Tuesday, August 11, 2026

اس تعصب کےاندھیروں سے تو نکلو باہر ............ پھرکبھی دن ، تو کبھی رات پہ تنقید کرو ( آخری حصہ)

 ہم میں سے اکثر ہیں جنہوں نے مشرقی پاکستان کو بنگلہ دیش میں بدلتے نہیں دیکھا ہم صرف تاریخ کی روشنی سے جانتے ہیں کہ کس طرح متحد ہ پاکستان بنانے والوں کو مغربی پاکستان کی عسکری اور سیاسی قیادت نے ایک طویل عرصے تک اپنے حق حاکمیت سے محروم رکھا۔ تاریخی کتب،  پرانی اخبارات اور کچھ عینی شاہدین بتاتے ہیں کہ فوجی اور سیاسی اسٹیبلشمنٹ ہی نہیں اس دور کے اردو پریس ان میں بیٹھے نسلی تفاخر کے نشے میں مست نیوز ایڈیٹر،  رپورٹر ، لکھاری  اور مغربی پاکستان کی بااختیار قوموں کی سرپھری اشرافیہ  بھی بنگالیوں کو انکی تہذیب، زبان،بود وباش ،سیاسی بصیرت پر لعن تعن کرنے میں پیش پیش تھی

سچ ہے کہ تاریخ اپنے آپ کو دہراتی ہے مگر ممالک اور اقوام  کی بدقسمتی کہ وہ جانتے بوجھتے  اپنی بدقسمت تاریخ کو ہر بار دہراتے ہیں، حادثہ ہوتا ہے ،وقت گزر جاتا ہے اسکے بعد اپنی غلطیوں  کا ماتم کرتے ہیں اور دوبارہ بدقسمت قومیں ایک اور المیہ برپا کرنے غلط راہ پر چل نکلتی ہیں.    سندھ آج وہیں کھڑا ہے جہاں کل مشرقی پاکستان کھڑا تھا ، آج بھی اسکی سیاسی پسند کو اسی طرح حقارت  کی نظر سے دیکھا جارہا ہے جیسے بنگالیوں کو عوامی لیگ کے انتخاب پر دیکھا جاتا تھا کل بنگالیوں کو ہمارے " اکابرین" نے "سوکھا سڑا کالا "کہا آج بھی وزیر اعلی پنجاب جس نام نہاد صحافی دادا کو تھپکی دیتی ہیں وہ  سندھیوں کو " بندر " سے تشبیہ دیتے ہیں  اور پھر جیسے ڈھاکہ میں رہنے  والے بہاری، بنگالیوں کو استہزاء کا نشانہ بناتے تھے آج بھی کراچی میں بسنے والے اردو اور پنجابی بولنے والے صحافی، فنکار ،سیاسی اور لسانی تنظیموں کے ارکان ،مقامی ابادی کی اجرک ،ٹوپی اور زبان پر لطیفے بناتے ہیں، میڈیا پر نشانہ بناتے ہیں اور سوشل میڈیا پر تضحیک کرتےہیں 

کراچی سندھ کا شہر ہے جیسے لاہور پنجاب کا شہر ہے کیا کوئی صحیح دماغ سوچ سکتا ہے کہ لاہور میں پنجابیوں کو " غیر مقامی" پکارے؟  یا انکی لاہور میں روزی روٹی، تعلیم اور ریہاش پر  تنقید کر سکے؟ کیا موسمیاتی تبدیلیوں نے نیو یارک سٹی، جدہ ،دبئی، ممبئی کو نہیں ڈبو دیا کہ کراچی میں بارشوں اور  سندھ میں سیلاب کو منتخب حکومت کی نالائقی قرار دیا جائے کیا کوئی رپورٹر یا  افلاطون اینکر  قرآن پر یہ قسم کھا سکتا ہے کہ پیپلزپارٹی کے مئیر سے پہلے نہ کراچی میں بارش ہوئی نہ سیلاب آیا نہ پانی ،بجلی ،ٹوٹی روڈز کا مسئلہ رہا ؟ کیا کراچی میں پہلی بار اسٹیٹ کرائمز ہورہے ہیں کیا پورے پاکستان میں کہیں بچے ،بڑے گٹر میں نہیں گرتے یا پاگل کتے صرف سندھ میں ہی کاٹتے ہیں ؟

 سندھ حکومت اور کراچی کی لوکل گورنمنٹ پر مسلسل تنقید  اورمتعصبانہ رائے  دے کر سوشل میڈیا کا بھرپور منفی استعمال کیا جاتا ہے جس کی کچھ مثالیں پچھلے بلاگ میں پیش کر چکی ہوں ایک دو اور ملاحظہ فرمائیں جن سے امتیازی سلوک اور منفی تنقید چھلک رہی ہے







یہ "صحافی " ہیں؟  جو سیاسی کارکنان کی طرح لوگوں کو اپنی پسند کی پارٹی کو ووٹ دینے کی کیمپین چلا رہے ہیں وہ بھی صرف کراچی کے لیے . نہ یہ لاہور میں بلدیاتی حکومت کی عدم موجودگی پر ٹویٹس کرتے ہیں نہ کویٹہ ، پشاورمیں کسی پارٹی کی حمایت یا مخالفت کرتے ہیں کیوں ؟  جواب ندارد 


ان صاحب کو نہ بلدیہ فیکٹری میں دوسو زندگیوں کے جلنے پر مصطفی کمال سے  استعفی لینے کا خیال آیا نہ ہی حفیظ سینٹر لاہور کے جلنے پر" لاہور کے مئیر کا نام" پوچھنے کا!!!  استعفی تو خیر کیا مانگتے ؟ کبھی آپ نے ان نیوز ریڈرز کو پشاور میں بیس گھنٹے فیکٹری میں لگی آگ پر میئر پشاور حاجی صاحب سے استعفی مانگتے دیکھا ؟  کچھ عرصے پہلے ہی ایک خاندان کے سات افراد پشاور میں آگ لگنے سے ہلاک ہوئے لیکن جیو نیوز کےملازم صاحب کو نہ پشاور کے میئر کا نام پتہ ہوگا نہ کام کیا یہ امتیازی رویہ نہیں ؟  کیا یہ کسی ایک صوبے کے شہر کو  اپنے میڈیائی پلیٹ فارم سے تختہ مشق بنانا نہیں ؟  ایسا کیوں
ہے؟ ؟ 
 
 اور ان صاحب کی ٹویٹ ملاحظہ فرمائیں جو بھارت کی لائین لیتے ہوے سندھ پر سیلاب آنے کی خوشیاں منا رہے ہیں 



اور اب نفرت اور تقسیم کی یہی بیل  مزید  زور شور سے پروان چڑھا ئی جارہی ہے کیونکہ سندھ کے "حصے بخیے " کرنے کا آرڈر جاری ہوگیا ہے اور پاکستان کی سیاسی تاریخ گواہ ہے کے نت نئے ناکام منصوبے کون بناتا ہے اور انپر عمل درآمد کے لیے سب سے پہلے کس ادارے کا سہارا لیا جاتا ہے اگر آپکو یہ معلومات نہیں تو کسی مستند صحافی سے جرنیل ضیا اور مجیب الرحمان شامی کی گفتگو کی کہانی سن لیں سب سمجھ آجاۓ گاکہ مملکت پاکستان میں  کل کی پریس اورآج کا میڈیا مضبوط جمہوریت کے حقیقی دشمن ہیں
پھرمنفی سوچ  پھیلانے کے ساتھ ساتھ  جھوٹی خبروں سے بھی خوب کام چلایا جاتا ہے اور حد یہ ہے کہ خبر جھوٹی ثابت ہونے پر نہ ملال ہے نہ  افسوس



سو ایک لمبی فہرست ہے کہ اگر ہر فیس بک پوسٹ یا ٹویٹس اور کمنٹس کو کاپی پیسٹ کیا  جاۓ تو شاید ایک کتاب بن جائے ۔ہوسکتا ہے کسی "سانحے" کے بعد ایسی کتاب بھی تاریخ کا حصہ بن جائے جس میں ان تمام افراد کو قومی مجرم گردانا جائے جو اپنے تعصب ، مفاد پرستی ،کسی ادارے کے دباؤ، بھاری لفافے یا اپنی بیمار ذہنیت کی وجہ سے پاکستان قائم کرنے والے  صوبے سندھ ،اسمیں  ھزاروں برس سے بسنے والی باشعور، امن پسند ، اپنی تہذیب و تمدن و زبان پر پہرہ دینے والی قوم اور اسکے سیاسی انتخاب کو مسلسل نکتہ چینی، بدزبانی ،منفی تنقید اور  استہزاء کا شکار بنا رہے ہیں 

یہ دو اقساط پر مبنی بلاگ بھی اب تاریخ کا حصہ بن جاۓ  گا ،  ہم سب جانتے ہیں  کہ تکبر اور جہالت میں لپٹے اذہان نے پاکستان بنانے والے بنگال کو مطعون کر کے علیحدہ کرنے کے بعد بھی کچھ نہیں سیکھا تھا ، اور آج بھی پاکستان بنانے والےدوسرے صوبے  سندھ کو یہی  بیمار ذہنیت مسلسل اپنے منفی خیالات ، تحقیر و استہزاء کا شکار بنا کر علیحدگی کی بنیاد رکھنے سے  باز نہیں آرہی  . متحدہ پاکستان کے خاتمے کے بعد اس بچے کچے ملک پر وار کرنے والے اپنا کام کرتے رہیں گے اور میرے یا آپ جیسے بہت سے یہی کہتے رہیں گے کہ 

ڈوبتے ڈوبتے کشتی کو اچھالا دے دوں

 میں نہیں کوئی تو ساحل پہ اتر جائے گا

  


 

اس تعصب کےاندھیروں سے تو نکلو باہر ............ پھرکبھی دن ، تو کبھی رات پہ تنقید کرو ( حصہ اول )

جرنیل ضیا الحق کا گیارہ سالہ  دور حکومت جس کو بھی یاد ہے وہ جانتا ہوگا کہ پاکستان کی اگلی پچھلی تاریخ میں ایسا بدترین وقت پاکستان کے عوام پر با لعموم اور سندھ کے عوام پر بالخصوص  نہیں آیا . کھیتوں میں ملتی سیاسی کارکنوں کی تشدد زدہ لاشیں ،  رہنماؤں کی پھانسیاں ،  جلاوطنیاں ، لمبی جیلیں ،  عوام پر فوجی  ہیلی کاپٹروں کی فائرنگ ،  جلتے گاؤں اور قتل کیے جاتے دیہاتی عوام . ان دنوں پیپلزپارٹی کےغیر تعلیم یافتہ یا کم تعلیم یافتہ ووٹرز اور سپورٹرز کی ہی فوجی حکومت کے ہاتھوں شامت نہیں آتی تھی  بلکہ  سندھی بولنے والے ڈاکٹروں ،  وکلاء ، فنکاروں اوراستادوں پر بھی ریاستی تشدد جاری تھا اس سب کےباوجو بھی جرنیل ضیا اور اس کے کاسہ لیس  سندھ کو بقیہ پاکستان کی نظر میں مطعون  نہ کرسکے 

اگر اس وقت جرنیل ضیا کو پتہ ہوتا کہ سندھ کسی  فوج کشی اور غداری کے  بیانیے کے ذریعے بدنام نہیں ہوگا  بلکہ ریاستی چھپر چھاؤں میں بننے والے  نیوز میڈیا چینلز اور ان پر بیٹھے متعصب دماغوں کی شیطانیت سے صرف پاکستان ہی  نہیں ساری دنیا میں لعن طعن کا شکار ہوجاۓ گا،  تو وہ فوجی آمر  یقینن یہ بھی کر گزرتا

امر واقعہ یہ ہے کہ ایک اور فوجی آمرمشرف  نے الیکٹرانک نیوز میڈیا چینلز کا اجراء اسی ایجنڈے کے ساتھ کیا تھا کہ ادارہ جہاں چاہے اور جب چاہے اپنا بیانیہ بیچے .ان  تمام چینلز کا تعلق نہ خبروں سے ہے نہ معلومات کی فراہمی  سے اور نہ ہی عوامی فلاح و بہبود  کے کسی منصوبے سے ، ان دکانوں پر صرف اسٹیبلشمنٹ کا بیانیہ بیچا جاتا ہے جس میں چینلز کے مفاد پرست مالکان اور اینکرز کی کرسیوں پر بیٹھے  "دولے شاہ کے چوہے  " اپنے لسانی ،  سیاسی تعصب اور لفافے کے حجم کے مطابق حصہ  ڈالتے ہیں.  جو باقی کسررہ گئی تھی  وہ سوشل میڈیا کی آمد نے پوری کردی .اب یہی شاہ دولے کے چھوٹے  چھوٹے سروں والے نیوز ریڈرز اور"سئینر تجزیہ کار" چینلز دیکھنے والےہجوم کو اپنا "فالوور " بناتے ہیں  اورانکو اپنے سوشل میڈیا پیج پر مزید بے راہروی کا شکار بناتے ہیں اور یوں نفرت کے یہ بیوپاری اپنا مال بیچتے ہیں 

دوہزارآٹھ سے شرو ع ہونے والے جمہوریت کے سفر نے، نام نہاد آزاد میڈیا کا اصل چہرہ ہمیں دیکھادیا تھا اوروقت گزرنے کے ساتھ ساتھ یہ آمرانہ  ایجنڈا پرچلتے چینلزایکسپوز ہوتے چلے گیے دو ہزار نو سے انکا خاص تخت مشق سندھ رہا ، کراچی ان دنوں اسٹیبلشمنٹ کے کاسہ لیسوں کی آماجگاہ تھا سو یہ  نوحے اکثر  وفاق کی "نااہلی " اور سندھ کی بدحالی تک رہے . اس  تمام عرصے میں صوبہ  پنجاب ، پختونخواہ حتی کہ  بلوچستان بھی اس میڈیا کے شاہ دولوں کو" جنت نظیر" دیکھائی دیتا رہا  

نواز لیگ کا وفاق میں آنا تھا کہ  پنجاب اور کراچی کے عمر  رسیدہ صحافییوں اور شدید سینئیر تجزیہ کاروں کی طرف سے " قبول ہے قبول ہے " کی آوازیں آنے لگیں اب  چینلز کوسندھ پر توپیں داغنے کا مکمل لائسنس ملنے والا تھا مگر اچانک سے  محترم نیازی المعروف عمران خان صاحب نے ڈی چوک میں دھرنا بیٹھا دیا اور میڈیا کوحوا لداروں نے آرڈر دیا کہ اپنے "مال مویشی " دھرنے کی مشہوری میں جوت دو.... ..... سو غلام میڈیا نے سندھ کو ایک سو چھبیس دن کے لیے "سانس " "لینے کی آزادی دے  دی 

وزیراعظم بننے کے بعد عمران خان  اور ان کو وزیراعظم سلیکٹ کروانے والوں نے ایک بار پھر میڈیا کے تنخواہ داروں کو سندھ اور اسکے دارالحکومت  کراچی  پر " چھوڑ " دیا اور سوشل میڈیا پر موجود انسانی اور غیر انسانی روبوٹس کو بھی یہی آرڈرز ملے . ایک طوفان بدتمیزی تھا جو سندھ اور اسکی عوام کو " نسلی غلام " نسل پرست ،  جاہل ،  ذہنی غلام ،  زندہ لاشیں جیسے القابات سے نوازتا تھا اور کیونکہ عمران خان صاحب کو وزیراعظم کے پیکج میں"صحافییوں " کی بھی ایک کھیپ ملی تھی لہذا جعلی تصاویر ، جھوٹی خبروں اور رائی کے پہا ڑ بنانے اور انکو پوسٹ کرنے ، ریٹویٹ کرنے والوں کا ایک جم غفیر تھا جس میں ایک عنصر پاکستان سے باہر رھنے والے  افراد  کا بھی تھا  جن کی اکثریت تو پنجابی ہے نہ انکو سندھ کا حال  پتہ تھا نہ احوال مگر مکھی پر مکھی مارنا گوروں نے سیکھا دیا تھا سو وطن سے جان چھڑ ا کر جانے والے بھی سندھ کے خلاف " محاز " کھولنے کے کار خیر میں شامل رہے 

یہ سلسلہ آج بھی جاری ہے اور جیسے کہ تمام  قومی سازشوں کی پہلے سے آبیاری کی جاتی ہے اسی طرح پاکستان میں نئے  صوبوں کا شوشہ بھی چھوڑنے سے پہلے صوبہ سندھ ، اسکی حکومت ، شہروں اور خاص کر  صوبائی دارا لحکومت کو  بدنام کیا گیا اور مسلسل کیا جارہا ہے 

اسکی بہترین مثالیں قارین  کے سامنے ثبوت کے طور پر پیش کرتی ہوں 

  موسمیاتی تبدیلیوں نے گزشتہ کچھ سالوں میں  ممبئی ،  نیویارک  سٹی ،  دبئی اور ریاض و جدہ جیسے اربن علاقوں کو ڈبو ڈالا کراچی کس کھیت کی مولی تھا ؟  یہاں تو موسمیاتی تبدیلیوں سے پہلے بھی برا حال رہا خاص طور پر جرنیل مشرف کے زمانے میں جب ایم کیو ایم کے حمایت یافتہ مصطفی کمال کراچی کے میئر تھے ایک دن میں دوسو ہلاکتیں کراچی کی بارشوں اور تیز ہواؤں کی وجہ سے ہوئیں اس دور میں پی ٹی وی نہیں بلکو یہ تمام نجی چینل موجود تھے مگر "خاموش "تھے کیونکہ "اوپر سے آرڈرز " نہیں ملے تھے اور اینکر نامی مخلوق  تعصب کیسے کر تی ؟  بھلا اپنوں سے تعصب کون کرتا ہے ؟ ؟   

 پھر سن دو ہزارتئیس  میں پیپلزپارٹی کے میئر مرتضی وہاب  کا منتخب ہونا میڈیا والوں کے لیے سوہاں روح بن گیا. اب تو ایسا لگتا ہے کہ کراچی میں بوندا  باندی ہونا بھی ایسا عذاب ہے جو نہ کہیں آیا تھا نہ آے گا. آج بھی لاہور، فیصل آباد  ڈوبتا ہے ، اسلام آباد  نالہ لیئ  بن جاتا ہے ،سوات ، مردان ،   پشاور ہرسال ڈوبتے ہیں ،  بلوچستان تو صرف ڈوبتا نہیں بلکہ بیشمار ہلاکتیں بھی ہوتی رہیں مگرصحافیوں  کو کبھی مندرجہ ذیل قسم کی ٹویٹ مسلم لیگ  نون ،  میم  ، ش  اور تحریک انصاف ع ،  پ ، ایف   کے لیے  کرنے کی توفیق نہ ہوئی 







پھر محترمہ نیوز ریڈر عرف نیوز اینکر صاحبہ کا پنجاب کی بارشوں پر ٹویٹ دیکھیں اور دماغی تعصب کا علاج بھی تجویز  کریں  مطلب کراچی میں تو "عوام ذلیل و خوار " ہورہی ہے اور پنجاب میں " پاکستانیوں "پر مشکل گھڑی ہے جسمیں یہ نیک دل خاتون اللہ سے رحم طلب کر رہی ہیں 



 سندھ کےایک علاقے میں آتش زدگی سے نو ہلاکتیں ہوتی ہیں اور مری میں برف باری میں پھنسے  بائیس مسافروں کی   ہلاکتوں کی خبر بھی آتی ہے جس پرایک طرف  خبروں  اور تجزیوں میں اردو  چینلز اپنی متعصبانہ سوچ کو ظاہر کررہے تھے  تو دوسری طرف موصوف صحافی صاحب کی ٹویٹس سے  امتیاز اور تفریق ابل ابل کر باہر آرہے تھے . ملاحظہ ہو

اور تعصب کی اس بہتی گنگا میں کرکٹر ، فنکار اور کامیڈینز بھی ہاتھ دھونے پہنچ جاتے ہیں .ان موصوف سابق کرکٹر کی عقل یہ ہے کہ بیٹھے لاہور میں ہیں ،  تصویر بھارت کی ہے اور استہزاء  کراچی کا !!!  مزید ڈھیٹائی کیا ہوگی ؟ ؟ 


سوال یہ ہے کہ قدرتی آفات ، حادثات کہاں نہیں ہوتے مگر جس طرح  تقسیم ، نفرت ، منفی سوچ اور ایجنڈا چلانے والے پاکستانی نیوز میڈیا نے قدرتی آفات اور حادثات کو اپنے مذموم مقاصد کے لیے استعمال کیا ہے اور پھر سوشل میڈیا پر  سندھ اور پیپلزپارٹی کو اپنے  لسانی اور سیاسی تعصب کا نشانہ بنایا ہے وہ ناقابل فہم ہے یعنی حقارت ،  نفرت اور نسل پرستی  کا ایک ایسا سلسلہ شرو ع کر دیا گیا ہے جو آئیندہ بھی پاکستان کی جڑوں کو کمزور کرتا رہے  گا  


جاری ہے ........




Sunday, January 18, 2026

نیت اگر خراب ہوئی ہے حضور کی................گھڑ لو کوئی کہانی ہمارے قصور کی !

بچپن میں ایک کہانی سنی تھی جس میں ایک باپ اور بیٹا اپنے پالتو گدھے کے ساتھ سفر پر نکلے تو راستے میں پڑتے گاؤں کے لوگوں نے باپ ،  بیٹے اور گدھے کو گاؤں سے گزرتے دیکھ کر آوازے کسے کہ کیا بیوقوف باپ بیٹا ہیں گدھے پر سواری کی بجاۓ ساتھ چل رہے ہیں ، بیٹے نے لوگوں کے مذاق اڑانے پر باپ سے کہا بابا آپ گدھے پر بیٹھ جائیں میں ساتھ چلتا ہو باپ نے بیٹے کو محبت سے دیکھا اور گدھے پر سوار ہوگیا دوسرا گاؤں راہ میں پڑا تو وہاں کھڑے لوگ نے کہا کیسا سخت دل باپ ہے معصوم بچہ پیدل چل رہا ہے اور باپ عیش سے گدھے پر سوار ہے باپ کو یہ آوازیں سن کر دکھ ہوا اور زبردستی بیٹے کو گدھے پر سوار کروا دیا تیسرا گاؤں راہ میں آیا تو راہ چلتے لوگ کہنے لگے کیسا ناہنجار بیٹا ملا بیچارے باپ کو ،   خود گدھے کی سواری کر رہا ہے اور بزرگ باپ پیدل چل رہا ہے یہ سن کر بیٹا شرمندہ ہوگیا اور والد سے بولا بابا  یہ اچھا نہیں ہوا گاؤں والوں کی باتیں سننے سے اچھا ہے ہم دونوں ہی گدھے پر سوار ہو جاتے ہیں سو چوتھے گاؤں  پہنچنے سے پہلے دونوں ہی گدھے پر سوار ہو گیے تاکہ اگلے گاؤں کے طعنوں سے بچ پائیں مگر لوگ ہوں اور باتیں نہ بنائیں ؟  ممکن نہیں سو اگلے گاؤں کے باہر بیٹھے بیکار گپ باز شور مچانے لگے کہ ہاۓ ہاۓ کیا ظالم باپ بیٹا ہمارے گاؤں سے گزر رہے ہیں ایک کمزور گدھے پر دونوں ہٹے کٹے سواری کر رہے ہیں ، شرم بھی نہیں آتی انکو ...... باپ بیٹا یہ سن کر سخت پریشان ہوۓ فورا گدھے سے اتر گیے مگر اب اگلے گاؤں سے گزرنے کی ہمت نہیں تھی کہ لوگوں کی ملامت  پھر سننے کو ملے سو فیصلہ یہی ہوا کہ آخری حل نکالا جائے سو گدھے کو اپنے اوپر سوار کر کے پانچویں گاؤں سے گزر جاتے ہیں لیکن تنقید کے تیر ہر گاؤں میں باپ اور بیٹے کے منتظر تھے  . آپ سوچ رہے ہونگے کہ اس کہانی کو دہرانے کا آخر مقصد کیا ہے؟  تو دوستو ! موجودہ زمانے میں سندھ حکومت کے نمایندوں  پربے جا تنقید کی زد میں آۓ ان باپ بیٹے کی آزمائش  حرف بہ حرف پوری ہوتی ہے یعنی جو کام کریں  اعتراض ، جو کام کریں اسمیں کیڑے ،   بقول شخصے " آٹا گنددے ہلدی کیوں اے 

یہ کوئی مبالغہ نہیں خاص طور پر جب آپ "اسکرین پرنمودار ہونے والےمیک اپ زدہ  اینکر نیوں اور  سوٹ میں ملبوس سینئر تجزیہ کاروں " کا تجزیہ سنیں اور دن میں تین  چیختے چلاتےنیوز بلیٹین ! جس صوبے یا شہر میں  پاکستان پیپلزپارٹی نہیں جیتتی وہاں ان  بقراطوں کے مطابق " پیپلزپارٹی کی سیاست  ختم ہوچکی  ، کیونکہ یہاں کام پر ووٹ ملتے ہیں نام پر نہیں  "  اور جہاں پیپلزپارٹی کو ووٹ ملتے ہیں وہاں " کام " پر نہیں  بلکہ وڈیروں ،  جاگیرداروں  اور عوام کی ا پنی "جہالت " کی وجہ سے ووٹ ملتے ہیں . جہاں  سندھ حکومت کی کوتاہی دیکھانی ہو وہاں لوٹ مار کا بازار گرم  " ہوگا " کی خبر چلادو اور جہاں محنت اور کام دیکھائی دیتا ہے وہاں " فوٹو  سیشن " کا الزام لگا دو یہ پاکستان کی واحد وفاقی پارٹی ہے جو قومی ،  صوبائی ، بلدیاتی الیکشنز جیت کر بھی اپنے ہی صوبے میں "غیر مقامی "کا طعنہ سہتی ہے کیونکہ صوبے میں حقیقتا " غیر مقامیوں " کی تعداد تقریبا مقامیوں کے برابر ہے شکریہ بانیان پاکستان . اور یہ بھی ایک بہت بڑی وجہ ہے کہ "آدھا بھرا گلاس "اکثر لوگوں کو آدھا خالی ہی نظر آتا ہے یہ نظر کا دھوکہ نہیں عقل کا فتور ہے  

ابھی کچھ روز پہلے اس پارٹی کے چئیرمین کو مجبورا صوبہ سندھ میں اپنی پارٹی کی کارکردگی کے بارے میں دو گھنٹے تک ملکی و غیر ملکی مہمانوں اور صحافیوں کو بریفنگ دینی پڑی ایسا کیوں ہوا اس میں ان میڈیا ہاوسز ،  اینکرز کا بہت بڑا ہاتھ ہے جو کبھی "لفافوں "کی وجہ سے تو کبھی اپنے بے تحاشہ تعصب کی وجہ سے اور کبھی  "ڈنڈے " کے ڈر سے پیپلزپارٹی حکومت  کی مثبت کارکردگی کو صفر اورحکومت کی  غلطیوں،کوتاہیوں کو سوا سو ڈگری زیادہ دیکھاتے اور بتاتے رہے ہیں اب "باپ بیٹا "  پر ان لفافہ اینکروں کا اعتراض یہ  ہے کہ بریفنگ "ایوان صدر " میں کیوں دی ؟  اور اگر اسکا جواب بھی مل جاۓ کہ سفارتکاروں  کی سیکیورٹی بہت اہم ہوتی ہے تو پھر سوشل میڈیا  پر جمائیاں لیتی مہر بخاری اور حامد میر  وائرل کیے جاتے ہیں مطلب کہ  کسی حال میں یہ "گاؤں والے " راضی نہیں ہیں اوپر سے تین کروڑ کی آبادی میں بدقسمتی سے  کوئی حادثہ  پیش آجاۓ توقومی میڈیا والوں کی پانچوں  گھی میں اور مخالف سییاسی گروہوں کے سر کڑاہی میں !!   وہ ننھے ابراہیم کی ناگہانی موت ہو یا گل پلازہ میں لگی آگ ... ہر چینل نے  اشتہاروں کی لائینیں  لگائیں  ،  اینکروں نے سوشل میڈیا پر "کلک " سمیٹے اور سیاسی مخالفین نے اپنی فتح اور حکومت سندھ کی شکست کے دعوے کیے   

امر واقعہ یہ ہے کہ پورے پاکستان میں نہ کوئی شہر کوپن ہیگن  ہے اور نہ کوئی صوبہ  برٹش کولمبیا . ہر صوبہ پسماندہ اور ترقی پزیر شہری  ودیہی علاقوں کا مجموعہ ہے ہر صوبے کے عوام معاشی اور معاشرتی مشکلات میں اسی طرح گھرے ہیں جیسے کہ تیسری دنیا کے دوسرے ممالک کے عوام !ہر شہر میں گٹروں پر سے ڈھکن غایب ہوتے ہیں ،  ہر محلے میں دو چار پاگل کتے موجود ہیں ، بچے بڑے ان  حادثوں کا شکار بھی ہوتے ہیں ،  اور یوں قومی طور پر  دہشت گردی اور سیاسی رسہ کشی ہمیں اکثر تمام تر مثبت کوششوں کے باوجود ،  دوبارہ سے کئی سال پیچھے لے جاتی ہیں . 

لاہور ،  کراچی ، راولپنڈی ،  کویٹہ ، پشاور مالی لحاظ سے چھوٹے شہروں اور دیہی علاقوں کو پرکشش محسوس ہوتے ہیں اور کیونکہ روزگار کی تلاش میں آتے افراد اپنے خاندانوں کے ہمراہ کم ہی ہجرت کرتے ہیں تو ایسے میں یہ شہر ان افراد کے لیے "اجنبی " رہتے ہیں نہ ان کو شہر کی صفائی کا لحاظ ہوتا ہے نہ امن و امان کا ایسے میں کراچی جو پورے پاکستان بلکہ پاکستان سے باہر کے لیے بھی ایک بہتر روزگار اور نسبتا سستی بود باش کی منزل ہے یہاں ایسے لوگوں کی تعداد سیکڑوں یا ہزاروں میں نہیں بلکہ لاکھوں میں ہے  اور جہاں لاکھوں لوگ گھر کو سراۓ سمجھ لیں وہاں کا حال " کراۓ کے گھر "جیسا ہی ہوتا ہے اور یہ کوئی انہونی نہیں ! ایسے شہر کے حالات  کو ان شہروں سے ملانا جہاں نہ  کروڑوں کی آبادی ہے اور نہ ہی کثیر السانی اور متنوع سیاسی نظریات کے حامل گروہ ،  یہ سراسر ناانصافی ہے  

پاکستان پیپلزپارٹی کے نوجوان چئیرمین نے اپنے صوبے میں بہت سے ترقیاتی منصوبوں کے بارے میں مثبت اعداد و شمار تو دیے مگر صوبے نے جن مشکلات کا سامنا ناگہانی آفات  اور دھشتگردی کی صورت میں کیا ان میں وہ  بیس سالہ  " فوجی حکومتوں" اور ریاست کی آشیر باد سے کی جانے والی " ہڑتالوں " کا ذکر کرنا یا تو بھول گیے یا پھر ماضی کا قصۂ سمجھ کر نظرانداز کر گیے جب کہ یہ وہ عوامل تھے  جن کی وجہ سے انکا صوبہ ترقی کا وہ سفر نہ کرسکا جو کہ اس کا حق تھا 

جرنیل ضیا کا دور صوبہ سندھ  کی معاشی، معاشرتی ،  سیاسی اور نظریاتی  ترقی کے لیے بدترین دور تھا ان دس برسوں میں سندھ میں نہ کوئی تعلیمی کام ہوا نہ صحت عامہ کی بھلائی کا کوئی کارنامہ کسی بھی سطح پر متعارف کروایا گیا بلکہ سیاسی کارکنان ،  طلباء ، مزدور لیڈروں اور تو اور اساتذہ کے لیے بھی یہ وقت  ترقی معکوس کا دور رہا .اس دوران  پنجاب کے لیے معاشی ترقی کے دروازے کھولے گیے ، یہ درست ہے کہ  نظریاتی اور سیاسی طور پر پنجاب کو اسی عرصے میں بانجھ کردیا گیا،  جہاں سندھ  کے شہروں کواس دوران  لسانی سیاست میں الجھا کر "بھتہ خوری ،  ٹارگٹ کلنگ اور بوریوں " سے تباہ کیا گیا وہاں پنجاب میں " لفافوں اور بریف کیسز " کی سیاست نےقدم رکھے اور آج  بھی ہم کو پنجاب کی زرخیز زمین پر نظریاتی سیاست کرنے والا کوئی سورما نہیں ملتا نہ ہی ایسے جی داروں کو عوام میں پزیرائی ملتی ہے مگر یہ پنجاب کی عمومی اور لاہور کی خصوصی حالت جرنیل ضیا کے دور میں باقی صوبوں سے بہت بہتر رہی سندھ تو خیر ضیا کے ٹارگٹ پر تھا مگر پختونخواہ  اور بلوچستان کا بھی کچھ ایسا ہی ملا جلا معاملہ رہا . پختونخواہ کو افغان جنگ میں جھونک کر تباہ کیا گیا اور بلوچستان کے وسایل کی ریاستی سطح پر لوٹ مار جاری رہی ،  اپنے ہمنوا سرداروں کو بیچا خریدا گیا جب کہ عوام کے لیے آواز اٹھانے والے لیڈران کو پچھلے ادوار کی طرح  اس بار بھی صوبائی اور قومی سطح پر آنے سے ریاستی مشینری کی مدد سے روکا گیا یہ  اثرات ابھی تک ان صوبوں کی ترقی میں حایل ہیں

مشرف دور بھی صوبہ سندھ کے لیے نہ صرف معاشی حساب سےنقصان میں رہا بلکہ جرنیل مشرف نے ایک لسانی جماعت کو اپنی چھپر چھاؤں میں جس طرح پھلنے پھولنے کا موقع فراہم کیا اس سے امن و امان قایم کرنے والی پولیس کی کمر ٹوٹ گئی ، تھر میں تاریخ کا بدترین قحط ہو یا سندھ ڈیلٹا  میں مینگرو جنگلات کی تباہی یا ٹھٹہ ، بدین سے لاڑکانہ تک بارشوں اور سیلاب کی تباہ کاریاں ،اور ہلاکتیں  مشرف کی وفاقی اور متحدہ قومی موومنٹ کی صوبائی حکومتیں تو ان تمام ہلاکتوں اور ناگہا نیوں کو نظر انداز کرتی ہی رہیں مگر آپ اپنے اس "نام نہاد آزاد نیوز میڈیا " کی مجرمانہ خاموشی ملاحظہ فرمائیں جو آج کسی کینٹر ،  کسی گٹر اور کسی اسٹریٹ کرائم سے ہوئی ہلاکت پر تو ہیڈ لاینز بھی دیتا ہے اور ہفتے کے آٹھ ٹاک شوز بھی کر گزرتا ہے مگر دوہزارتین اور دو ہزار پانچ  کی طوفانی بارشوں ، ،  سیلاب کی تباہ کاریوں سے ہوئی سندھ بھر کی ہلاکتوں کا شاید آپ قارین کو پتہ تک نہ ہوگا ہزاروں اسکول ،  ڈسپینسریاں ،  دفاتر ،  کاروبار ان ناگہانی آفات میں صفحہ ہستی سے مٹ گیے نہ حکومتیں مدد کو آئیں نہ بین الاقوامی ادارے کیونکہ صوبے پرجو لسانی جماعت اور نااہل مسلم لیگی ٹولہ  قابض تھا  اسکو  فی الحال  پورے صوبے کے بجٹ کو صرف ایک شہر کے کچھ علاقوں کی سڑکوں ،  انڈر پاس اور اوورہیڈ برجز پر بہا دینا تھا

ذیل میں ان تباہیوں کے بارے میں خبریں ہیں  جو صوبہ سندھ پر وارد ہوئیں. اس دور میں نقصانات کا علم میڈیا کی "سردردی "تھا نہ صوبائی اور وفاقی حکومت کا !  سندھ کے بےبس عوام کسے وکیل  کرتے اور کس سے انصاف مانگتے ؟  


The 2003 floods in Sindh, Pakistan, were a catastrophic, climate-driven event occurring in late July and August of that year, resulting in widespread devastation, significant loss of life, and massive destruction of property and agriculture. The disaster was characterized as the worst monsoon in the region in nearly a decade. 
12 August 2003: Relief Web

According to the Emergency Relief Cell of the Sindh Government the recent floods have affected a total of 4,791 persons from 74 villages of 4 districts of the province. The Revenue Department informed that already some 90% of areas with mud houses have submerged. A total of 326 large and 1,500 small villages, 171 primary schools, 43 middle schools, 125 police check posts, and 26 police stations have been inundated in the 17 districts of Sindh.The flood-affected people in Sindh Province have not yet received emergency assistance from Government or NGOs.                                                                                                                                          5 August 2005 :Relief Web

The drought of 1998-2002 was the worst drought to hit Pakistan since its 50 years of existence. The province of Balochistan and Sindh were most badly affected, where 26 districts of Balochistan suffered from severe famine. In Sindh, Tharparkar was the most affected district. Hundreds of thousands of houses were damaged, thousands of acres of crops destroyed and livestock killed. This drought was estimated to have affected about a total of 3.3 million people; hundreds of which died of thirst and starvation and thousands were left homeless.                                                                                                        

                                                                            20 July 2018     https://cscr.pk/

ان دو جرنیلوں کے نحس ادوار کے درمیان جو منتخب حکومتیں گزریں ان کا تمام وقت رسہ کشی میں گزرا اور چونکہ سندھ کے  معاشی مرکز پر قابض لسانی تنظیم زبان کے نام پر ووٹ لے چکی تھی لحاظہ اسلام آباد میں حکومت کسی کی بھی ہو لیکن  کل وقتی بلیک میلنگ ہی اس  لسانی پارٹی کا منشور بن گیا تھا. مہینوں تک  ہر ہفتے  دو دن ہڑتالیں کرنا،  سڑکوں پر محنت کشوں کا قتل عام ،  لوہے کے گیٹ لگا کر پورے علاقے کو اپنی مرضی سے جب چاہے بند کردیا جاتا .سرکاری زمینوں پر قبضے ،  بوریوں میں لاشیں ،  سرکاری ملازمین کا دفتروں میں قتل عام....  یوں  شہر کراچی کو معاشی ،  سیاسی اور معاشرتی بد حالی کے اندھے کوئیں میں دھکیل دیا گیا جس کے اثرات پھر پورے ملک میں  ظاہر ہوے 

اسمیں کو ئی دو راۓ نہیں ہوسکتی کہ کراچی  شہرکی بربادی پورے  صوبے کی تباہی بن گئی . ملک کی باری تو بہت بعد میں آتی ہے پہلے تو اس شہر کی بربادی ہوتی ہے جہاں کاروبار تباہ ہوتا ہے ،  لوگ بیروزگار ،  پبلک ٹرانسپورٹ  کو ہر دوسرے  دن جلایا جاتا رہا  اور تعلیمی ادارے تا حکم ثانی بند رہے اور پھر اس تباہی کے اثرات صوبے کی سطح پر ظاہر ہونا شرو ع ہوجاتے ہیں جہاں  مختلف شہروں اور دیہاتوں  میں اسکے اپنے  شہریوں کی لاشیں وصول ہوتی ہیں اس  بےیقینی،  خوف اور تقسیم کی سیاست نےصوبہ سندھ کو کم سے کم تیس سال تک اپنی لپیٹ میں لیے رکھا ایسے میں کوئی مخبوط الحواس یوٹیوبر ،  لفافہ صحافی ،  متعصب سوشل میڈیا ٹرول یا  مفاد پرست سیاستدان تو صوبہ سندھ یا اسکی زخمی معاشی رگ کراچی پر انگلیاں اٹھا سکتا ہے کوئی دماغ والا شخص نہیں . قارین ! اگر آپ  صوبہ سندھ کے علاوہ کسی دوسرے صوبے یا کراچی کے سوا کسی بھی دوسرے پاکستانی شہر کی  یہ تاریخ دیکھ چکے ہیں  تو اس شہر اور صوبے کا نام ضرور بتائیں اور یہ بھی کہ وہاں ان مشکلات اور مسایل کے بعد آج  کتنی مایہ ناز ترقی ہوچکی ہے ؟  

آج جو بہتری بھی سندھ میں نظر آرہی ہے یہ  ایک طویل  طوفانی رات کے بعد کی رو پہلی صبح ہے جب انسان اپنی ہمت باندھ کر کام شرو ع کرتا ہے اور رات کو گزرنے والی تباہ کن آندھی میں ہونے والی ٹوٹ پھوٹ کا جایزہ لے کر قدم بڑھاتا ہے تو وقت بھی لگتا ہے اور طاقت بھی ،  پلاننگ بھی ضروری ہے اور وسایل بھی چاہیے ہوتے ہیں .  ابھی کوئی کام بھی مکمل نہیں  ہوا،  ابھی شروعات ہے. پچھلے تیس سال کی بربادیوں کو پندرہ سال میں کون مکمل درست کرسکتا ہے ؟  یہ سب میرا آنکھوں دیکھا ہے ،  آج کی نسل نے تو وہ بھی نہیں دیکھا جو ہم سب دیکھتے رہے ہیں اور پھر ہم سے پہلی نسلوں نے تو سندھ کو   ون یونٹ کے خلاف ،  مشرقی بنگال کے حق میں،  مارشل لا کے خلاف ،  اپنی شناخت ،  اپنی زبان  اور جمہوریت کے لیے طویل جدوجہد کرتے دیکھا تھا جب کہ  پاکستان کے  پنجاب کی تاریخ میں ایسی کسی جدوجہد کا ذکر نہیں جسمیں عوام نے تیس چالیس برس تک  مسلسل معاشی ،سیاسی ،معاشرتی اورتعلیمی زک اٹھائی ہو .... لسانی تنظیموں اور دہشت گردی سے نبرد آزما رہے ہوں ،  ون یونٹ سسٹم اورفوجی طالع آزماؤں کے خلاف سر پر کفن باندھے  ہوں !!  اب ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ حقوق اور جمہوریت کی  طویل جدوجہد میں صوبہ  سندھ کی قربانیوں اور جدوجہد کے نتیجے میں ہونے والے  معاشی اورتعلیمی نقصانات،  امن وامان  کے دیرینہ مسائل کی اصل وجوہات  آئیندہ نسلوں کو قومی میڈیا کے ذریعے بتا کرسندھ اوراسکے عوام کو انکی لامتناہی قربانیوں کا بہترین صلہ دیا جاتا مگر ہوا کیا ؟ ؟ ؟   ان چینلز پر بیٹھے افلاطونوں  نے  سندھ  کو پچھلے چوبیس پچیس سال سے کچے کے ڈاکوؤں،  تھرمیں بھوک، کراچی میں گٹروں کے لاپتہ  ڈھکنوں اور لاڑکانہ میں کتے کے کاٹے کی ویکسین نہ ہونے پر اس طرح لتاڑتا ہے جیسے باقی پاکستان تو  یورپ ،  کینڈا یا جاپان  بن چکا ہے،   جہاں کوئی مسلہ ہے ہی نہیں  اور پھر ایسے منفی ماحول میں سوشل میڈیا پر اداروں اور مخالفین کے "سدھاۓ " ٹرولز جلتی پر تیل ڈالنے کا کام کرتے جاتے ہیں. تعصبی مخالفین تو سمجھ آتے ہیں مگر یھاں تو  کچھ  بے صبرے اور ناشکرے  نادان دوست بھی موجود ہیں جو  سب کچھ جانتے بوجھتے سندھ کے خلاف سازشیوں اور نفرت پھیلانے والوں کا آلہ کاربن  رہے ہیں ان کم عقل لوگوں پر افسوس ہی کیا جاسکتا ہے جو اپنے صوبے پر برا وقت تو خاموشی سے دیکھتے رہے اوراب نسبتا '' بہتر  وقتوں میں ماتم کناں ہیں

 یا رب وہ نہ  سمجھے ہیں نہ سمجھیں گے میری بات ......... دے اور دل انکو جو نہ دے مجھ کو زباں اور 

  نوٹ :  اس بلاگ میں سن دوہزار سات سے صوبہ سندھ  اور خاص طور پر کراچی میں برپا  ہونے والے   مذہبی ، سیاسی اور لسانی دہشتگردی پر تفصیلی بحث نہیں کی گئی اور نہ ہی دو ہزار دس اور دو ہزار بائیس کے اندوہناک سیلاب کا ذکر کیا گیا ہے بوجہ طوالت  

Sunday, June 29, 2025

اظہار ہمدردی مگر کب تک ؟

  پہلے وہ سوشلسٹوں کےپیچھے  آ ئے ، میں نہیں بولا کیوں کہ میں سوشلسٹ نہیں تھا،  پھر وہ ٹریڈ یونینسٹ کے  پیچھے آ ئے میں  چپ رہا  کیوں کہ میں ٹریڈ یونینسٹ  نہیں تھا ، پھر وہ یہودیوں کے پیچھے  آ ئے میں جب بھی نہیں بولا کیوں کہ میں یہودی نہیں تھا  اورپھر وہ مجھے لینے آگیے ....لیکن تب تک کوئی نہیں بچا تھا جو میرے لیے کچھ بولتا  ...... جرمن پادری مارٹن نیمولر کی یہ نظم آپ سینکڑوں نہیں ہزاروں بار سن چکے ہونگے ہوسکتا ہے پچھلے کچھ برسوں میں آپ یہ نظم کسی نہ کسی سیاسی ، لسانی ، مذہبی یا سماجی مسلے پر گفتگو کے دوران اپنے اردگرد بیٹھے افراد کو سنا بھی چکے ہوں کیوں کہ یہ نظم ایک آفاقی حقیقت کو بیان کرتی ہے، یہ  ہمیں عمومی حالات میں بہت سے سبق دیتی ہے مگر آج کل پاکستان کے جو سیاسی حالات  ہیں اسمیں  تو یہ بہت سے لوگوں کا قومی  ترانہ بھی بن سکتی ہے  
سن دو ہزاراٹھارہ کے انتخابات کے بعد تحریک انصاف کی حکومت  وجود میں آئی جس کو ریاستی اداروں کی مکمل حمایت حاصل تھی اور شاید پہلی بار پاکستان کے غیراعلانیہ مگر طاقتور ترین "ادارے " یعنی میڈیا کی مکمل آشرباد بھی حاصل تھی کسی کو بھولنے کا مرض ہو تو ہو مگر جن کی یاداشت کچھ کام کرتی ہے وہ اس معاملے میں بلکل واضح ہیں کہ عمران خان اور انکی حکومت کی نالائقی اور نااہلی  کو تقریبا تمام چینلز نے کسی  بھی ٹاک شو  یا  نیوز بلیٹن میں عوام کے سامنے اس انداز سے لانے کی کوشش نہیں کی جیسے کہ پیپلزپارٹی کی حکومت کے ہر روز بخیے ادھیڑے جاتے تھے. نواز لیگ کو یقینن ریاستی اداروں اور میڈیا کی طرف سے اتنی مخالفت کا سامنا نہیں کرنا پڑا جتنا پیپلزپارٹی کو مگر بہرصورت "لاڈلے" جتنی محبت انکے حصے میں بھی  نہیں آئی تھی اپنے دور حکومت میں جوکچھ  تحریک انصاف کے وزیراعظم اور وزراء نے اپنے سیاسی مخالفین ، مخالف راۓ رکھنے والے صحافیوں اورسوشل میڈیا آیکٹیوسٹس کے ساتھ روا رکھا وہ اپنی جگہ مگر عوام کے 
مختلف گروہوں مثلآ کسانوں، مزدوروں، ہیلتھ  ورکرخواتین ،سرکاری ملازمین ،خواجہ سراؤں اور سیاسی کارکنوں کے ساتھ جو بدسلوکی اور ناانصافی روا رکھی تھی وہ ہماری یاداشت میں محفوظ ہے
اگر آپ یہ بلاگ پڑھ رہے ہیں تو یقینن آپ ان سیاسی حالات سے بھی واقف ہونگے جو اس وقت ملک خدا داد کے طول و عرض میں پھیلے ہیں اور سوشل میڈیا اور الیکٹرانک میڈیا پر نان سٹاپ ہوتی اس بحث کے بارے میں بھی بہت اچھی طرح جانتے ہونگے جس میں تحریک انصاف کے حالیہ اسٹیبلشمنٹ کے ہاتھوں معتوب رہنما اور انکے سرکردہ سوشل میڈیا ایکٹیوسٹ مسلسل ایک بیانیہ بنا رہے ہیں کہ "ایسا ریاستی ظلم و ستم تو پاکستان کی تاریخ میں کبھی نہ ہوا جو کچھ ہمارے ساتھ ہورہا ہے " ہوسکتا ہے آپ بحث کا حصہ ہوں  اگر پاکستان کی سیاسی تاریخ کا علم رکھتے ہیں تو اس بیانیے کے خلاف آپ کے پاس ہزاروں دلائل ہونگے اور اگر اس بیانیے کی حمایت کرتے ہیں تو آپ کو مطا لعہ وسیع کرنے کا مشورہ دیتی ہوں مگر ان دونوں انتہاؤں کے درمیان بہت سے ایسے لوگ بھی ہیں جن کو تاریخ میں سیاسی پارٹیوں پر ناحق ظلم و ستم ہونے کا علم بھی ہے اور تحریک انصاف کے چئیرمین کی طرف سے اکسانے والے بیانات کی خبر بھی مگر انکو ہلڑ بازوں اور انکی سرکردگی کرنے والی خواتین و حضرات سے  انسانی ہمدردی بھی محسوس ہورہی ہے وہ سمجھتے ہیں کہ یہ جبر ریاست کا پرانا ہتیار ہے جو وہ بد ل بدل کر مخصوص حالات میں اپنی طاقت اور قبضے کو قائم رکھنے کے لیے استعمال کرتی ہے  
ایسے لوگ درست سمجھ رہے ہیں جی ہاں بلکل ایسا ہی ہے کہ ریاست قانون کی دھجیاں اڑاتی رہی ہے کبھی اس کے نشانے پر بنگال کے سیاسی باشعور عوام تھے تو کبھی حقوق کی جدوجہد کرتے بلوچ  اور کبھی جمہوریت کی شمع کو اپنے خون سے جلاتے سندھ کے جمہوریت پسند عوام .  تاریخی ظلم و ستم سے سیاسی پارٹیاں بھی نبرد آزما رہی ہیں اور یہ کوئی دوسو سال پرانی بات نہیں کہ صرف کتابوں میں ملے بلکہ آج بھی وہ کارکنان اور رہنما حیات ہیں جن کی پیٹھ پر کوڑے برسے اور جن کے پیارے جمہوریت اور حقوق کی جدوجہد میں سولیوں پر جھول گیے 
اب مسلہ یہ ہے کہ تحریک انصاف کے جن " مظلومین " سے ہم سب اظہار ہمدردی کرنا چاہ رہے ہیں وہ اپنے دور حکمرانی کے بدصورت رویۓ پر بلکل بھی شرمندہ نہیں اور نہ ہی انکو  آج بھی احساس ہے کہ  ریاستی جبر کے سامنے عوامی اتحاد ہی ٹھر سکتا ہے اور عوامی اتحاد  کبھی بھی سیاسی نفرتوں ،  لسانی تقسیم اور الزامات کی سیاست کو پروان چڑھانے سے حاصل نہیں ہوتا 
سیاسی شعور تقاضہ کرتا ہے کہ جس شاخ  پر آپ نے اپنا آشیانہ بنانا ہے اس پر کلہاڑی مت  چلائیں کہ ایسا کرنا  سیاسی جہالت ہے. اپنی مخالف سیاسی پارٹیوں کی حمایت  پر عوام کو گالی گلوچ دینا ، انکے پسندیدہ رہنماؤں پر الزا مات کی بوچھاڑ کرنا، ہرالیکشن میں اپنی شکست کو "دھاندلی" اور دوسرے کی شکست کو "عوام کا فیصلہ " قرار دینا ،  اپنے لیڈر کی بیماری کو حقیقی اور مخالفین کی بیماری کو "ڈرامہ " کہنا ، حریف جماعتو ں کے رہنماؤں کی موت کی تمنا کرنا، اپنی سیاسی جدوجہد کو تاریخی اور دوسروں کی تاریخ پر ٹھٹھے بازی کرنا   ...سو مختصر یہ  کہ ایسا چھوٹا پن آپکو تاریخی طور پر تنہا کر رہا ہے 
آج اگرعوام  و خواص کا کوئی حصہ تحریک انصاف کے رہنماؤں ،کارکنوں یا سپورٹرز کے ساتھ دلی ہمدردی بھی رکھتا ہے تو ایسے افسوسناک رویے میں مستقل مزاجی اس پارٹی کو جلد ایسی نہج پر لے آ ئے گی کہ......"  اورپھر وہ  مجھے لینے آگیے ....لیکن تب تک کوئی نہیں بچا تھا جو میرے لیے کچھ بولتا " صد افسوس    

Friday, April 18, 2025

کامیاب سیاستدان کون ؟ ذوالفقار علی بھٹو یا آصف علی زرداری

پاکستان کی سیاسی تاریخ میں چند ہی  نام ایسے ہیں جنکو وقت کی گرد دھندلا نہ سکی ان میں سر فہرست ذوالفقار علی بھٹو کا نام ہے انکی پیدایش کو نو دہائیوں سے زیادہ عر صہ  گزر چکا اور ان کے عدالتی قتل کو چالیس سال  سے زیادہ مدت ہوچکی  مگر آج بھی  سیاست ، ریاست، اقتدار اوراختیار کے میدانوں میں بھٹو کا نام گونجتا ہے . دوست ہو یا دشمن ، عوام کے درمیان دھواں دار خطاب کرتا سیاسی حریف ہو یا پارلیمان میں نپے تلے الفاظ بولنے والا حکومتی ممبر کہیں نہ کہیں ، کبھی نہ کبھی بھٹو کا تذکرہ ضرور آتا ہے ، میڈیا پر بیٹھے گھا گ صحافی ہوں یا یوٹیوب کے کلکس پر انحصار کرتے نئی نسل کے نوجوان یہ ہو نہیں سکتا کہ ذوالفقار علی بھٹو کے تذکرے کے بغیر کسی بھی  سیاسی موضوع کو زیر بحث لائیں

مگر ایک تلخ حقیقت پر روشنی ڈالنا سب بھول جاتے ہیں کہ   ٹوٹے پھوٹے  پاکستان کے پہلے منتخب وزیراعظم، کامیاب لیڈر تو تھے مگر  وہ پاکستان کے زمینی حقایق، مفاد پرست ٹولوں ، بے حس اداروں اور خودغرض عوامی جتھوں  کی سمجھ بوجھ  رکھنے والے کامیاب سیاستدان نہیں تھے . شکست خوردہ قوم کے بدن میں ولولہ و عزم کی روح پھونکنے والا  لیڈراگر صرف چھ سال کی مختصر مدت میں کال کوٹھری تک پہنچ گیا تو سوچیں کہ اس نے کیسی سیاست کی ہوگی ؟ ؟  ظاہر ہے اسکی سیاست ناکام رہی ہوگی  اس لیے نہیں کہ وہ شخص ذہین ومدبر سیاستدان نہ تھا کیونکہ وقت نے ثابت کیا کہ  بھٹو صاحب اگر دنیا کے کسی اور ملک میں سیاستدان ہوتے تو اپنی عوامی سیاست کے کامیاب ترین  کھلاڑی ہوتے،  مگرپاکستان کی سیاست میں وہ لیڈر ہوتے ہوۓ بھی ، اناڑی ثابت ہوے اگر ہم یہ  کہیں کہ ان سے کہیں بہترانکے داماد نے پاکستانی سیاست کو سمجھا اور کامیاب سیاستدان ثابت ہورہے ہیں تو یہ مبلغہ آرائی نہ ہوگی 

 پاکستان کی تاریخ میں پہلا منتخب صدر جس نے نہ صرف اپنی جمہوری مدت پوری کی بلکہ دوسری بارمنتخب صدر ہونے کا نایاب ترین اعزاز بھی حاصل کیا ہے جب کہ گیارہ بارہ سال کی پس زنداں ریاضت میں بھی کامیاب رہا ، سیاسی مخالفین کو ناقابل یقین حد تک اپنا گرویدہ بنالینا ایک سیاستدان کی کامیابی نہیں تو کیا ہے ؟ ؟  قارئین کواعتراض ہوسکتا ہے کہ  زرداری صاحب "لیڈر " نہیں ! جی بلکل درست بات ہے ایسا ہی ہے  نہ وہ لیڈر ہیں نہ  کبھی موصوف نے قوم کی رہنمائی کا دعوی کیا ہے ہم نے بہت ہی کم کم صدرکوعوام میں گھلتے ملتے دیکھا ، کوئی تحریک، کوئی دھرنہ  یا احتجاج ؟ نہیں ! اور ہر سیاستدان کے لیے ضروری بھی نہیں .ہمارے سامنے قائداعظم کی مثال موجود ہے بلکہ قاید تو زرداری صاحب سے ایک قدم آگے نکل گیے تھے کہ کبھی جیل کا منہ بھی   نہ دیکھا تھا کم ازکم زرداری صاحب نے جیل میں  تشدد کا سامنا کر کے "لیڈروں "والی  کوئی صفت  تواپنائی ، آپ کہیں گے پاکستان کی سیاسی تاریخ میں کم ہی کوئی اسٹیبلشمنٹ ، پریس،  الیکٹرونک میڈیا اور سیاسی مخالفین کے ہاتھوں اتنا  بدنام ہوا ہے ،  جی ہاں ! حقیقت یہی ہے کہ "  بدنام اگر ہوں گے تو کیا نام نہ ہو گا " سو  دو بار منتخب ہونے والے اسلامی جمہوریہ پاکستان کے صدر کی سیاسی کامیابی بھی یہی ہے کہ جو اسٹیبلشمنٹ اپنی  زرخرید  پریس اور کالم نویسوں  کے ذریعے جناب کو" مسٹر دس فیصد "، "پلے بواے " اور "دنیا کا کرپٹ ترین انسان "قرار دلوا چکی ، اپنی ایجنسیوں اور اداروں کی مدد سےبغیر ثبوتوں کے کبھی  کسی جج ،  کسی سیاسی حریف ، کسی بزنس مین،  کسی رشتےدار تک کے قتل میں ملوث کرنے کی کامیاب سازشیں  بھی کرچکی وہ  آخر کار آصف علی زرداری کی کامیاب سیاست کا شکار ہوکر ان کو صدر بننے سے روک نہ سکی  اور وہ بھی ایک بارنہیں دودو بار 

سو قارئین محترم ! اس  فیصلے کا بال اب آپکی کورٹ میں ہے کہ کیا ایک بدترین شکست سے دوچار ، برباد معیشت والی سرزمین بے آئین کو چھ سال میں اپنے پیروں پر کھڑا کرنے والا لیڈر جو ایک عدد جھوٹی ایف آئی آر کا شکار ہوکر پھانسی پاگیا کامیاب سیاستدان تھا؟  یا عوامی حلقوں میں دانستہ بدنام کیا گیا کمزور ڈومیسائل کا حامل شخص جو بار بار اپنی کامیاب سیاست سے پاکستانی اسٹیبلشمنٹ اور سیاسی مخالفین  کو مجبورکردیتا ہے کہ وہ اسکے در پر اپنا اپنا کشکول لیکر پہنچ جائیں اور ملک کی  ڈولتی کشتی کو کچھ عرصے کے لیے مزید سہارا مل جائے . کاش کہ آج پاکستان کے مقبول ترین لیڈر ذوالفقار علی بھٹو حیات ہوتے تو ہم ان کی بے پناہ ذھانت کا فایدہ اٹھاتے ہوۓ ان سے ضرور دریافت کرتے کہ آپکا جناب آصف علی زرداری کی کامیاب ترین  سیاست کے بارے میں کیا خیال ہے؟  

Wednesday, April 9, 2025

موت کا ایک دن معین ہے .....

 بزرگوں نے فرمایا تھا  " دشمن مرے تے خوشی نہ کرئیے سجناں وی مر جانا " یہ حقیقت عام گناہگار،  خطاکار  انسانوں پر ہی پوری نہیں ہوتی بلکہ انبیاء اور اولیاء بھی موت سے فرار حاصل نہ کرسکے اور اسکو رب جلیل سے ملاقات کا ذریعہ قرار دیا گیا 
 مسلمان معاشرے میں تو یوں بھی ایک جمله زبان زد عام ہے کہ " موت برحق ہے " لیکن بہت ہی افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ جیسے جیسے پاکستانی معاشرے میں روایات اور اخلاقیات زوال پزیر ہیں اسی طرح دین اسلام کی بنیادی تعلیمات بھی تیزی سے مفقود ہوتی جارہی ہیں جس میں سے ایک موت کی حقیقت کا اقرار ہے بلکہ یوں کہنا چاہیے کہ اپنے اور اپنے پیاروں کے لیے موت کا انکار لیکن اپنے مخالفین کی موت کے لیے "خس کم جہاں پاک" کے  مقولے کی تکرار!
 ایک مسلمان کا ایمان ہے کہ  کس کی موت کہاں اور کس حال میں آنی ہے اسکا علم صرف اللہ تعالی کو ہوتا ہے . اچھے زمانوں میں سختی سے اس بات پر توجہ دلائی جاتی تھی کہ موت کی وجوہات اور حالات پر تمسخر نہ کرو کیونکہ اسکا اللہ کے راضی ہونے یا اسکی ناراضگی سے کوئی تعلق نہیں بلکہ اللہ کے بہت ہی پیارے بندے بڑی بےسروسامانی اور کسمپرسی میں اسکو پیارے ہو گیے کسی کی میت دشمنوں نے روند دی تو کسی کا کلیجہ چبایا گیا کسی کا جنازہ اور تدفین بھی ہفتوں بعد ہوئی تو کسی اللہ والے کو کفر کے فتوی لگا کر پتھروں میں دفن کردیا گیا سو کون جانے کسی کی موت کیونکر ایسے ہوئی اور میت کیوں کسی راہ چلتے مسافر نےزمین کھود کر دفنا دی ہاں ایک ایسا جواز ہے جو  بتاتا ہے کہ مرنے والا رب کو کتنا عزیز تھا ،  اسکی موت رائیگاں نہ تھی اور وہ ہے اس جانے والے کا نام ، اسکے نظریات ، اسکی پیچھے رہ جانے والی نیک نامی 
ویسے تو ہمارے پاکستانی معاشرے میں اپنے دشمن کو موت کی بد دعا دینا کچھ نیا نہیں لیکن یہ عادت عموما ناخواندہ یا  دیہی علاقوں کے لوگ  یا پھرمالی طور پرکافی  کمزور افراد  میں پا ئی جاتی تھی آجکل سوشل میڈیا کا دور ہے جس میں لوگوں   کی اکثریت اپنے چہروں اور نام سے نہیں جانی جاتی اور" نامعلوم  صارف" اپنی اصلیت پر بآسانی اتر سکتا ،  سو ایسے میں ہم دیکھتے ہیں کہ  فقہی،  مذہبی ، نسلی یا جانی دشمنی تو چھوڑیں سیاسی اختلافات جو کہ ہماری روزمرہ زندگیوں میں سطحی اہمیت  رکھتے ہیں ، وہ بھی ان نامعلوم اور بعض اوقات  معلوم سوشل میڈیا صارفین کو پاکستان کے کسی چھوٹے سے گاؤں کی ناخواندہ ، غربت کی ماری،   پریشان حال ایسی کمزورعورتیں بنا دیتے ہیں جو ہر آتے جاتے کو کوسنے ، گالیاں، ملامتیں اور موت کی بد دعا ئیں دیکر اپنی ناآسودہ زندگی کا بدلہ لیتی ہیں 
سوشل میڈیا پر موجود یہ صارف اپنے ناموں یا پروفائل پکچرز سے موجود ہوں یا نہیں مگر یہ ثابت شدہ ہے کہ تمام ایسے افراد سو فیصد پڑھے لکھے ہیں تبھی سیاسی اختلاف پر مخالف لیڈرشپ کی بیماری کا مذاق اردو اور انگلش میں لکھ کر اڑاتے ہیں ،  کھاتے پیتے گھرانوں سے تعلق ہے تبھی صبح سے شام تک ایکس ،  فیس بک اور یوٹیوب  موجود رہتے ہیں نہ کہ محنت مزدوری سے اپنے بچوں کا پیٹ پال رہے ہوں ، یہ نسبتا ''آسودہ زندگیاں گزارنے والے جگت باز سوشل میڈیا کے  ذریعے سیاسی مخالف دھڑے  کے لیڈرکو موت کی بد دعا دیتے ہیں ، وہ ہسپتال میں ہو تو خوشی کا اظہار کرتے ہیں اور اسکے مرنے کی خواہش ظاہر کرتے ہیں یہ افراد کسی گاؤں میں نہیں بلکہ بڑے بڑے شہروں میں یا بیرون ملک رہتے ہیں ، شوپنگ مالوں سے خرید و فروخت کرتے ہیں ،  فوڈ چین سے آرڈرز پر پیزا منگواتے ہیں مگر کسی سیاستدان کی موت کی خواہش پر ٹوک دو تو کہتے ہیں " کیوں نہ کریں بد دعا ؟   یہ تو کرپٹ ہے ، ہمیں غربت میں دھکیلا ہے،  ہمارا خون چوسا ہے" آپ ایسے میں کیا جواب دیں ؟ ؟  آنا للہ کہہ کر خاموش ہونا بنتا ہے
پچھلے دس ایک سال سے یہ زہنی بیماری اتنی بڑھ چکی ہے کہ اصلاح کی کوئی ترکیب کامیاب ہوتی نظر نہیں آرہی .ایک سیاسی جماعت نے اس بد اخلاقی کو اتنا پروان چڑھا دیا ہے کہ اب انکے بیرون ممالک میں رہتے ہم آواز،ہم خیال افراد ویڈیوپیغامات کے ذریعے اپنی سیاسی نفرتوں کو دنیا کے تمام کونو ں میں پھیلا رہے ہیں اور ایسا کرتے انکو یہ خیال نہیں آتا کہ انکے ناپسندیدہ سیاسی لیڈرکی وفات تو اللہ کے حکم پر ہی ہوگی مگر سوشل میڈیا پر ایسے انسانیت سے گرے  پیغامات ملکی اقدار اور اسلامی روایات کے منہ پرایسا تمانچہ ہیں جسکی آواز دنیا بھر میں سنائی دے رہی ہے
 افسوس  کہ سیاسی اختلافات پر کسی کی موت کی تمنا کرنے والے یہ  ڈگری ہولڈرز نہیں جانتے کہ موت سزا نہیں ہوتی ورنہ انبیاء ، اولیاء ،  صوفی بزرگ کبھی وفات نہ پاتے ، نہ ہی موت سے کسی کو مفر ہے ورنہ کیا آپ اپنے سب  پیارے ماں باپ ،  اولاد اور سچے  دوستوں کو بچا نہ لیں ؟ موت توزندگی کی کتاب کا آخری باب ہے ، جس کو بھی زندگی ملی اسکو مرنا ہے سو احمق ہے ہر وہ شخص جو کسی کی موت پر خوش ہو یا کسی مخالف کی موت کی خواہش کرے کیونکہ موت آپکے ان پیاروں کو بھی آجاتی ہے جن کی عمر خضر کی آپ رو رو کر اللہ کریم سے دعا ئیں مانگتے ہیں
 کسی کی موت آپکی بد دعا سے ہوئی تھی یا نہیں اس بات کی  ہرگز کوئی اہمیت نہیں  ہاں مرنے والے نے  کیسی زندگی گزاری  تھی ،  وہ کونسے کام تھے جو مرنے والا کر گیا،  وہ کیسی اولاد ہے جو جانے والا چھوڑ گیا اور کونسا علم ہے جو پیچھے رہ 
جانے والوں کے کام آ تا رہے گا یہ سب معاملات بنیادی اہمیت کے حامل ہیں
حقیقت حال یہ ہے کہ" موت کا ایک دن معین ہے" جو آپکےھردلعزیز سیاسی رہنما کے گھر بھی ضرورآ ئے گی اورآپکی  نفرتوں اور بد دعاؤں کے تختہ مشق بنے مخالف سیاسی پارٹی کے رہنما کو بھی اللہ کے حضور حاضر ہونا ہی پڑے گا
 سو آج زندگی کے جس اختتام کو سوشل میڈیائی مخلوق "خدا کی لاٹھی " سے تشبیہ دےرہی ہے یاد رہے کہ یہ "لاٹھی " خدا   کے پیاروں اور اسکے دشمنوں پر یکساں وار کرتی ہے اس لیے اپنی بے دماغ کھوپڑی کو تکلیف نہ دیں اور فضول تشبیہات سے گریز کریں
مجھے نہیں معلوم کہ قارئین پر میری یہ تحریر کوئی اثر ڈال پا ئے گی یا نہیں لیکن مجھ پران تمام سیاسی جگت بازوں کی گھٹیا  ذہنیت کا بہت تکلیف دہ اثر ہوا ہے،   جو اپنے سیاسی رہنما کو "مرشد " کہتے نہیں تھکتے مگرصد افسوس  کہ یہ مرشد انکو دین اسلام کی بنیادی تعلیمات اور اس خطۂ پاک کی اعلی اقدار کا ہلکا سا نمونہ بھی نہ دیکھا سکا
کیا ان گری ہوئی حرکتوں کے ساتھ  "ریاست مدینہ " کا خواب شرمندہ تعبیر ہوسکتا تھا  ؟  

Monday, April 7, 2025

.......جالا بُنا گیا تھا پتا ہی نہیں چلا ......

انسانی تاریخ میں ہونے والی ہر ایجاد نے ثابت کیا کہ اس کے اچھے اور برے اثرات استعمال کرنے والوں پر مرتب ہوۓ .  پاکستان میں متعارف ہونے والےالیکٹرانک نیوز میڈیا کابھی یہی حال ہے کہ وقت نے اسکے بہت سے فوائد کے ساتھ ساتھ بے انتہا نقصانات پر سے بھی پردہ ہٹایا 
 الیکٹرانک  نیوز میڈیا کا قیام اس دور کی  آرمی اسٹیبلشمنٹ کی ضرورت تھی جسکا مقصد یقینن عوام کو باخبر رکھنا نہیں تھا ، کیونکہ آمریت کتنی بھی خوشگوار محسوس کیوں  نہ ہو حقیقت میں وہ  ایسا خواب ہے جسکی تعبیر ہر حال میں خوفناک نکلتی ہے سو نیوز میڈیا کا معاملہ بھی کچھ ایسا ہی رہا 
  پاکستان کا اسٹیٹ چینل  حکومتی خبریں دیکھاتا تھا اپوزیشن کو یکسر نظر انداز کیا جاتا تھا اسی لیے جب نجی چینلز پر اختلاف راۓ کو کچھ جگہ ملی تو  نجی چینلز دیکھنے والی عوام جو زیادہ تر ملک کے شہروں اور بیرون ملک قیام پزیر ہے کو یہ خوشفہمی ہو گئی کہ یہ نجی چینلز جو حقیقت میں اسٹیبلشمنٹ کی چھپر چھاؤں میں بنے تھے ، شاید آزاد ہوچکے ہیں اور انپر غیر جانبدارانہ ٹاک شوز اور بے لاگ خبریں دی جارہی ہیں مگر حقیقت کچھ اور ہی رہی 
یہ راز  کھلا بھی جمہوری ادوار میں کہ نہ تو یہ چینلز "آزاد "ہیں اور نہ ان میں کام کرنے والے صحافی ، تجزیہ کار ، نیوز ایڈیٹرز وغیرہ غیر جانبدار اور پروفیشنلز ہیں ایک مخصوص  ایجنڈے پر عمل درآمد کیا جاتا ہے اور ریٹنگ کا بہانہ بنا کر خاص علاقوں کو ٹارگٹ کیا جاتا ہے اور کچھ کو اسی ایجنڈا کی وجہ سے نظر انداز کیا جاتا ہے 
اس بارے میں انگنت تحریریں لکھی جاچکیں ہیں کہ کس طرح پاکستان کی عوام کو باخبر رکھنے کا زریعہ بننے والا میڈیا کم از کم ایک پوری نسل کو یقینی طور پر گمراہ کرچکا ہے  یہ نسل نہ پاکستان کی سیاسی تاریخ جانتی ہے نہ آئین و قانون کے بارے میں اسکو کچھ اتہ پتہ ہے نہ ہی بین الاقوامی سیاسی حالات کے بارے میں انکا 
مطا لعہ ہے نہ معلومات . بس کسی چینل سے آدھی خبر اٹھائی ، کسی دوسرے چینل سے آدھی تصویر دونوں کو
جوڑا اور  سوشل میڈیا پر اپنی گالم گلوچ برگیڈ کے ذریعے پھیلا دیا 
ایسوں سے آپ معلومات ، حقایق ، دلائل پر کوئی بات کر ہی نہیں سکتے مگر سب سے بڑا افسوسناک پہلو اسمیں میڈیا کا غیر ذمہ دارانہ کردار ہے جس پر آج بھی کچھ  نامور صحافی موجود ہیں جنکو  اس معلومات کی سونامی میں ڈوبتی ابھرتی نسل کی سیاسی تربیت کرنی چاہیے تھی . سیاستدانوں پر یہ ذمہ داری ڈالنی پاکستان جیسے ملک میں تقریبا '' ناممکن ہے کیوں کہ ایک طرف اسٹیبلشمنٹ اور عدلیہ سیاستدانوں کے خلاف جھوٹ پر مبنی   ایک مکمل مہم ستر  پچھتر سال سے چلا رہے ہیں دوسری طرف سیاستدانوں میں چھوٹے چھوٹے اختلافات کو لیکر جنگ تک کا ماحول بن جاتا ہے حقیقت یہ بھی ہے کہ ایسی جنگ کو جو سمجھدار سیاستدان "مفاہمت " کے سفید جھنڈے سے پرامن ماحول میں تبدیل کرنا چاہتے ہیں انکی اس کوشش کو " مک مکاؤ " جیسے الفاظ اور اپنے بھانڈ پن کے ذریعے یہی نیوز میڈیا بدنام کرتا ہے اور کوشش کرتا ہے کہ جلتی پر تیل ڈالا جاۓ تاکہ اس بھڑکتی آگ کو بیچ کر اپنے بال بچوں کا صرف پیٹ ہی نہ بھرا جاۓ بلکہ انکو بیرون ملک تعلیم اور روزگار کے لیے سیٹل کروا دیا جاۓ 
آپ کے مشاہدے میں بھی آیا ہوگا کہ بہت سے نامور صحافی برسوں تک "صحافت " کرتے کرتے ایک دم سے اسٹیبلشمنٹ کی جمہوریت کش دکان پر بیٹھے دوکاندار کیسے بن گیے ؟ اللہ کا فرمان ہے کہ "تمھا رے مال اور  اولاد میں تمھارے لیے فتنہ ہے " اور یہ حقیقت کھل کر آپ کے سامنے پچھلے دس بارہ برسوں سےآگئی ہے جب کہ یہ کوئی نئی بات نہیں ہے بہت سے قلم کار اس نیوز میڈیا کی بے راہروی سے پہلے بھی انہی راستوں پر چلے اور اولاد  کی" ترقی " کے بدلے قلم بیچ  دیا 
ناخواندگی نے تو  قلم بیچ قبیلے سے عوام کے ایک بڑے حصے کو بچا رکھا تھا،  سیاست و نظریات پر وہ اپنے دماغ کو استعمال کر کے فیصلے کرتے تھے مگر اسکرینوں پر بیٹھے نام نہاد دانشوروں نے تو  خواندہ افراد کو بھی سیاسی بانجھ پن کا شکار کردیا ہے  ایک ڈگری یافتہ نسل مستقل میڈیا کے گورکھ دھندے میں الجھ کر پختہ عمر کو پہنچ چکی ہے اور ناخواندہ افراد کی بھی ایک بڑی تعداد ہے جو دکانوں، ہوٹلوں حتی کہ کچی بستیوں میں چوبیس نہیں تو اٹھارہ گھنٹے تجزئے  کے نام پر بےمقصد مباحثے اور ذہنی خلفشار کا نشہ استعمال کرتی رہی  ہے  
عوام کے ذہنوں  کو مستقل کسی خوف ،  فتنے اور بے سمت سفر میں مبتلا رکھنے کے لیے یہ چینلز قائم کیے گیے او یقینن یہ اپنے مقصد  میں کامیاب رہے ہیں . بیرون ملک پاکستان کی جو شکل اشرافیہ کا ایک خاص حلقہ  تارکین وطن کے تصور میں جمانا چاہتا تھا،  اب وہ جم چکی ہے اور اگلے کتنے ہی برسوں میں یہ "شکل " دھندلی ہونا بھی ناممکن لگتا ہے 
جس نام نہاد نیوز میڈیا کو ہم معلومات کا زر یعہ سمجھے تھے، اسکرینوں پر بیٹھے نوسربازوں کو تجزیہ کار جانا تھا اور خبروں کو توڑ مروڑ کر جھوٹ کو سچ اور سچ کو جھوٹ بنانے والے "اینکروں "کو صحافی سمجھا تھا ، وقت نے ان چینلز کو عنکبوت کا گھر  ثابت کیا.  یہ کمزور ، الجھے ہوے تار سن دو ہزار دو سے نہ پاکستان کی قومی زندگی میں بہتری لا سکے اور نہ کسی مسلے کا حل ڈھونڈ سکے نہ وطن دشمنوں کی درپردہ سازشوں پر سے نقاب اٹھا سکے ان کے لیے آسان تر مال بنانے کا طریقہ یہ تھا کہ جو سیاستدان بدنام نہیں انکو بدنام کرو اور جو مخصوص اشرفیہ کے ہاتھوں بدنام ہوچکے تھے انکو بدنام ترین کردو .جمہوریت کو "مذاق "بنانے کے  لیے پنجاب اور کراچی میں اچھی  ریٹنگ  والی پارٹیوں کے کچھ "چلتے پرزے "اپنے اسٹوڈیو میں منگوا کر ہوسٹ کے ہاتھ میں "ڈگڈگی " دے دو اور بس ! ایسے میں کونسی خبر ؟ اور کونسا تجزیہ ؟  
سو قارئین ! آج آپ کے سامنے ہے کہ مقاصد حاصل ہونے کے بعد وہی "ڈگڈگی "تھا منے والے ہاتھ اب اسٹیبلشمنٹ کو قبول نہیں . جن کو بدنام کرنا تھا کر دیا ،  جس ڈگری یافتہ شہری نسل کو لاعلم رکھنا تھا وہ سیاسی بانجھ پن ،  تقسیم اور نفرت کا شکار ہوچکی اور  جوخبریں یا قبریں چھپانی تھیں وہ چھپا لی گئیں اب مزید "اظہار آزادی " کی نہ ضرورت ہے اور نہ فایدہ سو " پروپر پاکستان "سے کچھ صحافی غائب ہیں اور کچھ پر اداروں کی نظر کرم پڑنے کی  قوی  امید ہے 
ہم میں سے بہت ہیں جو اس آنے والے وقت کی چاپ سن رہے تھے اور اپنی گفتگو اور تحریروں سے عوام کو باخبر کرنے کی کوشش بھی کر رہے تھے مگر ہونی کو کون ٹال سکا ہے ؟