرح جانتے ہونگے جس میں تحریک انصاف کے حالیہ اسٹیبلشمنٹ کے ہاتھوں معتوب رہنما اور انکے سرکردہ سوشل میڈیا ایکٹیوسٹ مسلسل ایک بیانیہ بنا رہے ہیں کہ "ایسا ریاستی ظلم و ستم تو پاکستان کی تاریخ میں کبھی نہ ہوا جو کچھ ہمارے ساتھ ہورہا ہے " ہوسکتا ہے آپ بحث کا حصہ ہوں  اگر پاکستان کی سیاسی تاریخ کا علم رکھتے ہیں تو اس بیانیے کے خلاف آپ کے پاس ہزاروں دلائل ہونگے اور اگر اس بیانیے کی حمایت کرتے ہیں تو آپ کو مطا لعہ وسیع کرنے کا مشورہ دیتی ہوں مگر ان دونوں انتہاؤں کے درمیان بہت سے ایسے لوگ بھی ہیں جن کو تاریخ میں سیاسی پارٹیوں پر ناحق ظلم و ستم ہونے کا علم بھی ہے اور تحریک انصاف کے چئیرمین کی طرف سے اکسانے والے بیانات کی خبر بھی مگر انکو ہلڑ بازوں اور انکی سرکردگی کرنے والی خواتین و حضرات سے  انسانی ہمدردی بھی محسوس ہورہی ہے وہ سمجھتے ہیں کہ یہ جبر ریاست کا پرانا ہتیار ہے جو وہ بد ل بدل کر مخصوص حالات میں اپنی طاقت اور قبضے کو قائم رکھنے کے لیے استعمال کرتی ہے  
ایسے لوگ درست سمجھ رہے ہیں جی ہاں بلکل ایسا ہی ہے کہ ریاست قانون کی دھجیاں اڑاتی رہی ہے کبھی اس کے نشانے پر بنگال کے سیاسی باشعور عوام تھے تو کبھی حقوق کی جدوجہد کرتے بلوچ  اور کبھی جمہوریت کی شمع کو اپنے خون سے جلاتے سندھ کے جمہوریت پسند عوام .  تاریخی ظلم و ستم سے سیاسی پارٹیاں بھی نبرد آزما رہی ہیں اور یہ کوئی دوسو سال پرانی بات نہیں کہ صرف کتابوں میں ملے بلکہ آج بھی وہ کارکنان اور رہنما حیات ہیں جن کی پیٹھ پر کوڑے برسے اور جن کے پیارے جمہوریت اور حقوق کی جدوجہد میں سولیوں پر جھول گیے 
اب مسلہ یہ ہے کہ تحریک انصاف کے جن " مظلومین " سے ہم سب اظہار ہمدردی کرنا چاہ رہے ہیں وہ اپنے دور حکمرانی کے بدصورت رویۓ پر بلکل بھی شرمندہ نہیں اور نہ ہی انکو  آج بھی احساس ہے کہ  ریاستی جبر کے سامنے عوامی اتحاد ہی ٹھر سکتا ہے اور عوامی اتحاد  کبھی بھی سیاسی نفرتوں ،  لسانی تقسیم اور الزامات کی سیاست کو پروان چڑھانے سے حاصل نہیں ہوتا 
سیاسی شعور تقاضہ کرتا ہے کہ جس شاخ  پر آپ نے اپنا آشیانہ بنانا ہے اس پر کلہاڑی مت  چلائیں کہ ایسا کرنا  سیاسی جہالت ہے. اپنی مخالف سیاسی پارٹیوں کی حمایت  پر عوام کو گالی گلوچ دینا ، انکے پسندیدہ رہنماؤں پر الزا مات کی بوچھاڑ کرنا، ہرالیکشن میں اپنی شکست کو "دھاندلی" اور دوسرے کی شکست کو "عوام کا فیصلہ " قرار دینا ،  اپنے لیڈر کی بیماری کو حقیقی اور مخالفین کی بیماری کو "ڈرامہ " کہنا ، حریف جماعتو ں کے رہنماؤں کی موت کی تمنا کرنا، اپنی سیاسی جدوجہد کو تاریخی اور دوسروں کی تاریخ پر ٹھٹھے بازی کرنا   ...سو مختصر یہ  کہ ایسا چھوٹا پن آپکو تاریخی طور پر تنہا کر رہا ہے 
آج اگرعوام  و خواص کا کوئی حصہ تحریک انصاف کے رہنماؤں ،کارکنوں یا سپورٹرز کے ساتھ دلی ہمدردی بھی رکھتا ہے تو ایسے افسوسناک رویے میں مستقل مزاجی اس پارٹی کو جلد ایسی نہج پر لے آ ئے گی کہ......"  اورپھر وہ  مجھے لینے آگیے ....لیکن تب تک کوئی نہیں بچا تھا جو میرے لیے کچھ بولتا " صد افسوس    

Friday, April 18, 2025

کامیاب سیاستدان کون ؟ ذوالفقار علی بھٹو یا آصف علی زرداری

پاکستان کی سیاسی تاریخ میں چند ہی  نام ایسے ہیں جنکو وقت کی گرد دھندلا نہ سکی ان میں سر فہرست ذوالفقار علی بھٹو کا نام ہے انکی پیدایش کو نو دہائیوں سے زیادہ عر صہ  گزر چکا اور ان کے عدالتی قتل کو چالیس سال  سے زیادہ مدت ہوچکی  مگر آج بھی  سیاست ، ریاست، اقتدار اوراختیار کے میدانوں میں بھٹو کا نام گونجتا ہے . دوست ہو یا دشمن ، عوام کے درمیان دھواں دار خطاب کرتا سیاسی حریف ہو یا پارلیمان میں نپے تلے الفاظ بولنے والا حکومتی ممبر کہیں نہ کہیں ، کبھی نہ کبھی بھٹو کا تذکرہ ضرور آتا ہے ، میڈیا پر بیٹھے گھا گ صحافی ہوں یا یوٹیوب کے کلکس پر انحصار کرتے نئی نسل کے نوجوان یہ ہو نہیں سکتا کہ ذوالفقار علی بھٹو کے تذکرے کے بغیر کسی بھی  سیاسی موضوع کو زیر بحث لائیں

مگر ایک تلخ حقیقت پر روشنی ڈالنا سب بھول جاتے ہیں کہ   ٹوٹے پھوٹے  پاکستان کے پہلے منتخب وزیراعظم، کامیاب لیڈر تو تھے مگر  وہ پاکستان کے زمینی حقایق، مفاد پرست ٹولوں ، بے حس اداروں اور خودغرض عوامی جتھوں  کی سمجھ بوجھ  رکھنے والے کامیاب سیاستدان نہیں تھے . شکست خوردہ قوم کے بدن میں ولولہ و عزم کی روح پھونکنے والا  لیڈراگر صرف چھ سال کی مختصر مدت میں کال کوٹھری تک پہنچ گیا تو سوچیں کہ اس نے کیسی سیاست کی ہوگی ؟ ؟  ظاہر ہے اسکی سیاست ناکام رہی ہوگی  اس لیے نہیں کہ وہ شخص ذہین ومدبر سیاستدان نہ تھا کیونکہ وقت نے ثابت کیا کہ  بھٹو صاحب اگر دنیا کے کسی اور ملک میں سیاستدان ہوتے تو اپنی عوامی سیاست کے کامیاب ترین  کھلاڑی ہوتے،  مگرپاکستان کی سیاست میں وہ لیڈر ہوتے ہوۓ بھی ، اناڑی ثابت ہوے اگر ہم یہ  کہیں کہ ان سے کہیں بہترانکے داماد نے پاکستانی سیاست کو سمجھا اور کامیاب سیاستدان ثابت ہورہے ہیں تو یہ مبلغہ آرائی نہ ہوگی 

 پاکستان کی تاریخ میں پہلا منتخب صدر جس نے نہ صرف اپنی جمہوری مدت پوری کی بلکہ دوسری بارمنتخب صدر ہونے کا نایاب ترین اعزاز بھی حاصل کیا ہے جب کہ گیارہ بارہ سال کی پس زنداں ریاضت میں بھی کامیاب رہا ، سیاسی مخالفین کو ناقابل یقین حد تک اپنا گرویدہ بنالینا ایک سیاستدان کی کامیابی نہیں تو کیا ہے ؟ ؟  قارئین کواعتراض ہوسکتا ہے کہ  زرداری صاحب "لیڈر " نہیں ! جی بلکل درست بات ہے ایسا ہی ہے  نہ وہ لیڈر ہیں نہ  کبھی موصوف نے قوم کی رہنمائی کا دعوی کیا ہے ہم نے بہت ہی کم کم صدرکوعوام میں گھلتے ملتے دیکھا ، کوئی تحریک، کوئی دھرنہ  یا احتجاج ؟ نہیں ! اور ہر سیاستدان کے لیے ضروری بھی نہیں .ہمارے سامنے قائداعظم کی مثال موجود ہے بلکہ قاید تو زرداری صاحب سے ایک قدم آگے نکل گیے تھے کہ کبھی جیل کا منہ بھی   نہ دیکھا تھا کم ازکم زرداری صاحب نے جیل میں  تشدد کا سامنا کر کے "لیڈروں "والی  کوئی صفت  تواپنائی ، آپ کہیں گے پاکستان کی سیاسی تاریخ میں کم ہی کوئی اسٹیبلشمنٹ ، پریس،  الیکٹرونک میڈیا اور سیاسی مخالفین کے ہاتھوں اتنا  بدنام ہوا ہے ،  جی ہاں ! حقیقت یہی ہے کہ "  بدنام اگر ہوں گے تو کیا نام نہ ہو گا " سو  دو بار منتخب ہونے والے اسلامی جمہوریہ پاکستان کے صدر کی سیاسی کامیابی بھی یہی ہے کہ جو اسٹیبلشمنٹ اپنی  زرخرید  پریس اور کالم نویسوں  کے ذریعے جناب کو" مسٹر دس فیصد "، "پلے بواے " اور "دنیا کا کرپٹ ترین انسان "قرار دلوا چکی ، اپنی ایجنسیوں اور اداروں کی مدد سےبغیر ثبوتوں کے کبھی  کسی جج ،  کسی سیاسی حریف ، کسی بزنس مین،  کسی رشتےدار تک کے قتل میں ملوث کرنے کی کامیاب سازشیں  بھی کرچکی وہ  آخر کار آصف علی زرداری کی کامیاب سیاست کا شکار ہوکر ان کو صدر بننے سے روک نہ سکی  اور وہ بھی ایک بارنہیں دودو بار 

سو قارئین محترم ! اس  فیصلے کا بال اب آپکی کورٹ میں ہے کہ کیا ایک بدترین شکست سے دوچار ، برباد معیشت والی سرزمین بے آئین کو چھ سال میں اپنے پیروں پر کھڑا کرنے والا لیڈر جو ایک عدد جھوٹی ایف آئی آر کا شکار ہوکر پھانسی پاگیا کامیاب سیاستدان تھا؟  یا عوامی حلقوں میں دانستہ بدنام کیا گیا کمزور ڈومیسائل کا حامل شخص جو بار بار اپنی کامیاب سیاست سے پاکستانی اسٹیبلشمنٹ اور سیاسی مخالفین  کو مجبورکردیتا ہے کہ وہ اسکے در پر اپنا اپنا کشکول لیکر پہنچ جائیں اور ملک کی  ڈولتی کشتی کو کچھ عرصے کے لیے مزید سہارا مل جائے . کاش کہ آج پاکستان کے مقبول ترین لیڈر ذوالفقار علی بھٹو حیات ہوتے تو ہم ان کی بے پناہ ذھانت کا فایدہ اٹھاتے ہوۓ ان سے ضرور دریافت کرتے کہ آپکا جناب آصف علی زرداری کی کامیاب ترین  سیاست کے بارے میں کیا خیال ہے؟  

Wednesday, April 9, 2025

موت کا ایک دن معین ہے .....

 بزرگوں نے فرمایا تھا  " دشمن مرے تے خوشی نہ کرئیے سجناں وی مر جانا " یہ حقیقت عام گناہگار،  خطاکار  انسانوں پر ہی پوری نہیں ہوتی بلکہ انبیاء اور اولیاء بھی موت سے فرار حاصل نہ کرسکے اور اسکو رب جلیل سے ملاقات کا ذریعہ قرار دیا گیا 
 مسلمان معاشرے میں تو یوں بھی ایک جمله زبان زد عام ہے کہ " موت برحق ہے " لیکن بہت ہی افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ جیسے جیسے پاکستانی معاشرے میں روایات اور اخلاقیات زوال پزیر ہیں اسی طرح دین اسلام کی بنیادی تعلیمات بھی تیزی سے مفقود ہوتی جارہی ہیں جس میں سے ایک موت کی حقیقت کا اقرار ہے بلکہ یوں کہنا چاہیے کہ اپنے اور اپنے پیاروں کے لیے موت کا انکار لیکن اپنے مخالفین کی موت کے لیے "خس کم جہاں پاک" کے  مقولے کی تکرار!
 ایک مسلمان کا ایمان ہے کہ  کس کی موت کہاں اور کس حال میں آنی ہے اسکا علم صرف اللہ تعالی کو ہوتا ہے . اچھے زمانوں میں سختی سے اس بات پر توجہ دلائی جاتی تھی کہ موت کی وجوہات اور حالات پر تمسخر نہ کرو کیونکہ اسکا اللہ کے راضی ہونے یا اسکی ناراضگی سے کوئی تعلق نہیں بلکہ اللہ کے بہت ہی پیارے بندے بڑی بےسروسامانی اور کسمپرسی میں اسکو پیارے ہو گیے کسی کی میت دشمنوں نے روند دی تو کسی کا کلیجہ چبایا گیا کسی کا جنازہ اور تدفین بھی ہفتوں بعد ہوئی تو کسی اللہ والے کو کفر کے فتوی لگا کر پتھروں میں دفن کردیا گیا سو کون جانے کسی کی موت کیونکر ایسے ہوئی اور میت کیوں کسی راہ چلتے مسافر نےزمین کھود کر دفنا دی ہاں ایک ایسا جواز ہے جو  بتاتا ہے کہ مرنے والا رب کو کتنا عزیز تھا ،  اسکی موت رائیگاں نہ تھی اور وہ ہے اس جانے والے کا نام ، اسکے نظریات ، اسکی پیچھے رہ جانے والی نیک نامی 
ویسے تو ہمارے پاکستانی معاشرے میں اپنے دشمن کو موت کی بد دعا دینا کچھ نیا نہیں لیکن یہ عادت عموما ناخواندہ یا  دیہی علاقوں کے لوگ  یا پھرمالی طور پرکافی  کمزور افراد  میں پا ئی جاتی تھی آجکل سوشل میڈیا کا دور ہے جس میں لوگوں   کی اکثریت اپنے چہروں اور نام سے نہیں جانی جاتی اور" نامعلوم  صارف" اپنی اصلیت پر بآسانی اتر سکتا ،  سو ایسے میں ہم دیکھتے ہیں کہ  فقہی،  مذہبی ، نسلی یا جانی دشمنی تو چھوڑیں سیاسی اختلافات جو کہ ہماری روزمرہ زندگیوں میں سطحی اہمیت  رکھتے ہیں ، وہ بھی ان نامعلوم اور بعض اوقات  معلوم سوشل میڈیا صارفین کو پاکستان کے کسی چھوٹے سے گاؤں کی ناخواندہ ، غربت کی ماری،   پریشان حال ایسی کمزورعورتیں بنا دیتے ہیں جو ہر آتے جاتے کو کوسنے ، گالیاں، ملامتیں اور موت کی بد دعا ئیں دیکر اپنی ناآسودہ زندگی کا بدلہ لیتی ہیں 
سوشل میڈیا پر موجود یہ صارف اپنے ناموں یا پروفائل پکچرز سے موجود ہوں یا نہیں مگر یہ ثابت شدہ ہے کہ تمام ایسے افراد سو فیصد پڑھے لکھے ہیں تبھی سیاسی اختلاف پر مخالف لیڈرشپ کی بیماری کا مذاق اردو اور انگلش میں لکھ کر اڑاتے ہیں ،  کھاتے پیتے گھرانوں سے تعلق ہے تبھی صبح سے شام تک ایکس ،  فیس بک اور یوٹیوب  موجود رہتے ہیں نہ کہ محنت مزدوری سے اپنے بچوں کا پیٹ پال رہے ہوں ، یہ نسبتا ''آسودہ زندگیاں گزارنے والے جگت باز سوشل میڈیا کے  ذریعے سیاسی مخالف دھڑے  کے لیڈرکو موت کی بد دعا دیتے ہیں ، وہ ہسپتال میں ہو تو خوشی کا اظہار کرتے ہیں اور اسکے مرنے کی خواہش ظاہر کرتے ہیں یہ افراد کسی گاؤں میں نہیں بلکہ بڑے بڑے شہروں میں یا بیرون ملک رہتے ہیں ، شوپنگ مالوں سے خرید و فروخت کرتے ہیں ،  فوڈ چین سے آرڈرز پر پیزا منگواتے ہیں مگر کسی سیاستدان کی موت کی خواہش پر ٹوک دو تو کہتے ہیں " کیوں نہ کریں بد دعا ؟   یہ تو کرپٹ ہے ، ہمیں غربت میں دھکیلا ہے،  ہمارا خون چوسا ہے" آپ ایسے میں کیا جواب دیں ؟ ؟  آنا للہ کہہ کر خاموش ہونا بنتا ہے
پچھلے دس ایک سال سے یہ زہنی بیماری اتنی بڑھ چکی ہے کہ اصلاح کی کوئی ترکیب کامیاب ہوتی نظر نہیں آرہی .ایک سیاسی جماعت نے اس بد اخلاقی کو اتنا پروان چڑھا دیا ہے کہ اب انکے بیرون ممالک میں رہتے ہم آواز،ہم خیال افراد ویڈیوپیغامات کے ذریعے اپنی سیاسی نفرتوں کو دنیا کے تمام کونو ں میں پھیلا رہے ہیں اور ایسا کرتے انکو یہ خیال نہیں آتا کہ انکے ناپسندیدہ سیاسی لیڈرکی وفات تو اللہ کے حکم پر ہی ہوگی مگر سوشل میڈیا پر ایسے انسانیت سے گرے  پیغامات ملکی اقدار اور اسلامی روایات کے منہ پرایسا تمانچہ ہیں جسکی آواز دنیا بھر میں سنائی دے رہی ہے
 افسوس  کہ سیاسی اختلافات پر کسی کی موت کی تمنا کرنے والے یہ  ڈگری ہولڈرز نہیں جانتے کہ موت سزا نہیں ہوتی ورنہ انبیاء ، اولیاء ،  صوفی بزرگ کبھی وفات نہ پاتے ، نہ ہی موت سے کسی کو مفر ہے ورنہ کیا آپ اپنے سب  پیارے ماں باپ ،  اولاد اور سچے  دوستوں کو بچا نہ لیں ؟ موت توزندگی کی کتاب کا آخری باب ہے ، جس کو بھی زندگی ملی اسکو مرنا ہے سو احمق ہے ہر وہ شخص جو کسی کی موت پر خوش ہو یا کسی مخالف کی موت کی خواہش کرے کیونکہ موت آپکے ان پیاروں کو بھی آجاتی ہے جن کی عمر خضر کی آپ رو رو کر اللہ کریم سے دعا ئیں مانگتے ہیں
 کسی کی موت آپکی بد دعا سے ہوئی تھی یا نہیں اس بات کی  ہرگز کوئی اہمیت نہیں  ہاں مرنے والے نے  کیسی زندگی گزاری  تھی ،  وہ کونسے کام تھے جو مرنے والا کر گیا،  وہ کیسی اولاد ہے جو جانے والا چھوڑ گیا اور کونسا علم ہے جو پیچھے رہ 
جانے والوں کے کام آ تا رہے گا یہ سب معاملات بنیادی اہمیت کے حامل ہیں
حقیقت حال یہ ہے کہ" موت کا ایک دن معین ہے" جو آپکےھردلعزیز سیاسی رہنما کے گھر بھی ضرورآ ئے گی اورآپکی  نفرتوں اور بد دعاؤں کے تختہ مشق بنے مخالف سیاسی پارٹی کے رہنما کو بھی اللہ کے حضور حاضر ہونا ہی پڑے گا
 سو آج زندگی کے جس اختتام کو سوشل میڈیائی مخلوق "خدا کی لاٹھی " سے تشبیہ دےرہی ہے یاد رہے کہ یہ "لاٹھی " خدا   کے پیاروں اور اسکے دشمنوں پر یکساں وار کرتی ہے اس لیے اپنی بے دماغ کھوپڑی کو تکلیف نہ دیں اور فضول تشبیہات سے گریز کریں
مجھے نہیں معلوم کہ قارئین پر میری یہ تحریر کوئی اثر ڈال پا ئے گی یا نہیں لیکن مجھ پران تمام سیاسی جگت بازوں کی گھٹیا  ذہنیت کا بہت تکلیف دہ اثر ہوا ہے،   جو اپنے سیاسی رہنما کو "مرشد " کہتے نہیں تھکتے مگرصد افسوس  کہ یہ مرشد انکو دین اسلام کی بنیادی تعلیمات اور اس خطۂ پاک کی اعلی اقدار کا ہلکا سا نمونہ بھی نہ دیکھا سکا
کیا ان گری ہوئی حرکتوں کے ساتھ  "ریاست مدینہ " کا خواب شرمندہ تعبیر ہوسکتا تھا  ؟  

Monday, April 7, 2025

.......جالا بُنا گیا تھا پتا ہی نہیں چلا ......

انسانی تاریخ میں ہونے والی ہر ایجاد نے ثابت کیا کہ اس کے اچھے اور برے اثرات استعمال کرنے والوں پر مرتب ہوۓ .  پاکستان میں متعارف ہونے والےالیکٹرانک نیوز میڈیا کابھی یہی حال ہے کہ وقت نے اسکے بہت سے فوائد کے ساتھ ساتھ بے انتہا نقصانات پر سے بھی پردہ ہٹایا 
 الیکٹرانک  نیوز میڈیا کا قیام اس دور کی  آرمی اسٹیبلشمنٹ کی ضرورت تھی جسکا مقصد یقینن عوام کو باخبر رکھنا نہیں تھا ، کیونکہ آمریت کتنی بھی خوشگوار محسوس کیوں  نہ ہو حقیقت میں وہ  ایسا خواب ہے جسکی تعبیر ہر حال میں خوفناک نکلتی ہے سو نیوز میڈیا کا معاملہ بھی کچھ ایسا ہی رہا 
  پاکستان کا اسٹیٹ چینل  حکومتی خبریں دیکھاتا تھا اپوزیشن کو یکسر نظر انداز کیا جاتا تھا اسی لیے جب نجی چینلز پر اختلاف راۓ کو کچھ جگہ ملی تو  نجی چینلز دیکھنے والی عوام جو زیادہ تر ملک کے شہروں اور بیرون ملک قیام پزیر ہے کو یہ خوشفہمی ہو گئی کہ یہ نجی چینلز جو حقیقت میں اسٹیبلشمنٹ کی چھپر چھاؤں میں بنے تھے ، شاید آزاد ہوچکے ہیں اور انپر غیر جانبدارانہ ٹاک شوز اور بے لاگ خبریں دی جارہی ہیں مگر حقیقت کچھ اور ہی رہی 
یہ راز  کھلا بھی جمہوری ادوار میں کہ نہ تو یہ چینلز "آزاد "ہیں اور نہ ان میں کام کرنے والے صحافی ، تجزیہ کار ، نیوز ایڈیٹرز وغیرہ غیر جانبدار اور پروفیشنلز ہیں ایک مخصوص  ایجنڈے پر عمل درآمد کیا جاتا ہے اور ریٹنگ کا بہانہ بنا کر خاص علاقوں کو ٹارگٹ کیا جاتا ہے اور کچھ کو اسی ایجنڈا کی وجہ سے نظر انداز کیا جاتا ہے 
اس بارے میں انگنت تحریریں لکھی جاچکیں ہیں کہ کس طرح پاکستان کی عوام کو باخبر رکھنے کا زریعہ بننے والا میڈیا کم از کم ایک پوری نسل کو یقینی طور پر گمراہ کرچکا ہے  یہ نسل نہ پاکستان کی سیاسی تاریخ جانتی ہے نہ آئین و قانون کے بارے میں اسکو کچھ اتہ پتہ ہے نہ ہی بین الاقوامی سیاسی حالات کے بارے میں انکا 
مطا لعہ ہے نہ معلومات . بس کسی چینل سے آدھی خبر اٹھائی ، کسی دوسرے چینل سے آدھی تصویر دونوں کو
جوڑا اور  سوشل میڈیا پر اپنی گالم گلوچ برگیڈ کے ذریعے پھیلا دیا 
ایسوں سے آپ معلومات ، حقایق ، دلائل پر کوئی بات کر ہی نہیں سکتے مگر سب سے بڑا افسوسناک پہلو اسمیں میڈیا کا غیر ذمہ دارانہ کردار ہے جس پر آج بھی کچھ  نامور صحافی موجود ہیں جنکو  اس معلومات کی سونامی میں ڈوبتی ابھرتی نسل کی سیاسی تربیت کرنی چاہیے تھی . سیاستدانوں پر یہ ذمہ داری ڈالنی پاکستان جیسے ملک میں تقریبا '' ناممکن ہے کیوں کہ ایک طرف اسٹیبلشمنٹ اور عدلیہ سیاستدانوں کے خلاف جھوٹ پر مبنی   ایک مکمل مہم ستر  پچھتر سال سے چلا رہے ہیں دوسری طرف سیاستدانوں میں چھوٹے چھوٹے اختلافات کو لیکر جنگ تک کا ماحول بن جاتا ہے حقیقت یہ بھی ہے کہ ایسی جنگ کو جو سمجھدار سیاستدان "مفاہمت " کے سفید جھنڈے سے پرامن ماحول میں تبدیل کرنا چاہتے ہیں انکی اس کوشش کو " مک مکاؤ " جیسے الفاظ اور اپنے بھانڈ پن کے ذریعے یہی نیوز میڈیا بدنام کرتا ہے اور کوشش کرتا ہے کہ جلتی پر تیل ڈالا جاۓ تاکہ اس بھڑکتی آگ کو بیچ کر اپنے بال بچوں کا صرف پیٹ ہی نہ بھرا جاۓ بلکہ انکو بیرون ملک تعلیم اور روزگار کے لیے سیٹل کروا دیا جاۓ 
آپ کے مشاہدے میں بھی آیا ہوگا کہ بہت سے نامور صحافی برسوں تک "صحافت " کرتے کرتے ایک دم سے اسٹیبلشمنٹ کی جمہوریت کش دکان پر بیٹھے دوکاندار کیسے بن گیے ؟ اللہ کا فرمان ہے کہ "تمھا رے مال اور  اولاد میں تمھارے لیے فتنہ ہے " اور یہ حقیقت کھل کر آپ کے سامنے پچھلے دس بارہ برسوں سےآگئی ہے جب کہ یہ کوئی نئی بات نہیں ہے بہت سے قلم کار اس نیوز میڈیا کی بے راہروی سے پہلے بھی انہی راستوں پر چلے اور اولاد  کی" ترقی " کے بدلے قلم بیچ  دیا 
ناخواندگی نے تو  قلم بیچ قبیلے سے عوام کے ایک بڑے حصے کو بچا رکھا تھا،  سیاست و نظریات پر وہ اپنے دماغ کو استعمال کر کے فیصلے کرتے تھے مگر اسکرینوں پر بیٹھے نام نہاد دانشوروں نے تو  خواندہ افراد کو بھی سیاسی بانجھ پن کا شکار کردیا ہے  ایک ڈگری یافتہ نسل مستقل میڈیا کے گورکھ دھندے میں الجھ کر پختہ عمر کو پہنچ چکی ہے اور ناخواندہ افراد کی بھی ایک بڑی تعداد ہے جو دکانوں، ہوٹلوں حتی کہ کچی بستیوں میں چوبیس نہیں تو اٹھارہ گھنٹے تجزئے  کے نام پر بےمقصد مباحثے اور ذہنی خلفشار کا نشہ استعمال کرتی رہی  ہے  
عوام کے ذہنوں  کو مستقل کسی خوف ،  فتنے اور بے سمت سفر میں مبتلا رکھنے کے لیے یہ چینلز قائم کیے گیے او یقینن یہ اپنے مقصد  میں کامیاب رہے ہیں . بیرون ملک پاکستان کی جو شکل اشرافیہ کا ایک خاص حلقہ  تارکین وطن کے تصور میں جمانا چاہتا تھا،  اب وہ جم چکی ہے اور اگلے کتنے ہی برسوں میں یہ "شکل " دھندلی ہونا بھی ناممکن لگتا ہے 
جس نام نہاد نیوز میڈیا کو ہم معلومات کا زر یعہ سمجھے تھے، اسکرینوں پر بیٹھے نوسربازوں کو تجزیہ کار جانا تھا اور خبروں کو توڑ مروڑ کر جھوٹ کو سچ اور سچ کو جھوٹ بنانے والے "اینکروں "کو صحافی سمجھا تھا ، وقت نے ان چینلز کو عنکبوت کا گھر  ثابت کیا.  یہ کمزور ، الجھے ہوے تار سن دو ہزار دو سے نہ پاکستان کی قومی زندگی میں بہتری لا سکے اور نہ کسی مسلے کا حل ڈھونڈ سکے نہ وطن دشمنوں کی درپردہ سازشوں پر سے نقاب اٹھا سکے ان کے لیے آسان تر مال بنانے کا طریقہ یہ تھا کہ جو سیاستدان بدنام نہیں انکو بدنام کرو اور جو مخصوص اشرفیہ کے ہاتھوں بدنام ہوچکے تھے انکو بدنام ترین کردو .جمہوریت کو "مذاق "بنانے کے  لیے پنجاب اور کراچی میں اچھی  ریٹنگ  والی پارٹیوں کے کچھ "چلتے پرزے "اپنے اسٹوڈیو میں منگوا کر ہوسٹ کے ہاتھ میں "ڈگڈگی " دے دو اور بس ! ایسے میں کونسی خبر ؟ اور کونسا تجزیہ ؟  
سو قارئین ! آج آپ کے سامنے ہے کہ مقاصد حاصل ہونے کے بعد وہی "ڈگڈگی "تھا منے والے ہاتھ اب اسٹیبلشمنٹ کو قبول نہیں . جن کو بدنام کرنا تھا کر دیا ،  جس ڈگری یافتہ شہری نسل کو لاعلم رکھنا تھا وہ سیاسی بانجھ پن ،  تقسیم اور نفرت کا شکار ہوچکی اور  جوخبریں یا قبریں چھپانی تھیں وہ چھپا لی گئیں اب مزید "اظہار آزادی " کی نہ ضرورت ہے اور نہ فایدہ سو " پروپر پاکستان "سے کچھ صحافی غائب ہیں اور کچھ پر اداروں کی نظر کرم پڑنے کی  قوی  امید ہے 
ہم میں سے بہت ہیں جو اس آنے والے وقت کی چاپ سن رہے تھے اور اپنی گفتگو اور تحریروں سے عوام کو باخبر کرنے کی کوشش بھی کر رہے تھے مگر ہونی کو کون ٹال سکا ہے ؟  

Thursday, October 20, 2022

بات کرتے ہیں تو اُوقات بتا دیتے ہیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ لوگ کردار سے اب ذات بتا دیتے ہیں

 عمران خان  نیازی .... ...... اِن صاحب پر پچھلے دس  پندرہ سال میں بہت کچھ کہا گیا ، لکھا گیا ،سنا گیا مگر اِنکے وزیراعظم بننے سے لیکر   اِنکی آئینی معزولی کے بعد آج تک  جو کہرام برپا ہے اُسکی نظیر پاکستان کی سیاسی تاریخ اورحصولِ اقتدار کی جنگ میں کہیں نہیں ملتی 

ذاتی طورپرمجھے کرکٹرعمران خان کچھ نہ کچھ پسند تھے بس اتنے ہی جتنا کوئی بچہ  کسی بھی اسٹار کو پسند کر سکتا ہے ، کینسر ہسپتال کے لیے اُنکی کاوشوں نے پسندیدگی کو بڑھایا ، اکثر پاکستانیوں کی طرح میں نے بھی اس مفت علاج مہیا کرنے والے ہسپتال کے لیے فنڈ ریزنگ کی تھی . یہ سب تفصیل بتانے کا مقصد صرف یہ ہے کہ سیاستدان عمران خان نے جب سیاست کے میدان میں اسٹار بننے کی کوشش شروع  کی تو ہمیں ان سے اندھی نفرت نہیں تھی  اور نہ کوئی سیاسی ناپسندیدگی تھی 
 اگرآپ پاکستان کی سیاسی تاریخ  پرنظر ڈالیں تو آپکوعوامی منتخب رہنماؤں کے بارے میں اسٹیبلشمنٹ کی طرف سے الزمات ، بہتان طرازی ، میڈیا ٹرائل  کی بہتات ملے گی . اخبارات اور ریاستی ٹی وی ، ریڈیو  کے ذریعے  عوام کے ہردلعزیز لیڈروں پر گند اچھالنے کی  روایت کافی پرانی  ہے اسی  لیے جب  سیاست میں نووارد عمران خان  کی کردار کشی شرو ع ہوئی  تو کم از کم میں نے یہی سمجھا  کہ جیسے بھٹو شہید پر " اِدھرہم  اُدھرتم  "کا جھوٹا الزام لگا کر عوام کے ذہن مفلوج  کرنے کی کوشش کی گئی یا جیسے سائیں جی ایم سید ، باچا خان ، سردار بگٹی شہید  ، شیخ مجیب الرحمان کو جھوٹ ، الزامات اور سازشوں  کے ذریعے غیر ملکی ایجنٹ ، غدار ، ملک دشمن مشہور کروایا گیا ، جسطرح  محترمہ شہید اور انکی والدہ  کی جھوٹی تصاویر گرا کر پنجاب کے عوام کی نظروں میں ُان کا احترام کم کرنے کا گھٹیا کام کیا گیا یا  پھرمحترم  آصف زرداری کو محترمہ سے شادی نبھانے  پر پاکستانی پریس  ہی نہیں غیر ملکی نشریاتی اداروں سے بھی  کبھی مسٹر ٹین پرسنٹ تو کبھی پلے بواۓ مشہور کروایا گیا،تو ہوسکتا ہے عمران خان  پر بھی یہی گُر استعمال کیے جارہے ہوں 
سو بہت عرصے تک ہم نے  اس " حُسن ظن" سے کام لیا مگر پھر دو ہزار چودہ کا دھرنہ آگیا........ اور وہ ایک سو چھبیس دن کسی بھی وطن پرست ، عوام دوست اور سیاسی بالغ کے لیے کافی تھےتاکہ اچھی طرح  سمجھ جاۓ اور جان جاۓ  کہ  عمران خان صاحب کیا چیز ہیں ؟؟ 
اسبار کہانی  "الزمات ، بہتان ، جھوٹ اور میڈیا ٹرائل " کی نہیں  تھی کیونکہ میڈیا نے تو " لیڈر " صاحب کا ایک ایک حرف کسی سنسر کے بغیر ہم تک لائیو  پہنچایا . ہر تقریر ،  سرکار کو دی گئی ہر دھمکی ، حکومت تو حکومت  عمران خان صاحب نے تو  اپنے ساتھ پار لیمنٹ میں بیٹھی اپوزیشن تک  کو گالیاں دیں  اور یہ سب لائیو  دیکھا گیا . دھرنے کے دوران وہ مسلسل  اپنے کارکنوں اور سپورٹرز کو غیر قانونی حرکتیں اپنانے کے لیے اکساتے  رہے ، ملک و قوم کی تباہی اور بربادی کے ایسے ایسے نسخے اسٹیج سے درآمد ہوتے رہے جو پاکستان کے غدار اور ایجنٹ کہلانے والے لیڈروں کے منہ سے ہم نے  کبھی نہ سنے تھے  
 اب سوال یہ تھا کہ آنکھوں دیکھی " مکھی " کون کھاۓ  ؟؟؟  جس طرح "سنی سنائی " پر آنکھیں بند کر کے ایمان لے آنا جہالت ہے ویسے ہی اپنی  آنکھوں سے  ملکی اداروں اور منتخب افراد پررکیک  حملے اپنی آنکھوں سے  دیکھ کر، ا پنے کانوں سے سن کربھی  اگرکوئی موصوف کو  " لیڈر ، رہنما ، یا قوم کا سربراہ " سمجھتا ہے تو اُسکی عقل پر آپ ماتم ہی کر سکتے ہیں 
اور پھر ہم نے ماتم کیا بھی لیکن افراد کی عقل و فہم پر نہیں بلکہ "قومی سلامتی کے اداروں " پر جنکو ہوش میں رہنے کی ہی تنخواہ دی جاتی ہے مگر انہوں نے  ایک بے راہرو ، انا پرست ، جذباتی اور طاقت کے حصول میں بولاۓ ہوۓ آدمی کو ہیرو بنانے کا فریضہ انجام دیا 
یوں تو ایک سو چھبیس دن کے دھرنے اور پھر  سلیکٹڈ کے طور پر جناب عمران خان نے مستقل ایسی باتیں کیں جنکو آپ بونگیاں اور نا عا قبت  اندیشیاں کہہ سکتے ہیں مگر انکے ذہن کی عکاسی کرتے منہ سے نکلنے والے کچھ جملے ایسے ہیں جو اُنکو لیڈر یا رہنما یا مملکت کے امورچلانے والے ذمہ دارانہ عھدوں کے لیے مکمل طور پر نااہل ثابت کرتے ہیں 
  اِن  بیانات میں سے تین قارئین  کے سامنے رکھوں گی اُمید ہے کُھلے دل و دماغ سے غوروفکر کی عادت اپناتے ہوۓ اِن جملوں پرغور کریں گے جو یقینن صرف جملے نہیں تھے کیوں کہ پونےچار سال کی تمام ترحکومتی  پالیسیاں ان جملوں کے گرد گھوم رہی ہیں جوعمران خان صاحب کے کردار کی مکمل عکاسی کرتے ہیں 
تیئس اگست سن دو ہزار چودہ کو بیرون ملک رہنے والے پاکستانیوں کو"حکم" دیتے ہیں کہ اپنے پاکستان میں رہنے والے خاندان کو بینک کے ذریعے رقوم مت بھیجیں بلکہ حوالہ ہنڈی ( ناجائز زرا ئع) سے رقم کی ترسیل کریں اسی سال سترہ اگست کواپنے سپورٹرزاورکارکنوں کو بل نہ دینے بلکہ جلا دینےکی ہدایت بھی کرتے ہیں  جب سے ہم نے ہوش سنبھالا بہت سے سیاسی رہنماؤں کو تحریکیں چلاتےاورفوج کی آمرانہ حکومتوں کو للکارتے دیکھا پیپلزپارٹی اپنی شہادتوں، قید وبند، جلاوطنیوں  کے باوجود اور نواز لیگ حالیہ ناانصافیوں سمیت بھی اس قسم کے بیانات دینے سے ہمیشہ گریز کرتی ہیں،  مگر ان دونوں وفاقی پارٹیوں  سے بڑھ کر وہ قوم پرست جماعتیں جواسلام آباد کی پاور پالیٹکس میں زیادہ اہمیت نہیں رکھتیں مگر انکی قیادتیں بھی عوام کو وہ شاخ کاٹنے کا درس کبھی نہیں دیتیں، جس پر مستقبل میں اُ نکا آشیانہ بن سکتا ہے  
اس قسم کا  بیان یا تو کوئی مخبوط الحواس  سیاستدان دے سکتا ہے یا پھر ملک دشمن کیونکہ ناجائز طریقوں کی طرف عوام کو اُکسانا ظاہر کرتا ہے کہ آپ اپنی ہوس اقتدار کے لیے کچھ بھی کر سکتے ہیں. نہ جانے وہ کون لوگ تھے جنہوں نے پی ٹی آئی اوراُسکے بانی  کو اس قسم کے بیانات کے بعد بھی سن  دوہزار اٹھارہ میں  ووٹ دیے ، اور چاہا کہ ایسا طاقت واقتدار کی بھوک میں اندھا ہوا شخص اتنی بڑی ذمہ داری پر قابض ہوجاۓ، سوہمیں یاد رکھنا چاہیے کہ  پاکستان کی حالیہ معاشرتی اورمعاشی تباہی میں  خودغرض اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ ساتھ  ایسے  کم عقل لوگوں کا بھی ہاتھ ہے  
دوسرا بیان جو ایک نہایت ہی دلخراش واقعہ کے بعد عمران خان صاحب نے دیا اسکی اہمیت اور سنجیدگی اس لیے بھی بڑھ گئی کہ موصوف اب اپوزیشن کی سیٹوں سے اٹھ کر وزیراعظم کے منصب پر فائز ہوچکے تھے سیلیکٹڈ تھے یا الیکٹڈ مگر بیان نہایت ہی بے  حسی اور بزدلی پر مبنی تھا کسی بھی غیر جانبدار اور ہوش و حواس رکھنے والے شخص سے پوچھا جاتا کہ ملک کے ایک کونے میں گیارہ محنت کشوں کو انکے عقیدے کی وجہ سے ایک دہشتگرد گروہ نے بہیمانہ انداز میں موت کے گھاٹ اتار دیا ہے لواحقین لاشیں دفن کرنے سے انکاری ہیں کہ ایسے واقعات انکے فرقے اور قوم کو روز بھگتنے پڑتے ہیں نہ انصاف ملتا ہے نہ ریاست کی طرف سے تحفظ . سخت سردی اور بھوک پیاس کے ساتھ  بےبس اور مظلوم  اقلیتی فرقےکی  خواتین اور بچے اپنے ملک کے حاکم سے مطالبہ کرتے ہیں کہ ہمارے سر پر تحفظ کی چادر رکھو نہتے مرد  وزیراعظم سے انصاف کا وعدہ چاہتے ہیں وہ منتظر ہیں کہ حاکم وقت جو اقتدار لینے سے پہلے یہ  روایت  دہراتے نہ تھکتا تھا کہ " دریا کنارے اگر کتا بھی پیاسا مرا تو عمر بن خطاب کی جوابداری ہوگی  " آج گیارہ مظلوم ، بیگناہ محنت کشوں کے لواحقین کو انصاف اور تحفظ تو کیا دیتا ایک معمولی  فوٹو سیشن بھی کروانے کو تیار نہیں جسمیں  مظلوموں  کے سروں پرہاتھ رکھ کر دادرسی کرتا دیکھائی دیتا    
جس بےرحمی اورتکبر سے"مملکت خدا داد کےحاکم " نے مچھ ، بلوچستان کے شہید مزدوروں کے لواحقین کو"بلیک میلر" کہا وہ شاید پاکستان توکیا دنیا کی تاریخ میں بھی انوکھا واقعہ ہے. ایک طرف مظلومین اور انکے لواحقین کی ہتک کی گئی تو دوسری طرف پاکستان کی مضبوط کرسی پر بیٹھےغیر ذمہ دار حاکم  نے اپنی سیکیورٹی کو انتہائی اہمیت دے کرسواۓ عوام کومزید غیر محفوظ ہونے کا  احساس دلانے کے کچھ نہیں کیا 
آج جو لوگ  بھی ایسے نااہل ، خودغرض اور بزدل شخص کو "رہنما " سمجھتے ہیں ان سے میرا سوال ہے کہ  کیا آپ ایسے گھر میں رہنا پسند کریں گے جسکا سربراہ آپکو مشکلوں اور پریشانیوں  میں صرف اس لیے چھوڑ دے  کہ میری زندگی آپ سے زیادہ اہم ہے اور اگر آپ مجھے  کسی ناگہانی میں مدد کے لیے پکاریں گے تو میں آپکو " بلیک میلر " کہہ کر ہر ذمہ داری سے اپنی جان چھڑا لوں گا .  یقین جانیں آپ ایسے آدمی کو سربراہ تو کیا اپنے گھر میں ملازم تک نہیں رکھیں گے نہ ہی گھر کا کوئی ہوش و حواس والا  فرد ایسے آدمی پر کبھی 
اعتبار کرے گا
جیسا کہ میں نے بلاگ کے شرو ع میں بتایا کہ عمران خان صاحب کے ایسے انگنت  بیانات ہیں جنکو سنجیدگی سے لیا جائے تو شاید اوسط درجے کا شعور رکھنے والا بھی انکو وزیراعظم تو کیا کسی سیاسی جماعت کا اہم رکن بھی نہ دیکھنا چا ہے مگر ہماری قسمت دیکھیے کہ کس طرح پاکستان کے طاقتور اداروں اورانکے زیر تسلط پھلنے پھولنے والے نیوز میڈیا نےایک غیر ذمہ دار آدمی کو" ذمہ دار، ایماندار اور اہل " بنا کر عوام کی آنکھوں میں دھول جھونکی حقیقت میں یہ آدمی نہ ذمہ دار تھا نہ ایماندار اور نہ اتنے بڑے  منصب کا اہل 
 اب آئیں آج کے بلاگ میں سابقہ وزیراعظم اور حالیہ " حقیقی آزادی " کے روح رواں کے تیسرے اور آخری بیان کی طرف جو انہوں نے اپنی آئینی معزولی کے بعد دیا .اپنے دلپسند یوٹیوبرز اور خاص الخاص جرنلسٹس نما کارکنان  سے بات چیت کرتے ہوےفرماتے ہیں " چوروں کو عنانِ حکومت دینے سے بہتر تھا کہ پاکستان پر ایٹم بم   گرا دیا جاتا " مطلب اگر آپ کے ہاتھ میں اقتدار نہیں تو پھر بائیس کروڑ کو زندگی جینے کا حق بھی نہیں . آپ نے کبھی کسی اٹامک پاور کے صدر یا  وزیراعظم کا ایسا بیان سنا یا پڑھا ہے ؟؟
کیا کوئی عوام کا  "رہنما " کہلانے والا سوچ بھی سکتا ہے کہ میرے ہاتھ میں اختیار اور طاقت نہیں تو بہتر ہے تمام لوگوں کو ملیا میٹ کردیا جاۓ چاہے وہ میرے خلاف ہوں یا میرے اپنے ساتھی  ، بستیوں کو اجاڑ دیا جاۓ اور ملک کو تباہ و برباد کردیا جاۓ کیونکہ طاقت کا سرچشمہ اب میں نہیں کوئی اور ہے 
اگر آپ اس بیان کوسرسری  بھی لیں تب بھی یہ کسی پاگل شخص  کی بڑ لگ رہی ہے اور کسی پاگل آدمی کو کوئی مزید پاگل ہی اپنا "لیڈر " قرار دے سکتا ہے کسی  ذی ہوش  کا یہ کام نہیں 


Sunday, December 26, 2021

عجائب خانہ دانش وراں



ضروری نہیں کہ جس بلاگ کا عنوان خشک ہو اسمیں پاۓ جانے والی معلومات بھی آپکےحلق سے نہ اتریں
 مثلا آج کا میرا بلاگ آپکو یقینن بور نہیں ہونے دیگا اور وجہ یہ ہے کہ اس میں عجائب خانے میں آن لائین ہوۓ کچھ  عظیم  دانشوراں کا تذکرہ موجود  ہے ... جی یہ درست  ہے کہ  اُنکا نام تو شاید اِس بلاگ کی زینت نہ بن سکے مگریقین کریں اُن  باکمال ٹویپس  کا ذکرِ خیر ڈھکے چھپے لفظوں میں  یہیں کہیں موجود ہو سکتا ہے جو آپکی ٹا ئم لا ئین پر اپنی دانش کے موتی بکھیرتے رہتے ہیں۔ 
ذرا اطمینان سے ٹِک  جائیں ،ٹویٹر اور فیس بک پیج پرتانکا جھانکی کچھ پل کے لیے موقوف کریں چاۓ کی پیالی بنا کر بیٹھیں کیونکہ ہوسکتا ہے بلاگ کے درمیان سردرد کی وجہ سے آپکو چاۓ کی طلب ہو مگر اپنے خوبصورت ہاتھوں سے چاۓ بنانے والی بیگم ، بہن ، بیٹی یا  پھرکسی خوشقسمت خاتون ٹویپ کے شوہر یہ کہہ کر روزانہ کی طرح انکارکردیں کہ " نوکر نہیں ہیں تمہارے ،انہی سے مانگ لو جنکی تعداد بڑھنے پر تمہاری آنکھیں چمکتی ہیں "....  مجھے علم ہے جناب کہ  گھرکےافراد  خاص کر جو سوشل میڈیا کے نشے میں مبتلا نہ ہوں  وہ  میرے اور آپکے فالوورز کی تعداد سے کس قدرحسد  اور جلن محسوس کرتے ہیں ...... اتنا  تو بجلی کےجانےاوربجلی کے بِل آنےپرغصہ سے بَل نہیں کھاتے جتنا ہمارے فالورز کی تعداد پرپُھنکارتے رہتے  ہیں 
 خیر قصہ کوتاہ کہ اس عجائب خانہ میں قدم  رکھے اس  سال مئی میں  نو سال پورے ہوجائیں گے  اس دوران شاید ہی پاکستان کی کسی سیاسی جماعت کے سپورٹرز سے مڈ بھیڑ نہ ہوئی ہو اور شاید ہی کسی لسانی اکائی کی فطرت و عادات کا بھانڈا اس چوک پر آنکھوں کے سامنے نہ پھوٹتا  دیکھا ہو
یھاں نام لیے بغیر کچھ   " دانشوراں " کا ذکر خیر کرتی ہوں نام اس لیے نہیں لوں گی کہ ادب کا تقاضہ یہی ہے اور ذکر اس لیے ضرور کروں گی کہ اچھا یا برا ان افراد سے بہت کچھ سیکھنے کو ملا 
اس وقت جب مجھے بلاک اور اَن فالو ہونے اور کرنے کا صفر تجربہ تھا ایک صاحب جن کے بارے میں کچھ عرصے بعد پتہ چلا کہ " چوک ٹویٹر " میں اپنی دانشوری کی وجہ سے کافی مقبول تھے اورایک اچانک نظریاتی ہوجانے والی سیاسی جماعت کی سوشل میڈیا ٹیم کے موجد کی شہرت بھی رکھتے تھے، اللہ جانے مجھ ناچیز پر چوک میں قدم رکھتے ہی  کیوں مہربان ہوے فرمایا مجھے "بلوچوں کے حقوق سے بےانتہا دلچسپی ہے " شاید یہی بات فالونگ کا سبب تھی مگر انکی دلچسپی شاید صرف "حقوق  کی  بھیک مانگنے" پر تھی اور میں نے  حقوق چھیننے کا ذکر کردیا  محترم نے انفالو تو کیا سو کیا  دوسروں کو ترغیب دی کہ " دفع مارو سو  میں تے مائی نوں انفالو کر دتا ایویں دی بک بک اے 
 ہیں ؟؟؟؟ کوئی پوچھے انکل جی ! یہ اوپن فورم ہے،  بالغ افراد اپنی مرضی سے کسی کو فالو کسی کو انفا لو کرسکتے ہیں آپ کی تبلیغ کی بھلا آپ ہی  جیسے دوسرے بابے کو کیا ضرورت ہے ؟؟
سال گزرا  تو مزید دانشوروں کا سامنا ہوا
 ایک خودکار ذھانت کا منبع محترمہ  اس عجائب خانہ میں موجود ہیں جنکا  قبلہ اس تیزی سے بدلتا رہا  کہ آپ ابھی  انکی ٹویٹ پر کمنٹ دینے لگیں اور فون کی گھنٹی بج جائے کالر آئی ڈی پر رانگ نمبردیکھ کر آپ  ٹویٹر پیج کی طرف دوبارہ  پلٹے اور یہ کیا ؟؟؟ محترمہ دانشور صاحبہ نے "سیاسی قبلہ " بدل دیا اللہ جانے زندگی کی گاڑی  میں بریکیں بھی ہیں یا نہیں  ؟ 
  اِن  ہی جیسے ہزاروں ہزار فالوورز والے بڑے  بڑے نام اکثر لوگوں کی اچھی باتیں آگے ریٹویٹ کرنے میں اس قدر کنجوسی برتتے ہیں کہ بہت بار غیرت دلائیں تو بھی بات کو ٹال کر آگے نکل جاتے ہیں وجہ یہ ہے کہ ہمارے ٹویٹس اور کمنٹس ہی تیسرے دن انکی ٹویٹ بننے ہوتے ہیں اگر آج ہمارا کمنٹ ر یٹویٹ کردیا تو کل "کاپی/ پیسٹ " پر واہ واہ کیسےسمیٹیں گے؟ 
ایسی ہی ایک اور صاحبہ سے کافی لمبی سلام دعا رہی اور باوجود اسکے کہ سیاسی نظریات کا فرق میرے حلق سے کم ہی اترتا ہے لیکن انہوں نے "دھرنہ سیاست "کے دوران سیاسی محبت کی کچھ ایسی پینگیں بڑھائیں کہ میں بھی "جھولے "لینے پینگ پر بیٹھ گئی سمجھ جب آئی جب محترمہ نے  عمرانی دھرنہ الٹنے کے بعد نہ صرف پینگیں چڑھانی چھوڑ دیں بلکہ کشمیر الیکشنز کے دوران ایک عدد دھکے سے مجھے پینگ سے گرا کر بلاک دے مارا
خیرقدرت بھی ایسے میں دورکھڑی مسکرا رہی تھی تیسرا سال ہی آیا تو سنتے ہیں "ووٹ کو عزت دو "کی تسبیح پڑنی پڑی اسی لیے کہتے ہیں کہ غرور کا سر نیچا
ایک "فیفتھیے "ہیں جو چہرے سے تو لڑکے بالے لگتے ہیں مگر جس ڈھیٹائی سے ہر بار اپنا اکاؤنٹ سسپینڈ ہونے کے بعد دوسرا اکاؤنٹ بناتے ہیں اور پھر جمہوریت پسندوں اور خاص کر فیمنسٹ خواتین کے خلاف ٹویٹر اسپیسزکی  محفل سجاتے ہیں اس سے کافی "پکی عمر کے کھوچل مرد " لگتے ہیں 
مگر نہ جانے کھوچل ہیں یا بنتے ہیں کیونکہ یہ جانتے بوجھتے کہ میں بہت بار انکو ٹیگ کر کے حساس ادارے کی  بے حساسیت پر ٹھیک ٹھاک سنا چکی ہوں مگر خاموشی سے آکر فالو ضرور کرتے ہیں اور کبھی بھی فالو بیک نہیں مانگتے شاید " جاسوسی " کرنا چاہتے ہیں مگر کر نہیں پاتے کیونکہ انکی جاسوسی کے لیے میرا جاسوس ہونا ضروری ہے جو اُنکی بد قسمتی سے میں نہیں ہوں۔  
 اصل دنیا میں خواتین کو "دانشوری " کے وہ تمغات نہیں دیے جاتے جو کہ انکا حق ہیں اور یہی حال  اس "الفاظ "کی دنیا  کا ہے جہاں  آپکو خاتون ٹویپس اکثر دانشوروں کے کم شہرت یافتہ درجات میں ملیں گی یھاں بھی "ٹاپ "پر ایسے مردوں کا قبضہ ہے جوجھوٹی خبروں اورافواہوں  کو چڑیا کوے کی "چغلیاں " کہہ کر بیچتے ہیں اور لوگ ہیں کہ خریدتے رہتے ہیں . ایسے مردوں کی تعداد دائیں بازو کی دونوں  سیاسی پارٹیوں میں برابر کی ہے اور دلچسپی کی بات یہ کہ لسانی اکائی دونوں کی مشترکہ ہے ظاہر ہے زیادہ آبادی میں "دانشوروں " کی تعداد بھی زیادہ ہی ہوگی بھلے سے انکی دانشوری دو نمبر ہو  ایسے دانشوروں  کی پہچان یہ ہے کہ دانشوری جھاڑتے جھاڑتے کبھی اگر کوئی اونچ نیچ ہوجاۓ تو انکے کی بورڈ سے پیچ پر اور انکے منہ سے اسپیسز پر" پھول جھڑتے " صاف نظر آتے ہیں جن کو انکے ہزاروں فالورز مالا بنا کر جپنا شرو ع ہوجاتے ہیں 
بیرون ملک ریھایش پزیر دانشوروں کو  یہ کمال  حاصل ہے کہ ساتھ ساتھ یہ  بتانا " میں پچھلے تیس سال سے امریکہ  میں مقیم  ہوں " اور ساتھ ساتھ  یہ دکھڑا کہ  اپنے اندر سے "پاکستانی سیاست " نہ  نکال سکا  ۔۔۔۔۔۔۔۔ ہاۓ کسقدر محب وطنی ہے کہ تیس سال سے چھلک رہی ہے اور اسکا اچھا معاوضہ  تبدیلی سرکار نے "اوورسیز ووٹ "کا حق دیکر ادا کیا ہے 
تبدیلی سرکار کے ساتھ ساتھ بہت سے پاکستان میں " ووٹ کو عزت " دلوانے کے جنوں میں مبتلا دانشور بھی بیس ، تیس سال سے امریکہ کا پانی پیتے ہیں اُنکی جادوگری کچھ یوں ہیں کہ جب میں ٹویٹر پر وارد ہوئی تو دانشور صاحب جیالے سمجھے جاتے تھے پھر نہ جانے امریکہ میں بیٹھے بیٹھے " ایکس جیالے " کیسے بنے اور پھر کہانی میں اصل ٹویسٹ آیا اور محترم امریکہ میں رہتے ہوے پاکستان کے ووٹ کو عزت دینے لگے جب کہ یہ بات ابھی میاں صاحبان اور انکی دختر نیک اختر بھی نہیں جانتی تھیں۔   ویسے امریکہ کے ووٹ کو عزت دینے کا مرحلہ آیا تو محترم کا خیال تھا  جس کا ووٹ نیو یارک میں ہو اسکو لاڑکانہ میں ووٹ دینا چاہیے اور جس کو ہیلری کلنٹن کی بجائے برنی سینڈرز کے حق میں نعرے لگانے ہیں اس سوشلٹ کو صرف جئے بھٹو پر اکتفا کرنا ہوگا۔  خیر سے ڈرامے کا اینڈ بہت ہی "منورنجن "لیے تھا کہ موصوف کے عزت دار ووٹ کی وجہ سے سوشلسٹوں کے کیمپ میں تو آگ بھڑک ہی گئی مگر امریکی اسٹیبلشمنٹ کی پسندیدہ اورموصوف کی  چہیتی ہیلری  بھی شکست کھا گئیں سنا ہے لوگ ان سے بہت عرصے تک اس شکست کی وجوہات پوچھتے  رہے مگر صاحب  ٹالتے رہے
ویسے یہ "ایکس جیالہ  " صرف دو چار شخصیات کے ساتھ نتھی نہیں کیا جاسکتا بہت سے دانشوران اپنی گفتگو کا آغاز اسی جملے سے کرتے ہیں کہ "ہم نے تو بنائی تھی پی پی پی " اور اسکے بعد انکے چراغوں کی کم ہوتی روشنی بتاتی ہے کہ ایکس کہلانے  کی وجہ  دراصل یہ ہے کہ وہ جب چاہے اپنی پٹری بدل لیں  اور جو سیاسی سورج انکے حساب سے طلوع ہوتا ہے اسکے آگے سجدہ ریز ہوجا ئیں  ایسے رہنے میں ایک فایدہ فالورز کی بڑھتی تعداد اور رنگ برنگی ٹویٹس کی آمد ہے 
ویسے یہ "ایکس " والا معاملہ مجھ پر  ذرا ہفتہ دس دن بعد کھلتا ہے جب سیاسی پھڈا ہوتا ہے اور چوک  میں بھانڈا پھوٹتا ہے
ایک اوورسیز "ووٹ کی عزت " کو کینڈا جاکر پہچانے، خیر سے پاکستان میں "دھواں " اڑاتے اڑاتے عوام کے "مالک " بن بیٹھے تھے.بڑی اسکرین پر جمہوریت کو گالی اور سیاستدانوں کو عفریت ثابت کر کے اپنے ہی چوکیداروں کے ہاتھوں مروانے پر شہرت پانے والے جمہوری ملک میں جاکر ایسے تبدیل ہوے ہیں کہ لگتا ہے ان پر بھی کسی "پیرنی " نے تعویز کردیا ہے شاید ہی کسی پر ایسی مثبت تبدیلی آئی ہو جیسی ان دانشور حضرت پر آئی ہے .آپ سب سے درخواست ہے کہ بآواز بلند صاحب کے لیے ماشاللہ اور چشم بددور کا نعرہ لگائیں
 بہت سوں نے اپے  یوٹیوب چینلز کی دکان  بھی اسی طرح بڑھوا لی ہے بقول شخصے " ہر ایک کے ساتھ پاپی پیٹ لگا ہے " اور یوٹیوب چینلز سے پاپی پیٹ کو اگر بھرنا ہے تو زیادہ  سبسکرائبرز چاہیے اور زیادہ  سبسکرائبرز  کے لیے بڑی مارکیٹ  میں "اِ ن " ہونا پڑتاہے اور بڑی مارکیٹ کے لیے بڑے صوبے کی بڑی آبادی کے دل میں گھر کرنا پڑتا ہے آج کل کی پود نہیں جانتی مگر بڑے صوبے کی ماضی میں ہٹ ہوئی فلمیں بتاتی ہیں کہ بڑے بھائی صاحب کو نوری نتھ اور مولا جٹ قسم کی سیاست پسند ہے  سو یوٹیوب چینلز کا فوکس بھی تمیز دار سیاستدانوں اور بھائی چارے کی  سیاست کی نسبت لندن میں بیٹھے ہیرو کی بھڑکیں ،جاتی عمرہ کی ہیروین کے ایک گانے میں پندرہ پھڑک دار ڈریسز اور ولن کے روپ میں کامیڈین  کے لہراتے گنڈاسے  اور اس کے  ہمنواؤں کی  گالیوں بھرے ٹھیکے پر رہتا ہے جن دانشوروں کوآپ  صرف چار سال پہلے انکی غیر صحافتی غیر جانبداری  کی وجہ سے "آگہی  ایوارڈ " دینے کو تیار تھے انکی آگہی  تو انہوں نے  لسی کے گلاس میں پیڑے ڈال کر پی لی آج جب انکو نیند سے جگایا جاۓ تو ہڑبڑا کر اٹھتے ہیں اور مجھ سے پوچھتے ہیں " کون ہو ؟  اچھا اچھا ٹرول ہو..... ماشاللہ  یعنی اب جوآپ سے سوال پوچھنے کی جرأت کر بیٹھے وہ "ٹرول" اور جو آپکو واہ وہ کہے وہ باشعور
 اورجو آپکو "لفافہ " کہہ دے  وہ ؟
حد تو یہ ہے کہ وادی مہران جہاں کے  باسی اپنے سیاسی شعور اور اختلاف راۓ پر برداشت میں نسبتا '' بہتر خیال کیے جاتے ہیں " بڑی مارکیٹ " میں دکان چلانے کے لیے وہ بھی اپنی اوپر کی منزل کراۓ پر دینے کے لیے راضی ہو گیے ہیں اور برداشت کا یہ عالم ہے کہ ایک سوال میں چھ "دانشوارن " کو ٹیگ کیا جاۓ تو
 صاحب ِعالم چھ میں سے واحد ہوتے ہیں جو جواب تو کیا دیں گے اپنے دروازے ہی سوال کرنے والے پر بند کر دیتے ہیں یقین نہیں آتا کہ کبھی انکے بزرگوں نے بھی ہندوستان سے آنے والے مہاجرین پر اپنے دروازے کھولے ہونگے خیر بڑی مارکیٹ کے چکر میں کراچی کے ہمنواؤں کو بھی سیدھی ستھری نہیں سناتے انکی دانش کے "پھول " ہمیشہ ایک پتلی گردن والی سیاسی پارٹی پر جھڑتے ہیں جس کے رہنما نے اپنے نمک کے بارے میں پہلے ہی قوم کو آگاہ کردیا ہے کہ جو جو ہمارے برانڈ ڈ نمک کا سالن  کھاۓ گا اپنا پیٹ ناک تک  بھرنے کے بعد سالن کی خالی پلیٹ تاک کر ہماری ہی پیٹھ میں مارے گا سو مبارک ہو وادی سندھ  سے بڑی مارکیٹ پر حکومت کرنے والے بزرگوار کو کہ انہوں نے اس پیشگوئی کو حرف بہ حرف پورا کیا ہے 
ویسے اس مرحلے پر ہمیں ہرگز بھی خواتین دانشوروں  کے درمیان جم کر کھڑی ،قلیل عرصے میں نام کماتی ان خاتون کو نہیں بھولنا چاہیے جو اپنی " غزل " سنا کر داد تو وصول کرنا چاہتی ہیں مگر تنقید کرو تو انکو " کتوں کے بھونکنے " کی آوازیں آنا شرو ع ہوجاتی ہیں محترمہ تین سال پہلے ہی بلاک کر گئیں جب انکو کہیں سے بھونکنے کی آوازیں نہیں آتیں تھیں ظاہر ہے تین سال پہلے صرف آٹھ دس ہزار فالورز تھے جن کو ڈھائی لاکھ تک پہنچانے کے لیے اُنکو کسی نہ کسی کو پہلے "جانور" بنانا ہوتا ہے سو انہوں نے بنادیا اور بدلے میں لاکھوں فالوورز پا لیے اس موقعے پر دانشور صاحبہ کو دلی مبارک باد اور یہ شکوہ کہ 
غیروں سے کہا تم نے ، غیروں سے سنا تم نے ....
کچھ ہم سے کہا ہوتا ، کچھ ہم سے سنا ہوتا
اِن غیروں کو ہیومن رائٹس سے کتنی دلچسپی رہی میں نہیں جانتی مگریہ  دانشوران عجائب خانہ  اپنےغائب ہونے سے بازیاب ہونے اور پھرباحفاظت ہجرت کرنے کے دوران ہی انسانی حقوق کے چمپئین کہلانے لگے وجہ تو بنتی تھی کہ آواز اٹھانے پر اٹھاۓ گیے مگراِن کی کہانی اُن ہزاروں جبری لاپتہ افراد سے بلکل مختلف ہے جن میں سے بہت سے تاریک راہوں میں مارے جاچکے ہیں اور بہت سے اپنی گویائی کھو بیٹھے ہیں ۔ زیر ِ تحریر دانشور صاحب جنکو گالی گلوچ اور اپنے ہی حق میں آواز اٹھانے والوں پر تبرے بھیجنے کا شوق شاید بچپن سے تھا یا ہوسکتا ہے با حفاظت  بازیابی کی اولین شرایط میں سے ہو، ٹویٹر کے لبرل ،  جمہوریت  پسندوں اور نئے نئے انقلابیوں میں بے پناہ شہرت رکھتے ہیں "اپنے آپ  میاں مٹھو" کی جیتی جاگتی تصویر ہے اپنے پیج ہیڈر کو اپنی ترجیحات کے حساب کتاب سے بدلتے ہیں جن پر آجکل واری صدقے جاتے ہیں وہ چار پانچ سال پہلے تک اِنکا " سر تن سے جدا " کرنے پر زور دے رہے تھے جنکو یہ بازیابی کے بعد سے گالیاں نکالتے ہیں وہ انکے چہروں کے پلے کارڈ اٹھاۓ اِنکی بازیابی کے نعرے لگاتے پاۓ جاتے تھے بس یہی تقدیر کے ہیر پھیر ہیں اور صرف حقیقی دنیا میں ہی نہیں عجائب خانہ کے صفحات پر ۔موجود  بڑے بھائی کی اکثر اولادیں بھی  اسی قسم کی  "احسان مندی" کی قائل  ہیں ۔
بلوچستان کے بارے میں مشہور ہے کہ یھاں  ایک کٹورا پانی کی قیمت سو سال وفاداری ہے مگر ان ہیومن رائٹس کے  لاپتہ و بازیاب اور پھر باحفاظت مہاجرین بنے  چئمپینز نے اپنی بازیابی  کے لیے اٹھائی جانے والی آوازوں کا معاوضہ  الزامات ، گالیوں, سازشی تھیوریوں  اور آخرمیں  فحش کلامی کی صورت میں دیا۔۔۔وفاداری توکیا کرنی تھی ؟ 
 دلچسپ امر یہ ہے کہ دیس میں اگر آپکو تبدیلی کے ساتھ چمٹے دانشور بآسانی دستیاب ہیں جو بڑی فراخدلی سے جھوٹ پر جھوٹ ٹویٹ کرتے ہیں تو " بدیس سے آپکو" شہری سندھ   " کو عقل و دانش کے ایفل ٹاور ثابت کرنے والے ایک دانش کے تاج محل بھی ملیں گے جنکی پہچان انکی ٹویٹ کے آخر میں لکھا  لفظ " سوچیے " ہے اور وہ اپنے ہر الزام ، ہر جھوٹ،سچ اور ہر تمسخر کے آخر میں سوچیے کا تڑکا ایسے لگاتے ہیں جیسے اڑد کی دال کو لہسن کا  تڑکا لگا رہےہوں۔انکی اکثر ٹویٹس میں دانش وری کا میعار یہ ہے کہ جو قومیں انکو پسند نہیں انکا پیٹ بھر کر تمسخر اڑایا جاۓ اور ٹویٹس کے آخر میں "سوچیے " کہہ کردانشوری کا جنازہ بھی اٹھا دیا جاۓ
بلاگ طویل ہو چکا جب کہ بہت سے ناموروں  کا ذکر ابھی کیا ہی نہیں ، خیر چلتے چلتے پوچھنا یہ تھا کہ دانشوروں کےاس بےلاگ تعارف پرآپکی کیا راۓ ہے؟ اگرتوآپ مسکرا رہے ہیں تو ثابت ہوا آپ کو" دانشوری" کا صفر تجربہ ہے اور اگر آپکے سر میں ہلکا ہلکا درد شرو ع ہے تو یقین کریں آپ دانشوری کی سیڑھیاں چڑھنا شرو ع ہوچکے ہیں اور اگرآپکےمنہ سےاس وقت  لکھاری کے لیے "پھول " جھڑ رہے ہیں تو آپ کو مبارک ہوآپ وہی  دانشورہیں جسکا ذکرخیراس بلاگ میں موجود ہے 
گزارش ہے کہ  مجھے بلاک کر کےثواب دارین کمائیں 
شکریہ