Tuesday, August 11, 2026

اس تعصب کےاندھیروں سے تو نکلو باہر ............ پھرکبھی دن ، تو کبھی رات پہ تنقید کرو ( آخری حصہ)

 ہم میں سے اکثر ہیں جنہوں نے مشرقی پاکستان کو بنگلہ دیش میں بدلتے نہیں دیکھا ہم صرف تاریخ کی روشنی سے جانتے ہیں کہ کس طرح متحد ہ پاکستان بنانے والوں کو مغربی پاکستان کی عسکری اور سیاسی قیادت نے ایک طویل عرصے تک اپنے حق حاکمیت سے محروم رکھا۔ تاریخی کتب،  پرانی اخبارات اور کچھ عینی شاہدین بتاتے ہیں کہ فوجی اور سیاسی اسٹیبلشمنٹ ہی نہیں اس دور کے اردو پریس ان میں بیٹھے نسلی تفاخر کے نشے میں مست نیوز ایڈیٹر،  رپورٹر ، لکھاری  اور مغربی پاکستان کی بااختیار قوموں کی سرپھری اشرافیہ  بھی بنگالیوں کو انکی تہذیب، زبان،بود وباش ،سیاسی بصیرت پر لعن تعن کرنے میں پیش پیش تھی

سچ ہے کہ تاریخ اپنے آپ کو دہراتی ہے مگر ممالک اور اقوام  کی بدقسمتی کہ وہ جانتے بوجھتے  اپنی بدقسمت تاریخ کو ہر بار دہراتے ہیں، حادثہ ہوتا ہے ،وقت گزر جاتا ہے اسکے بعد اپنی غلطیوں  کا ماتم کرتے ہیں اور دوبارہ بدقسمت قومیں ایک اور المیہ برپا کرنے غلط راہ پر چل نکلتی ہیں.    سندھ آج وہیں کھڑا ہے جہاں کل مشرقی پاکستان کھڑا تھا ، آج بھی اسکی سیاسی پسند کو اسی طرح حقارت  کی نظر سے دیکھا جارہا ہے جیسے بنگالیوں کو عوامی لیگ کے انتخاب پر دیکھا جاتا تھا کل بنگالیوں کو ہمارے " اکابرین" نے "سوکھا سڑا کالا "کہا آج بھی وزیر اعلی پنجاب جس نام نہاد صحافی دادا کو تھپکی دیتی ہیں وہ  سندھیوں کو " بندر " سے تشبیہ دیتے ہیں  اور پھر جیسے ڈھاکہ میں رہنے  والے بہاری، بنگالیوں کو استہزاء کا نشانہ بناتے تھے آج بھی کراچی میں بسنے والے اردو اور پنجابی بولنے والے صحافی، فنکار ،سیاسی اور لسانی تنظیموں کے ارکان ،مقامی ابادی کی اجرک ،ٹوپی اور زبان پر لطیفے بناتے ہیں، میڈیا پر نشانہ بناتے ہیں اور سوشل میڈیا پر تضحیک کرتےہیں 

کراچی سندھ کا شہر ہے جیسے لاہور پنجاب کا شہر ہے کیا کوئی صحیح دماغ سوچ سکتا ہے کہ لاہور میں پنجابیوں کو " غیر مقامی" پکارے؟  یا انکی لاہور میں روزی روٹی، تعلیم اور ریہاش پر  تنقید کر سکے؟ کیا موسمیاتی تبدیلیوں نے نیو یارک سٹی، جدہ ،دبئی، ممبئی کو نہیں ڈبو دیا کہ کراچی میں بارشوں اور  سندھ میں سیلاب کو منتخب حکومت کی نالائقی قرار دیا جائے کیا کوئی رپورٹر یا  افلاطون اینکر  قرآن پر یہ قسم کھا سکتا ہے کہ پیپلزپارٹی کے مئیر سے پہلے نہ کراچی میں بارش ہوئی نہ سیلاب آیا نہ پانی ،بجلی ،ٹوٹی روڈز کا مسئلہ رہا ؟ کیا کراچی میں پہلی بار اسٹیٹ کرائمز ہورہے ہیں کیا پورے پاکستان میں کہیں بچے ،بڑے گٹر میں نہیں گرتے یا پاگل کتے صرف سندھ میں ہی کاٹتے ہیں ؟

 سندھ حکومت اور کراچی کی لوکل گورنمنٹ پر مسلسل تنقید  اورمتعصبانہ رائے  دے کر سوشل میڈیا کا بھرپور منفی استعمال کیا جاتا ہے جس کی کچھ مثالیں پچھلے بلاگ میں پیش کر چکی ہوں ایک دو اور ملاحظہ فرمائیں جن سے امتیازی سلوک اور منفی تنقید چھلک رہی ہے







یہ "صحافی " ہیں؟  جو سیاسی کارکنان کی طرح لوگوں کو اپنی پسند کی پارٹی کو ووٹ دینے کی کیمپین چلا رہے ہیں وہ بھی صرف کراچی کے لیے . نہ یہ لاہور میں بلدیاتی حکومت کی عدم موجودگی پر ٹویٹس کرتے ہیں نہ کویٹہ ، پشاورمیں کسی پارٹی کی حمایت یا مخالفت کرتے ہیں کیوں ؟  جواب ندارد 


ان صاحب کو نہ بلدیہ فیکٹری میں دوسو زندگیوں کے جلنے پر مصطفی کمال سے  استعفی لینے کا خیال آیا نہ ہی حفیظ سینٹر لاہور کے جلنے پر" لاہور کے مئیر کا نام" پوچھنے کا!!!  استعفی تو خیر کیا مانگتے ؟ کبھی آپ نے ان نیوز ریڈرز کو پشاور میں بیس گھنٹے فیکٹری میں لگی آگ پر میئر پشاور حاجی صاحب سے استعفی مانگتے دیکھا ؟  کچھ عرصے پہلے ہی ایک خاندان کے سات افراد پشاور میں آگ لگنے سے ہلاک ہوئے لیکن جیو نیوز کےملازم صاحب کو نہ پشاور کے میئر کا نام پتہ ہوگا نہ کام کیا یہ امتیازی رویہ نہیں ؟  کیا یہ کسی ایک صوبے کے شہر کو  اپنے میڈیائی پلیٹ فارم سے تختہ مشق بنانا نہیں ؟  ایسا کیوں
ہے؟ ؟ 
 
 اور ان صاحب کی ٹویٹ ملاحظہ فرمائیں جو بھارت کی لائین لیتے ہوے سندھ پر سیلاب آنے کی خوشیاں منا رہے ہیں 



اور اب نفرت اور تقسیم کی یہی بیل  مزید  زور شور سے پروان چڑھا ئی جارہی ہے کیونکہ سندھ کے "حصے بخیے " کرنے کا آرڈر جاری ہوگیا ہے اور پاکستان کی سیاسی تاریخ گواہ ہے کے نت نئے ناکام منصوبے کون بناتا ہے اور انپر عمل درآمد کے لیے سب سے پہلے کس ادارے کا سہارا لیا جاتا ہے اگر آپکو یہ معلومات نہیں تو کسی مستند صحافی سے جرنیل ضیا اور مجیب الرحمان شامی کی گفتگو کی کہانی سن لیں سب سمجھ آجاۓ گاکہ مملکت پاکستان میں  کل کی پریس اورآج کا میڈیا مضبوط جمہوریت کے حقیقی دشمن ہیں
پھرمنفی سوچ  پھیلانے کے ساتھ ساتھ  جھوٹی خبروں سے بھی خوب کام چلایا جاتا ہے اور حد یہ ہے کہ خبر جھوٹی ثابت ہونے پر نہ ملال ہے نہ  افسوس



سو ایک لمبی فہرست ہے کہ اگر ہر فیس بک پوسٹ یا ٹویٹس اور کمنٹس کو کاپی پیسٹ کیا  جاۓ تو شاید ایک کتاب بن جائے ۔ہوسکتا ہے کسی "سانحے" کے بعد ایسی کتاب بھی تاریخ کا حصہ بن جائے جس میں ان تمام افراد کو قومی مجرم گردانا جائے جو اپنے تعصب ، مفاد پرستی ،کسی ادارے کے دباؤ، بھاری لفافے یا اپنی بیمار ذہنیت کی وجہ سے پاکستان قائم کرنے والے  صوبے سندھ ،اسمیں  ھزاروں برس سے بسنے والی باشعور، امن پسند ، اپنی تہذیب و تمدن و زبان پر پہرہ دینے والی قوم اور اسکے سیاسی انتخاب کو مسلسل نکتہ چینی، بدزبانی ،منفی تنقید اور  استہزاء کا شکار بنا رہے ہیں 

یہ دو اقساط پر مبنی بلاگ بھی اب تاریخ کا حصہ بن جاۓ  گا ،  ہم سب جانتے ہیں  کہ تکبر اور جہالت میں لپٹے اذہان نے پاکستان بنانے والے بنگال کو مطعون کر کے علیحدہ کرنے کے بعد بھی کچھ نہیں سیکھا تھا ، اور آج بھی پاکستان بنانے والےدوسرے صوبے  سندھ کو یہی  بیمار ذہنیت مسلسل اپنے منفی خیالات ، تحقیر و استہزاء کا شکار بنا کر علیحدگی کی بنیاد رکھنے سے  باز نہیں آرہی  . متحدہ پاکستان کے خاتمے کے بعد اس بچے کچے ملک پر وار کرنے والے اپنا کام کرتے رہیں گے اور میرے یا آپ جیسے بہت سے یہی کہتے رہیں گے کہ 

ڈوبتے ڈوبتے کشتی کو اچھالا دے دوں

 میں نہیں کوئی تو ساحل پہ اتر جائے گا

  


 

اس تعصب کےاندھیروں سے تو نکلو باہر ............ پھرکبھی دن ، تو کبھی رات پہ تنقید کرو ( حصہ اول )

جرنیل ضیا الحق کا گیارہ سالہ  دور حکومت جس کو بھی یاد ہے وہ جانتا ہوگا کہ پاکستان کی اگلی پچھلی تاریخ میں ایسا بدترین وقت پاکستان کے عوام پر با لعموم اور سندھ کے عوام پر بالخصوص  نہیں آیا . کھیتوں میں ملتی سیاسی کارکنوں کی تشدد زدہ لاشیں ،  رہنماؤں کی پھانسیاں ،  جلاوطنیاں ، لمبی جیلیں ،  عوام پر فوجی  ہیلی کاپٹروں کی فائرنگ ،  جلتے گاؤں اور قتل کیے جاتے دیہاتی عوام . ان دنوں پیپلزپارٹی کےغیر تعلیم یافتہ یا کم تعلیم یافتہ ووٹرز اور سپورٹرز کی ہی فوجی حکومت کے ہاتھوں شامت نہیں آتی تھی  بلکہ  سندھی بولنے والے ڈاکٹروں ،  وکلاء ، فنکاروں اوراستادوں پر بھی ریاستی تشدد جاری تھا اس سب کےباوجو بھی جرنیل ضیا اور اس کے کاسہ لیس  سندھ کو بقیہ پاکستان کی نظر میں مطعون  نہ کرسکے 

اگر اس وقت جرنیل ضیا کو پتہ ہوتا کہ سندھ کسی  فوج کشی اور غداری کے  بیانیے کے ذریعے بدنام نہیں ہوگا  بلکہ ریاستی چھپر چھاؤں میں بننے والے  نیوز میڈیا چینلز اور ان پر بیٹھے متعصب دماغوں کی شیطانیت سے صرف پاکستان ہی  نہیں ساری دنیا میں لعن طعن کا شکار ہوجاۓ گا،  تو وہ فوجی آمر  یقینن یہ بھی کر گزرتا

امر واقعہ یہ ہے کہ ایک اور فوجی آمرمشرف  نے الیکٹرانک نیوز میڈیا چینلز کا اجراء اسی ایجنڈے کے ساتھ کیا تھا کہ ادارہ جہاں چاہے اور جب چاہے اپنا بیانیہ بیچے .ان  تمام چینلز کا تعلق نہ خبروں سے ہے نہ معلومات کی فراہمی  سے اور نہ ہی عوامی فلاح و بہبود  کے کسی منصوبے سے ، ان دکانوں پر صرف اسٹیبلشمنٹ کا بیانیہ بیچا جاتا ہے جس میں چینلز کے مفاد پرست مالکان اور اینکرز کی کرسیوں پر بیٹھے  "دولے شاہ کے چوہے  " اپنے لسانی ،  سیاسی تعصب اور لفافے کے حجم کے مطابق حصہ  ڈالتے ہیں.  جو باقی کسررہ گئی تھی  وہ سوشل میڈیا کی آمد نے پوری کردی .اب یہی شاہ دولے کے چھوٹے  چھوٹے سروں والے نیوز ریڈرز اور"سئینر تجزیہ کار" چینلز دیکھنے والےہجوم کو اپنا "فالوور " بناتے ہیں  اورانکو اپنے سوشل میڈیا پیج پر مزید بے راہروی کا شکار بناتے ہیں اور یوں نفرت کے یہ بیوپاری اپنا مال بیچتے ہیں 

دوہزارآٹھ سے شرو ع ہونے والے جمہوریت کے سفر نے، نام نہاد آزاد میڈیا کا اصل چہرہ ہمیں دیکھادیا تھا اوروقت گزرنے کے ساتھ ساتھ یہ آمرانہ  ایجنڈا پرچلتے چینلزایکسپوز ہوتے چلے گیے دو ہزار نو سے انکا خاص تخت مشق سندھ رہا ، کراچی ان دنوں اسٹیبلشمنٹ کے کاسہ لیسوں کی آماجگاہ تھا سو یہ  نوحے اکثر  وفاق کی "نااہلی " اور سندھ کی بدحالی تک رہے . اس  تمام عرصے میں صوبہ  پنجاب ، پختونخواہ حتی کہ  بلوچستان بھی اس میڈیا کے شاہ دولوں کو" جنت نظیر" دیکھائی دیتا رہا  

نواز لیگ کا وفاق میں آنا تھا کہ  پنجاب اور کراچی کے عمر  رسیدہ صحافییوں اور شدید سینئیر تجزیہ کاروں کی طرف سے " قبول ہے قبول ہے " کی آوازیں آنے لگیں اب  چینلز کوسندھ پر توپیں داغنے کا مکمل لائسنس ملنے والا تھا مگر اچانک سے  محترم نیازی المعروف عمران خان صاحب نے ڈی چوک میں دھرنا بیٹھا دیا اور میڈیا کوحوا لداروں نے آرڈر دیا کہ اپنے "مال مویشی " دھرنے کی مشہوری میں جوت دو.... ..... سو غلام میڈیا نے سندھ کو ایک سو چھبیس دن کے لیے "سانس " "لینے کی آزادی دے  دی 

وزیراعظم بننے کے بعد عمران خان  اور ان کو وزیراعظم سلیکٹ کروانے والوں نے ایک بار پھر میڈیا کے تنخواہ داروں کو سندھ اور اسکے دارالحکومت  کراچی  پر " چھوڑ " دیا اور سوشل میڈیا پر موجود انسانی اور غیر انسانی روبوٹس کو بھی یہی آرڈرز ملے . ایک طوفان بدتمیزی تھا جو سندھ اور اسکی عوام کو " نسلی غلام " نسل پرست ،  جاہل ،  ذہنی غلام ،  زندہ لاشیں جیسے القابات سے نوازتا تھا اور کیونکہ عمران خان صاحب کو وزیراعظم کے پیکج میں"صحافییوں " کی بھی ایک کھیپ ملی تھی لہذا جعلی تصاویر ، جھوٹی خبروں اور رائی کے پہا ڑ بنانے اور انکو پوسٹ کرنے ، ریٹویٹ کرنے والوں کا ایک جم غفیر تھا جس میں ایک عنصر پاکستان سے باہر رھنے والے  افراد  کا بھی تھا  جن کی اکثریت تو پنجابی ہے نہ انکو سندھ کا حال  پتہ تھا نہ احوال مگر مکھی پر مکھی مارنا گوروں نے سیکھا دیا تھا سو وطن سے جان چھڑ ا کر جانے والے بھی سندھ کے خلاف " محاز " کھولنے کے کار خیر میں شامل رہے 

یہ سلسلہ آج بھی جاری ہے اور جیسے کہ تمام  قومی سازشوں کی پہلے سے آبیاری کی جاتی ہے اسی طرح پاکستان میں نئے  صوبوں کا شوشہ بھی چھوڑنے سے پہلے صوبہ سندھ ، اسکی حکومت ، شہروں اور خاص کر  صوبائی دارا لحکومت کو  بدنام کیا گیا اور مسلسل کیا جارہا ہے 

اسکی بہترین مثالیں قارین  کے سامنے ثبوت کے طور پر پیش کرتی ہوں 

  موسمیاتی تبدیلیوں نے گزشتہ کچھ سالوں میں  ممبئی ،  نیویارک  سٹی ،  دبئی اور ریاض و جدہ جیسے اربن علاقوں کو ڈبو ڈالا کراچی کس کھیت کی مولی تھا ؟  یہاں تو موسمیاتی تبدیلیوں سے پہلے بھی برا حال رہا خاص طور پر جرنیل مشرف کے زمانے میں جب ایم کیو ایم کے حمایت یافتہ مصطفی کمال کراچی کے میئر تھے ایک دن میں دوسو ہلاکتیں کراچی کی بارشوں اور تیز ہواؤں کی وجہ سے ہوئیں اس دور میں پی ٹی وی نہیں بلکو یہ تمام نجی چینل موجود تھے مگر "خاموش "تھے کیونکہ "اوپر سے آرڈرز " نہیں ملے تھے اور اینکر نامی مخلوق  تعصب کیسے کر تی ؟  بھلا اپنوں سے تعصب کون کرتا ہے ؟ ؟   

 پھر سن دو ہزارتئیس  میں پیپلزپارٹی کے میئر مرتضی وہاب  کا منتخب ہونا میڈیا والوں کے لیے سوہاں روح بن گیا. اب تو ایسا لگتا ہے کہ کراچی میں بوندا  باندی ہونا بھی ایسا عذاب ہے جو نہ کہیں آیا تھا نہ آے گا. آج بھی لاہور، فیصل آباد  ڈوبتا ہے ، اسلام آباد  نالہ لیئ  بن جاتا ہے ،سوات ، مردان ،   پشاور ہرسال ڈوبتے ہیں ،  بلوچستان تو صرف ڈوبتا نہیں بلکہ بیشمار ہلاکتیں بھی ہوتی رہیں مگرصحافیوں  کو کبھی مندرجہ ذیل قسم کی ٹویٹ مسلم لیگ  نون ،  میم  ، ش  اور تحریک انصاف ع ،  پ ، ایف   کے لیے  کرنے کی توفیق نہ ہوئی 







پھر محترمہ نیوز ریڈر عرف نیوز اینکر صاحبہ کا پنجاب کی بارشوں پر ٹویٹ دیکھیں اور دماغی تعصب کا علاج بھی تجویز  کریں  مطلب کراچی میں تو "عوام ذلیل و خوار " ہورہی ہے اور پنجاب میں " پاکستانیوں "پر مشکل گھڑی ہے جسمیں یہ نیک دل خاتون اللہ سے رحم طلب کر رہی ہیں 



 سندھ کےایک علاقے میں آتش زدگی سے نو ہلاکتیں ہوتی ہیں اور مری میں برف باری میں پھنسے  بائیس مسافروں کی   ہلاکتوں کی خبر بھی آتی ہے جس پرایک طرف  خبروں  اور تجزیوں میں اردو  چینلز اپنی متعصبانہ سوچ کو ظاہر کررہے تھے  تو دوسری طرف موصوف صحافی صاحب کی ٹویٹس سے  امتیاز اور تفریق ابل ابل کر باہر آرہے تھے . ملاحظہ ہو

اور تعصب کی اس بہتی گنگا میں کرکٹر ، فنکار اور کامیڈینز بھی ہاتھ دھونے پہنچ جاتے ہیں .ان موصوف سابق کرکٹر کی عقل یہ ہے کہ بیٹھے لاہور میں ہیں ،  تصویر بھارت کی ہے اور استہزاء  کراچی کا !!!  مزید ڈھیٹائی کیا ہوگی ؟ ؟ 


سوال یہ ہے کہ قدرتی آفات ، حادثات کہاں نہیں ہوتے مگر جس طرح  تقسیم ، نفرت ، منفی سوچ اور ایجنڈا چلانے والے پاکستانی نیوز میڈیا نے قدرتی آفات اور حادثات کو اپنے مذموم مقاصد کے لیے استعمال کیا ہے اور پھر سوشل میڈیا پر  سندھ اور پیپلزپارٹی کو اپنے  لسانی اور سیاسی تعصب کا نشانہ بنایا ہے وہ ناقابل فہم ہے یعنی حقارت ،  نفرت اور نسل پرستی  کا ایک ایسا سلسلہ شرو ع کر دیا گیا ہے جو آئیندہ بھی پاکستان کی جڑوں کو کمزور کرتا رہے  گا  


جاری ہے ........




Sunday, January 18, 2026

نیت اگر خراب ہوئی ہے حضور کی................گھڑ لو کوئی کہانی ہمارے قصور کی !

بچپن میں ایک کہانی سنی تھی جس میں ایک باپ اور بیٹا اپنے پالتو گدھے کے ساتھ سفر پر نکلے تو راستے میں پڑتے گاؤں کے لوگوں نے باپ ،  بیٹے اور گدھے کو گاؤں سے گزرتے دیکھ کر آوازے کسے کہ کیا بیوقوف باپ بیٹا ہیں گدھے پر سواری کی بجاۓ ساتھ چل رہے ہیں ، بیٹے نے لوگوں کے مذاق اڑانے پر باپ سے کہا بابا آپ گدھے پر بیٹھ جائیں میں ساتھ چلتا ہو باپ نے بیٹے کو محبت سے دیکھا اور گدھے پر سوار ہوگیا دوسرا گاؤں راہ میں پڑا تو وہاں کھڑے لوگ نے کہا کیسا سخت دل باپ ہے معصوم بچہ پیدل چل رہا ہے اور باپ عیش سے گدھے پر سوار ہے باپ کو یہ آوازیں سن کر دکھ ہوا اور زبردستی بیٹے کو گدھے پر سوار کروا دیا تیسرا گاؤں راہ میں آیا تو راہ چلتے لوگ کہنے لگے کیسا ناہنجار بیٹا ملا بیچارے باپ کو ،   خود گدھے کی سواری کر رہا ہے اور بزرگ باپ پیدل چل رہا ہے یہ سن کر بیٹا شرمندہ ہوگیا اور والد سے بولا بابا  یہ اچھا نہیں ہوا گاؤں والوں کی باتیں سننے سے اچھا ہے ہم دونوں ہی گدھے پر سوار ہو جاتے ہیں سو چوتھے گاؤں  پہنچنے سے پہلے دونوں ہی گدھے پر سوار ہو گیے تاکہ اگلے گاؤں کے طعنوں سے بچ پائیں مگر لوگ ہوں اور باتیں نہ بنائیں ؟  ممکن نہیں سو اگلے گاؤں کے باہر بیٹھے بیکار گپ باز شور مچانے لگے کہ ہاۓ ہاۓ کیا ظالم باپ بیٹا ہمارے گاؤں سے گزر رہے ہیں ایک کمزور گدھے پر دونوں ہٹے کٹے سواری کر رہے ہیں ، شرم بھی نہیں آتی انکو ...... باپ بیٹا یہ سن کر سخت پریشان ہوۓ فورا گدھے سے اتر گیے مگر اب اگلے گاؤں سے گزرنے کی ہمت نہیں تھی کہ لوگوں کی ملامت  پھر سننے کو ملے سو فیصلہ یہی ہوا کہ آخری حل نکالا جائے سو گدھے کو اپنے اوپر سوار کر کے پانچویں گاؤں سے گزر جاتے ہیں لیکن تنقید کے تیر ہر گاؤں میں باپ اور بیٹے کے منتظر تھے  . آپ سوچ رہے ہونگے کہ اس کہانی کو دہرانے کا آخر مقصد کیا ہے؟  تو دوستو ! موجودہ زمانے میں سندھ حکومت کے نمایندوں  پربے جا تنقید کی زد میں آۓ ان باپ بیٹے کی آزمائش  حرف بہ حرف پوری ہوتی ہے یعنی جو کام کریں  اعتراض ، جو کام کریں اسمیں کیڑے ،   بقول شخصے " آٹا گنددے ہلدی کیوں اے 

یہ کوئی مبالغہ نہیں خاص طور پر جب آپ "اسکرین پرنمودار ہونے والےمیک اپ زدہ  اینکر نیوں اور  سوٹ میں ملبوس سینئر تجزیہ کاروں " کا تجزیہ سنیں اور دن میں تین  چیختے چلاتےنیوز بلیٹین ! جس صوبے یا شہر میں  پاکستان پیپلزپارٹی نہیں جیتتی وہاں ان  بقراطوں کے مطابق " پیپلزپارٹی کی سیاست  ختم ہوچکی  ، کیونکہ یہاں کام پر ووٹ ملتے ہیں نام پر نہیں  "  اور جہاں پیپلزپارٹی کو ووٹ ملتے ہیں وہاں " کام " پر نہیں  بلکہ وڈیروں ،  جاگیرداروں  اور عوام کی ا پنی "جہالت " کی وجہ سے ووٹ ملتے ہیں . جہاں  سندھ حکومت کی کوتاہی دیکھانی ہو وہاں لوٹ مار کا بازار گرم  " ہوگا " کی خبر چلادو اور جہاں محنت اور کام دیکھائی دیتا ہے وہاں " فوٹو  سیشن " کا الزام لگا دو یہ پاکستان کی واحد وفاقی پارٹی ہے جو قومی ،  صوبائی ، بلدیاتی الیکشنز جیت کر بھی اپنے ہی صوبے میں "غیر مقامی "کا طعنہ سہتی ہے کیونکہ صوبے میں حقیقتا " غیر مقامیوں " کی تعداد تقریبا مقامیوں کے برابر ہے شکریہ بانیان پاکستان . اور یہ بھی ایک بہت بڑی وجہ ہے کہ "آدھا بھرا گلاس "اکثر لوگوں کو آدھا خالی ہی نظر آتا ہے یہ نظر کا دھوکہ نہیں عقل کا فتور ہے  

ابھی کچھ روز پہلے اس پارٹی کے چئیرمین کو مجبورا صوبہ سندھ میں اپنی پارٹی کی کارکردگی کے بارے میں دو گھنٹے تک ملکی و غیر ملکی مہمانوں اور صحافیوں کو بریفنگ دینی پڑی ایسا کیوں ہوا اس میں ان میڈیا ہاوسز ،  اینکرز کا بہت بڑا ہاتھ ہے جو کبھی "لفافوں "کی وجہ سے تو کبھی اپنے بے تحاشہ تعصب کی وجہ سے اور کبھی  "ڈنڈے " کے ڈر سے پیپلزپارٹی حکومت  کی مثبت کارکردگی کو صفر اورحکومت کی  غلطیوں،کوتاہیوں کو سوا سو ڈگری زیادہ دیکھاتے اور بتاتے رہے ہیں اب "باپ بیٹا "  پر ان لفافہ اینکروں کا اعتراض یہ  ہے کہ بریفنگ "ایوان صدر " میں کیوں دی ؟  اور اگر اسکا جواب بھی مل جاۓ کہ سفارتکاروں  کی سیکیورٹی بہت اہم ہوتی ہے تو پھر سوشل میڈیا  پر جمائیاں لیتی مہر بخاری اور حامد میر  وائرل کیے جاتے ہیں مطلب کہ  کسی حال میں یہ "گاؤں والے " راضی نہیں ہیں اوپر سے تین کروڑ کی آبادی میں بدقسمتی سے  کوئی حادثہ  پیش آجاۓ توقومی میڈیا والوں کی پانچوں  گھی میں اور مخالف سییاسی گروہوں کے سر کڑاہی میں !!   وہ ننھے ابراہیم کی ناگہانی موت ہو یا گل پلازہ میں لگی آگ ... ہر چینل نے  اشتہاروں کی لائینیں  لگائیں  ،  اینکروں نے سوشل میڈیا پر "کلک " سمیٹے اور سیاسی مخالفین نے اپنی فتح اور حکومت سندھ کی شکست کے دعوے کیے   

امر واقعہ یہ ہے کہ پورے پاکستان میں نہ کوئی شہر کوپن ہیگن  ہے اور نہ کوئی صوبہ  برٹش کولمبیا . ہر صوبہ پسماندہ اور ترقی پزیر شہری  ودیہی علاقوں کا مجموعہ ہے ہر صوبے کے عوام معاشی اور معاشرتی مشکلات میں اسی طرح گھرے ہیں جیسے کہ تیسری دنیا کے دوسرے ممالک کے عوام !ہر شہر میں گٹروں پر سے ڈھکن غایب ہوتے ہیں ،  ہر محلے میں دو چار پاگل کتے موجود ہیں ، بچے بڑے ان  حادثوں کا شکار بھی ہوتے ہیں ،  اور یوں قومی طور پر  دہشت گردی اور سیاسی رسہ کشی ہمیں اکثر تمام تر مثبت کوششوں کے باوجود ،  دوبارہ سے کئی سال پیچھے لے جاتی ہیں . 

لاہور ،  کراچی ، راولپنڈی ،  کویٹہ ، پشاور مالی لحاظ سے چھوٹے شہروں اور دیہی علاقوں کو پرکشش محسوس ہوتے ہیں اور کیونکہ روزگار کی تلاش میں آتے افراد اپنے خاندانوں کے ہمراہ کم ہی ہجرت کرتے ہیں تو ایسے میں یہ شہر ان افراد کے لیے "اجنبی " رہتے ہیں نہ ان کو شہر کی صفائی کا لحاظ ہوتا ہے نہ امن و امان کا ایسے میں کراچی جو پورے پاکستان بلکہ پاکستان سے باہر کے لیے بھی ایک بہتر روزگار اور نسبتا سستی بود باش کی منزل ہے یہاں ایسے لوگوں کی تعداد سیکڑوں یا ہزاروں میں نہیں بلکہ لاکھوں میں ہے  اور جہاں لاکھوں لوگ گھر کو سراۓ سمجھ لیں وہاں کا حال " کراۓ کے گھر "جیسا ہی ہوتا ہے اور یہ کوئی انہونی نہیں ! ایسے شہر کے حالات  کو ان شہروں سے ملانا جہاں نہ  کروڑوں کی آبادی ہے اور نہ ہی کثیر السانی اور متنوع سیاسی نظریات کے حامل گروہ ،  یہ سراسر ناانصافی ہے  

پاکستان پیپلزپارٹی کے نوجوان چئیرمین نے اپنے صوبے میں بہت سے ترقیاتی منصوبوں کے بارے میں مثبت اعداد و شمار تو دیے مگر صوبے نے جن مشکلات کا سامنا ناگہانی آفات  اور دھشتگردی کی صورت میں کیا ان میں وہ  بیس سالہ  " فوجی حکومتوں" اور ریاست کی آشیر باد سے کی جانے والی " ہڑتالوں " کا ذکر کرنا یا تو بھول گیے یا پھر ماضی کا قصۂ سمجھ کر نظرانداز کر گیے جب کہ یہ وہ عوامل تھے  جن کی وجہ سے انکا صوبہ ترقی کا وہ سفر نہ کرسکا جو کہ اس کا حق تھا 

جرنیل ضیا کا دور صوبہ سندھ  کی معاشی، معاشرتی ،  سیاسی اور نظریاتی  ترقی کے لیے بدترین دور تھا ان دس برسوں میں سندھ میں نہ کوئی تعلیمی کام ہوا نہ صحت عامہ کی بھلائی کا کوئی کارنامہ کسی بھی سطح پر متعارف کروایا گیا بلکہ سیاسی کارکنان ،  طلباء ، مزدور لیڈروں اور تو اور اساتذہ کے لیے بھی یہ وقت  ترقی معکوس کا دور رہا .اس دوران  پنجاب کے لیے معاشی ترقی کے دروازے کھولے گیے ، یہ درست ہے کہ  نظریاتی اور سیاسی طور پر پنجاب کو اسی عرصے میں بانجھ کردیا گیا،  جہاں سندھ  کے شہروں کواس دوران  لسانی سیاست میں الجھا کر "بھتہ خوری ،  ٹارگٹ کلنگ اور بوریوں " سے تباہ کیا گیا وہاں پنجاب میں " لفافوں اور بریف کیسز " کی سیاست نےقدم رکھے اور آج  بھی ہم کو پنجاب کی زرخیز زمین پر نظریاتی سیاست کرنے والا کوئی سورما نہیں ملتا نہ ہی ایسے جی داروں کو عوام میں پزیرائی ملتی ہے مگر یہ پنجاب کی عمومی اور لاہور کی خصوصی حالت جرنیل ضیا کے دور میں باقی صوبوں سے بہت بہتر رہی سندھ تو خیر ضیا کے ٹارگٹ پر تھا مگر پختونخواہ  اور بلوچستان کا بھی کچھ ایسا ہی ملا جلا معاملہ رہا . پختونخواہ کو افغان جنگ میں جھونک کر تباہ کیا گیا اور بلوچستان کے وسایل کی ریاستی سطح پر لوٹ مار جاری رہی ،  اپنے ہمنوا سرداروں کو بیچا خریدا گیا جب کہ عوام کے لیے آواز اٹھانے والے لیڈران کو پچھلے ادوار کی طرح  اس بار بھی صوبائی اور قومی سطح پر آنے سے ریاستی مشینری کی مدد سے روکا گیا یہ  اثرات ابھی تک ان صوبوں کی ترقی میں حایل ہیں

مشرف دور بھی صوبہ سندھ کے لیے نہ صرف معاشی حساب سےنقصان میں رہا بلکہ جرنیل مشرف نے ایک لسانی جماعت کو اپنی چھپر چھاؤں میں جس طرح پھلنے پھولنے کا موقع فراہم کیا اس سے امن و امان قایم کرنے والی پولیس کی کمر ٹوٹ گئی ، تھر میں تاریخ کا بدترین قحط ہو یا سندھ ڈیلٹا  میں مینگرو جنگلات کی تباہی یا ٹھٹہ ، بدین سے لاڑکانہ تک بارشوں اور سیلاب کی تباہ کاریاں ،اور ہلاکتیں  مشرف کی وفاقی اور متحدہ قومی موومنٹ کی صوبائی حکومتیں تو ان تمام ہلاکتوں اور ناگہا نیوں کو نظر انداز کرتی ہی رہیں مگر آپ اپنے اس "نام نہاد آزاد نیوز میڈیا " کی مجرمانہ خاموشی ملاحظہ فرمائیں جو آج کسی کینٹر ،  کسی گٹر اور کسی اسٹریٹ کرائم سے ہوئی ہلاکت پر تو ہیڈ لاینز بھی دیتا ہے اور ہفتے کے آٹھ ٹاک شوز بھی کر گزرتا ہے مگر دوہزارتین اور دو ہزار پانچ  کی طوفانی بارشوں ، ،  سیلاب کی تباہ کاریوں سے ہوئی سندھ بھر کی ہلاکتوں کا شاید آپ قارین کو پتہ تک نہ ہوگا ہزاروں اسکول ،  ڈسپینسریاں ،  دفاتر ،  کاروبار ان ناگہانی آفات میں صفحہ ہستی سے مٹ گیے نہ حکومتیں مدد کو آئیں نہ بین الاقوامی ادارے کیونکہ صوبے پرجو لسانی جماعت اور نااہل مسلم لیگی ٹولہ  قابض تھا  اسکو  فی الحال  پورے صوبے کے بجٹ کو صرف ایک شہر کے کچھ علاقوں کی سڑکوں ،  انڈر پاس اور اوورہیڈ برجز پر بہا دینا تھا

ذیل میں ان تباہیوں کے بارے میں خبریں ہیں  جو صوبہ سندھ پر وارد ہوئیں. اس دور میں نقصانات کا علم میڈیا کی "سردردی "تھا نہ صوبائی اور وفاقی حکومت کا !  سندھ کے بےبس عوام کسے وکیل  کرتے اور کس سے انصاف مانگتے ؟  


The 2003 floods in Sindh, Pakistan, were a catastrophic, climate-driven event occurring in late July and August of that year, resulting in widespread devastation, significant loss of life, and massive destruction of property and agriculture. The disaster was characterized as the worst monsoon in the region in nearly a decade. 
12 August 2003: Relief Web

According to the Emergency Relief Cell of the Sindh Government the recent floods have affected a total of 4,791 persons from 74 villages of 4 districts of the province. The Revenue Department informed that already some 90% of areas with mud houses have submerged. A total of 326 large and 1,500 small villages, 171 primary schools, 43 middle schools, 125 police check posts, and 26 police stations have been inundated in the 17 districts of Sindh.The flood-affected people in Sindh Province have not yet received emergency assistance from Government or NGOs.                                                                                                                                          5 August 2005 :Relief Web

The drought of 1998-2002 was the worst drought to hit Pakistan since its 50 years of existence. The province of Balochistan and Sindh were most badly affected, where 26 districts of Balochistan suffered from severe famine. In Sindh, Tharparkar was the most affected district. Hundreds of thousands of houses were damaged, thousands of acres of crops destroyed and livestock killed. This drought was estimated to have affected about a total of 3.3 million people; hundreds of which died of thirst and starvation and thousands were left homeless.                                                                                                        

                                                                            20 July 2018     https://cscr.pk/

ان دو جرنیلوں کے نحس ادوار کے درمیان جو منتخب حکومتیں گزریں ان کا تمام وقت رسہ کشی میں گزرا اور چونکہ سندھ کے  معاشی مرکز پر قابض لسانی تنظیم زبان کے نام پر ووٹ لے چکی تھی لحاظہ اسلام آباد میں حکومت کسی کی بھی ہو لیکن  کل وقتی بلیک میلنگ ہی اس  لسانی پارٹی کا منشور بن گیا تھا. مہینوں تک  ہر ہفتے  دو دن ہڑتالیں کرنا،  سڑکوں پر محنت کشوں کا قتل عام ،  لوہے کے گیٹ لگا کر پورے علاقے کو اپنی مرضی سے جب چاہے بند کردیا جاتا .سرکاری زمینوں پر قبضے ،  بوریوں میں لاشیں ،  سرکاری ملازمین کا دفتروں میں قتل عام....  یوں  شہر کراچی کو معاشی ،  سیاسی اور معاشرتی بد حالی کے اندھے کوئیں میں دھکیل دیا گیا جس کے اثرات پھر پورے ملک میں  ظاہر ہوے 

اسمیں کو ئی دو راۓ نہیں ہوسکتی کہ کراچی  شہرکی بربادی پورے  صوبے کی تباہی بن گئی . ملک کی باری تو بہت بعد میں آتی ہے پہلے تو اس شہر کی بربادی ہوتی ہے جہاں کاروبار تباہ ہوتا ہے ،  لوگ بیروزگار ،  پبلک ٹرانسپورٹ  کو ہر دوسرے  دن جلایا جاتا رہا  اور تعلیمی ادارے تا حکم ثانی بند رہے اور پھر اس تباہی کے اثرات صوبے کی سطح پر ظاہر ہونا شرو ع ہوجاتے ہیں جہاں  مختلف شہروں اور دیہاتوں  میں اسکے اپنے  شہریوں کی لاشیں وصول ہوتی ہیں اس  بےیقینی،  خوف اور تقسیم کی سیاست نےصوبہ سندھ کو کم سے کم تیس سال تک اپنی لپیٹ میں لیے رکھا ایسے میں کوئی مخبوط الحواس یوٹیوبر ،  لفافہ صحافی ،  متعصب سوشل میڈیا ٹرول یا  مفاد پرست سیاستدان تو صوبہ سندھ یا اسکی زخمی معاشی رگ کراچی پر انگلیاں اٹھا سکتا ہے کوئی دماغ والا شخص نہیں . قارین ! اگر آپ  صوبہ سندھ کے علاوہ کسی دوسرے صوبے یا کراچی کے سوا کسی بھی دوسرے پاکستانی شہر کی  یہ تاریخ دیکھ چکے ہیں  تو اس شہر اور صوبے کا نام ضرور بتائیں اور یہ بھی کہ وہاں ان مشکلات اور مسایل کے بعد آج  کتنی مایہ ناز ترقی ہوچکی ہے ؟  

آج جو بہتری بھی سندھ میں نظر آرہی ہے یہ  ایک طویل  طوفانی رات کے بعد کی رو پہلی صبح ہے جب انسان اپنی ہمت باندھ کر کام شرو ع کرتا ہے اور رات کو گزرنے والی تباہ کن آندھی میں ہونے والی ٹوٹ پھوٹ کا جایزہ لے کر قدم بڑھاتا ہے تو وقت بھی لگتا ہے اور طاقت بھی ،  پلاننگ بھی ضروری ہے اور وسایل بھی چاہیے ہوتے ہیں .  ابھی کوئی کام بھی مکمل نہیں  ہوا،  ابھی شروعات ہے. پچھلے تیس سال کی بربادیوں کو پندرہ سال میں کون مکمل درست کرسکتا ہے ؟  یہ سب میرا آنکھوں دیکھا ہے ،  آج کی نسل نے تو وہ بھی نہیں دیکھا جو ہم سب دیکھتے رہے ہیں اور پھر ہم سے پہلی نسلوں نے تو سندھ کو   ون یونٹ کے خلاف ،  مشرقی بنگال کے حق میں،  مارشل لا کے خلاف ،  اپنی شناخت ،  اپنی زبان  اور جمہوریت کے لیے طویل جدوجہد کرتے دیکھا تھا جب کہ  پاکستان کے  پنجاب کی تاریخ میں ایسی کسی جدوجہد کا ذکر نہیں جسمیں عوام نے تیس چالیس برس تک  مسلسل معاشی ،سیاسی ،معاشرتی اورتعلیمی زک اٹھائی ہو .... لسانی تنظیموں اور دہشت گردی سے نبرد آزما رہے ہوں ،  ون یونٹ سسٹم اورفوجی طالع آزماؤں کے خلاف سر پر کفن باندھے  ہوں !!  اب ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ حقوق اور جمہوریت کی  طویل جدوجہد میں صوبہ  سندھ کی قربانیوں اور جدوجہد کے نتیجے میں ہونے والے  معاشی اورتعلیمی نقصانات،  امن وامان  کے دیرینہ مسائل کی اصل وجوہات  آئیندہ نسلوں کو قومی میڈیا کے ذریعے بتا کرسندھ اوراسکے عوام کو انکی لامتناہی قربانیوں کا بہترین صلہ دیا جاتا مگر ہوا کیا ؟ ؟ ؟   ان چینلز پر بیٹھے افلاطونوں  نے  سندھ  کو پچھلے چوبیس پچیس سال سے کچے کے ڈاکوؤں،  تھرمیں بھوک، کراچی میں گٹروں کے لاپتہ  ڈھکنوں اور لاڑکانہ میں کتے کے کاٹے کی ویکسین نہ ہونے پر اس طرح لتاڑتا ہے جیسے باقی پاکستان تو  یورپ ،  کینڈا یا جاپان  بن چکا ہے،   جہاں کوئی مسلہ ہے ہی نہیں  اور پھر ایسے منفی ماحول میں سوشل میڈیا پر اداروں اور مخالفین کے "سدھاۓ " ٹرولز جلتی پر تیل ڈالنے کا کام کرتے جاتے ہیں. تعصبی مخالفین تو سمجھ آتے ہیں مگر یھاں تو  کچھ  بے صبرے اور ناشکرے  نادان دوست بھی موجود ہیں جو  سب کچھ جانتے بوجھتے سندھ کے خلاف سازشیوں اور نفرت پھیلانے والوں کا آلہ کاربن  رہے ہیں ان کم عقل لوگوں پر افسوس ہی کیا جاسکتا ہے جو اپنے صوبے پر برا وقت تو خاموشی سے دیکھتے رہے اوراب نسبتا '' بہتر  وقتوں میں ماتم کناں ہیں

 یا رب وہ نہ  سمجھے ہیں نہ سمجھیں گے میری بات ......... دے اور دل انکو جو نہ دے مجھ کو زباں اور 

  نوٹ :  اس بلاگ میں سن دوہزار سات سے صوبہ سندھ  اور خاص طور پر کراچی میں برپا  ہونے والے   مذہبی ، سیاسی اور لسانی دہشتگردی پر تفصیلی بحث نہیں کی گئی اور نہ ہی دو ہزار دس اور دو ہزار بائیس کے اندوہناک سیلاب کا ذکر کیا گیا ہے بوجہ طوالت