Tuesday, August 11, 2026

اس تعصب کےاندھیروں سے تو نکلو باہر ............ پھرکبھی دن ، تو کبھی رات پہ تنقید کرو ( آخری حصہ)

 ہم میں سے اکثر ہیں جنہوں نے مشرقی پاکستان کو بنگلہ دیش میں بدلتے نہیں دیکھا ہم صرف تاریخ کی روشنی سے جانتے ہیں کہ کس طرح متحد ہ پاکستان بنانے والوں کو مغربی پاکستان کی عسکری اور سیاسی قیادت نے ایک طویل عرصے تک اپنے حق حاکمیت سے محروم رکھا۔ تاریخی کتب،  پرانی اخبارات اور کچھ عینی شاہدین بتاتے ہیں کہ فوجی اور سیاسی اسٹیبلشمنٹ ہی نہیں اس دور کے اردو پریس ان میں بیٹھے نسلی تفاخر کے نشے میں مست نیوز ایڈیٹر،  رپورٹر ، لکھاری  اور مغربی پاکستان کی بااختیار قوموں کی سرپھری اشرافیہ  بھی بنگالیوں کو انکی تہذیب، زبان،بود وباش ،سیاسی بصیرت پر لعن تعن کرنے میں پیش پیش تھی

سچ ہے کہ تاریخ اپنے آپ کو دہراتی ہے مگر ممالک اور اقوام  کی بدقسمتی کہ وہ جانتے بوجھتے  اپنی بدقسمت تاریخ کو ہر بار دہراتے ہیں، حادثہ ہوتا ہے ،وقت گزر جاتا ہے اسکے بعد اپنی غلطیوں  کا ماتم کرتے ہیں اور دوبارہ بدقسمت قومیں ایک اور المیہ برپا کرنے غلط راہ پر چل نکلتی ہیں.    سندھ آج وہیں کھڑا ہے جہاں کل مشرقی پاکستان کھڑا تھا ، آج بھی اسکی سیاسی پسند کو اسی طرح حقارت  کی نظر سے دیکھا جارہا ہے جیسے بنگالیوں کو عوامی لیگ کے انتخاب پر دیکھا جاتا تھا کل بنگالیوں کو ہمارے " اکابرین" نے "سوکھا سڑا کالا "کہا آج بھی وزیر اعلی پنجاب جس نام نہاد صحافی دادا کو تھپکی دیتی ہیں وہ  سندھیوں کو " بندر " سے تشبیہ دیتے ہیں  اور پھر جیسے ڈھاکہ میں رہنے  والے بہاری، بنگالیوں کو استہزاء کا نشانہ بناتے تھے آج بھی کراچی میں بسنے والے اردو اور پنجابی بولنے والے صحافی، فنکار ،سیاسی اور لسانی تنظیموں کے ارکان ،مقامی ابادی کی اجرک ،ٹوپی اور زبان پر لطیفے بناتے ہیں، میڈیا پر نشانہ بناتے ہیں اور سوشل میڈیا پر تضحیک کرتےہیں 

کراچی سندھ کا شہر ہے جیسے لاہور پنجاب کا شہر ہے کیا کوئی صحیح دماغ سوچ سکتا ہے کہ لاہور میں پنجابیوں کو " غیر مقامی" پکارے؟  یا انکی لاہور میں روزی روٹی، تعلیم اور ریہاش پر  تنقید کر سکے؟ کیا موسمیاتی تبدیلیوں نے نیو یارک سٹی، جدہ ،دبئی، ممبئی کو نہیں ڈبو دیا کہ کراچی میں بارشوں اور  سندھ میں سیلاب کو منتخب حکومت کی نالائقی قرار دیا جائے کیا کوئی رپورٹر یا  افلاطون اینکر  قرآن پر یہ قسم کھا سکتا ہے کہ پیپلزپارٹی کے مئیر سے پہلے نہ کراچی میں بارش ہوئی نہ سیلاب آیا نہ پانی ،بجلی ،ٹوٹی روڈز کا مسئلہ رہا ؟ کیا کراچی میں پہلی بار اسٹیٹ کرائمز ہورہے ہیں کیا پورے پاکستان میں کہیں بچے ،بڑے گٹر میں نہیں گرتے یا پاگل کتے صرف سندھ میں ہی کاٹتے ہیں ؟

 سندھ حکومت اور کراچی کی لوکل گورنمنٹ پر مسلسل تنقید  اورمتعصبانہ رائے  دے کر سوشل میڈیا کا بھرپور منفی استعمال کیا جاتا ہے جس کی کچھ مثالیں پچھلے بلاگ میں پیش کر چکی ہوں ایک دو اور ملاحظہ فرمائیں جن سے امتیازی سلوک اور منفی تنقید چھلک رہی ہے







یہ "صحافی " ہیں؟  جو سیاسی کارکنان کی طرح لوگوں کو اپنی پسند کی پارٹی کو ووٹ دینے کی کیمپین چلا رہے ہیں وہ بھی صرف کراچی کے لیے . نہ یہ لاہور میں بلدیاتی حکومت کی عدم موجودگی پر ٹویٹس کرتے ہیں نہ کویٹہ ، پشاورمیں کسی پارٹی کی حمایت یا مخالفت کرتے ہیں کیوں ؟  جواب ندارد 


ان صاحب کو نہ بلدیہ فیکٹری میں دوسو زندگیوں کے جلنے پر مصطفی کمال سے  استعفی لینے کا خیال آیا نہ ہی حفیظ سینٹر لاہور کے جلنے پر" لاہور کے مئیر کا نام" پوچھنے کا!!!  استعفی تو خیر کیا مانگتے ؟ کبھی آپ نے ان نیوز ریڈرز کو پشاور میں بیس گھنٹے فیکٹری میں لگی آگ پر میئر پشاور حاجی صاحب سے استعفی مانگتے دیکھا ؟  کچھ عرصے پہلے ہی ایک خاندان کے سات افراد پشاور میں آگ لگنے سے ہلاک ہوئے لیکن جیو نیوز کےملازم صاحب کو نہ پشاور کے میئر کا نام پتہ ہوگا نہ کام کیا یہ امتیازی رویہ نہیں ؟  کیا یہ کسی ایک صوبے کے شہر کو  اپنے میڈیائی پلیٹ فارم سے تختہ مشق بنانا نہیں ؟  ایسا کیوں
ہے؟ ؟ 
 
 اور ان صاحب کی ٹویٹ ملاحظہ فرمائیں جو بھارت کی لائین لیتے ہوے سندھ پر سیلاب آنے کی خوشیاں منا رہے ہیں 



اور اب نفرت اور تقسیم کی یہی بیل  مزید  زور شور سے پروان چڑھا ئی جارہی ہے کیونکہ سندھ کے "حصے بخیے " کرنے کا آرڈر جاری ہوگیا ہے اور پاکستان کی سیاسی تاریخ گواہ ہے کے نت نئے ناکام منصوبے کون بناتا ہے اور انپر عمل درآمد کے لیے سب سے پہلے کس ادارے کا سہارا لیا جاتا ہے اگر آپکو یہ معلومات نہیں تو کسی مستند صحافی سے جرنیل ضیا اور مجیب الرحمان شامی کی گفتگو کی کہانی سن لیں سب سمجھ آجاۓ گاکہ مملکت پاکستان میں  کل کی پریس اورآج کا میڈیا مضبوط جمہوریت کے حقیقی دشمن ہیں
پھرمنفی سوچ  پھیلانے کے ساتھ ساتھ  جھوٹی خبروں سے بھی خوب کام چلایا جاتا ہے اور حد یہ ہے کہ خبر جھوٹی ثابت ہونے پر نہ ملال ہے نہ  افسوس



سو ایک لمبی فہرست ہے کہ اگر ہر فیس بک پوسٹ یا ٹویٹس اور کمنٹس کو کاپی پیسٹ کیا  جاۓ تو شاید ایک کتاب بن جائے ۔ہوسکتا ہے کسی "سانحے" کے بعد ایسی کتاب بھی تاریخ کا حصہ بن جائے جس میں ان تمام افراد کو قومی مجرم گردانا جائے جو اپنے تعصب ، مفاد پرستی ،کسی ادارے کے دباؤ، بھاری لفافے یا اپنی بیمار ذہنیت کی وجہ سے پاکستان قائم کرنے والے  صوبے سندھ ،اسمیں  ھزاروں برس سے بسنے والی باشعور، امن پسند ، اپنی تہذیب و تمدن و زبان پر پہرہ دینے والی قوم اور اسکے سیاسی انتخاب کو مسلسل نکتہ چینی، بدزبانی ،منفی تنقید اور  استہزاء کا شکار بنا رہے ہیں 

یہ دو اقساط پر مبنی بلاگ بھی اب تاریخ کا حصہ بن جاۓ  گا ،  ہم سب جانتے ہیں  کہ تکبر اور جہالت میں لپٹے اذہان نے پاکستان بنانے والے بنگال کو مطعون کر کے علیحدہ کرنے کے بعد بھی کچھ نہیں سیکھا تھا ، اور آج بھی پاکستان بنانے والےدوسرے صوبے  سندھ کو یہی  بیمار ذہنیت مسلسل اپنے منفی خیالات ، تحقیر و استہزاء کا شکار بنا کر علیحدگی کی بنیاد رکھنے سے  باز نہیں آرہی  . متحدہ پاکستان کے خاتمے کے بعد اس بچے کچے ملک پر وار کرنے والے اپنا کام کرتے رہیں گے اور میرے یا آپ جیسے بہت سے یہی کہتے رہیں گے کہ 

ڈوبتے ڈوبتے کشتی کو اچھالا دے دوں

 میں نہیں کوئی تو ساحل پہ اتر جائے گا

  


 

اس تعصب کےاندھیروں سے تو نکلو باہر ............ پھرکبھی دن ، تو کبھی رات پہ تنقید کرو ( حصہ اول )

جرنیل ضیا الحق کا گیارہ سالہ  دور حکومت جس کو بھی یاد ہے وہ جانتا ہوگا کہ پاکستان کی اگلی پچھلی تاریخ میں ایسا بدترین وقت پاکستان کے عوام پر با لعموم اور سندھ کے عوام پر بالخصوص  نہیں آیا . کھیتوں میں ملتی سیاسی کارکنوں کی تشدد زدہ لاشیں ،  رہنماؤں کی پھانسیاں ،  جلاوطنیاں ، لمبی جیلیں ،  عوام پر فوجی  ہیلی کاپٹروں کی فائرنگ ،  جلتے گاؤں اور قتل کیے جاتے دیہاتی عوام . ان دنوں پیپلزپارٹی کےغیر تعلیم یافتہ یا کم تعلیم یافتہ ووٹرز اور سپورٹرز کی ہی فوجی حکومت کے ہاتھوں شامت نہیں آتی تھی  بلکہ  سندھی بولنے والے ڈاکٹروں ،  وکلاء ، فنکاروں اوراستادوں پر بھی ریاستی تشدد جاری تھا اس سب کےباوجو بھی جرنیل ضیا اور اس کے کاسہ لیس  سندھ کو بقیہ پاکستان کی نظر میں مطعون  نہ کرسکے 

اگر اس وقت جرنیل ضیا کو پتہ ہوتا کہ سندھ کسی  فوج کشی اور غداری کے  بیانیے کے ذریعے بدنام نہیں ہوگا  بلکہ ریاستی چھپر چھاؤں میں بننے والے  نیوز میڈیا چینلز اور ان پر بیٹھے متعصب دماغوں کی شیطانیت سے صرف پاکستان ہی  نہیں ساری دنیا میں لعن طعن کا شکار ہوجاۓ گا،  تو وہ فوجی آمر  یقینن یہ بھی کر گزرتا

امر واقعہ یہ ہے کہ ایک اور فوجی آمرمشرف  نے الیکٹرانک نیوز میڈیا چینلز کا اجراء اسی ایجنڈے کے ساتھ کیا تھا کہ ادارہ جہاں چاہے اور جب چاہے اپنا بیانیہ بیچے .ان  تمام چینلز کا تعلق نہ خبروں سے ہے نہ معلومات کی فراہمی  سے اور نہ ہی عوامی فلاح و بہبود  کے کسی منصوبے سے ، ان دکانوں پر صرف اسٹیبلشمنٹ کا بیانیہ بیچا جاتا ہے جس میں چینلز کے مفاد پرست مالکان اور اینکرز کی کرسیوں پر بیٹھے  "دولے شاہ کے چوہے  " اپنے لسانی ،  سیاسی تعصب اور لفافے کے حجم کے مطابق حصہ  ڈالتے ہیں.  جو باقی کسررہ گئی تھی  وہ سوشل میڈیا کی آمد نے پوری کردی .اب یہی شاہ دولے کے چھوٹے  چھوٹے سروں والے نیوز ریڈرز اور"سئینر تجزیہ کار" چینلز دیکھنے والےہجوم کو اپنا "فالوور " بناتے ہیں  اورانکو اپنے سوشل میڈیا پیج پر مزید بے راہروی کا شکار بناتے ہیں اور یوں نفرت کے یہ بیوپاری اپنا مال بیچتے ہیں 

دوہزارآٹھ سے شرو ع ہونے والے جمہوریت کے سفر نے، نام نہاد آزاد میڈیا کا اصل چہرہ ہمیں دیکھادیا تھا اوروقت گزرنے کے ساتھ ساتھ یہ آمرانہ  ایجنڈا پرچلتے چینلزایکسپوز ہوتے چلے گیے دو ہزار نو سے انکا خاص تخت مشق سندھ رہا ، کراچی ان دنوں اسٹیبلشمنٹ کے کاسہ لیسوں کی آماجگاہ تھا سو یہ  نوحے اکثر  وفاق کی "نااہلی " اور سندھ کی بدحالی تک رہے . اس  تمام عرصے میں صوبہ  پنجاب ، پختونخواہ حتی کہ  بلوچستان بھی اس میڈیا کے شاہ دولوں کو" جنت نظیر" دیکھائی دیتا رہا  

نواز لیگ کا وفاق میں آنا تھا کہ  پنجاب اور کراچی کے عمر  رسیدہ صحافییوں اور شدید سینئیر تجزیہ کاروں کی طرف سے " قبول ہے قبول ہے " کی آوازیں آنے لگیں اب  چینلز کوسندھ پر توپیں داغنے کا مکمل لائسنس ملنے والا تھا مگر اچانک سے  محترم نیازی المعروف عمران خان صاحب نے ڈی چوک میں دھرنا بیٹھا دیا اور میڈیا کوحوا لداروں نے آرڈر دیا کہ اپنے "مال مویشی " دھرنے کی مشہوری میں جوت دو.... ..... سو غلام میڈیا نے سندھ کو ایک سو چھبیس دن کے لیے "سانس " "لینے کی آزادی دے  دی 

وزیراعظم بننے کے بعد عمران خان  اور ان کو وزیراعظم سلیکٹ کروانے والوں نے ایک بار پھر میڈیا کے تنخواہ داروں کو سندھ اور اسکے دارالحکومت  کراچی  پر " چھوڑ " دیا اور سوشل میڈیا پر موجود انسانی اور غیر انسانی روبوٹس کو بھی یہی آرڈرز ملے . ایک طوفان بدتمیزی تھا جو سندھ اور اسکی عوام کو " نسلی غلام " نسل پرست ،  جاہل ،  ذہنی غلام ،  زندہ لاشیں جیسے القابات سے نوازتا تھا اور کیونکہ عمران خان صاحب کو وزیراعظم کے پیکج میں"صحافییوں " کی بھی ایک کھیپ ملی تھی لہذا جعلی تصاویر ، جھوٹی خبروں اور رائی کے پہا ڑ بنانے اور انکو پوسٹ کرنے ، ریٹویٹ کرنے والوں کا ایک جم غفیر تھا جس میں ایک عنصر پاکستان سے باہر رھنے والے  افراد  کا بھی تھا  جن کی اکثریت تو پنجابی ہے نہ انکو سندھ کا حال  پتہ تھا نہ احوال مگر مکھی پر مکھی مارنا گوروں نے سیکھا دیا تھا سو وطن سے جان چھڑ ا کر جانے والے بھی سندھ کے خلاف " محاز " کھولنے کے کار خیر میں شامل رہے 

یہ سلسلہ آج بھی جاری ہے اور جیسے کہ تمام  قومی سازشوں کی پہلے سے آبیاری کی جاتی ہے اسی طرح پاکستان میں نئے  صوبوں کا شوشہ بھی چھوڑنے سے پہلے صوبہ سندھ ، اسکی حکومت ، شہروں اور خاص کر  صوبائی دارا لحکومت کو  بدنام کیا گیا اور مسلسل کیا جارہا ہے 

اسکی بہترین مثالیں قارین  کے سامنے ثبوت کے طور پر پیش کرتی ہوں 

  موسمیاتی تبدیلیوں نے گزشتہ کچھ سالوں میں  ممبئی ،  نیویارک  سٹی ،  دبئی اور ریاض و جدہ جیسے اربن علاقوں کو ڈبو ڈالا کراچی کس کھیت کی مولی تھا ؟  یہاں تو موسمیاتی تبدیلیوں سے پہلے بھی برا حال رہا خاص طور پر جرنیل مشرف کے زمانے میں جب ایم کیو ایم کے حمایت یافتہ مصطفی کمال کراچی کے میئر تھے ایک دن میں دوسو ہلاکتیں کراچی کی بارشوں اور تیز ہواؤں کی وجہ سے ہوئیں اس دور میں پی ٹی وی نہیں بلکو یہ تمام نجی چینل موجود تھے مگر "خاموش "تھے کیونکہ "اوپر سے آرڈرز " نہیں ملے تھے اور اینکر نامی مخلوق  تعصب کیسے کر تی ؟  بھلا اپنوں سے تعصب کون کرتا ہے ؟ ؟   

 پھر سن دو ہزارتئیس  میں پیپلزپارٹی کے میئر مرتضی وہاب  کا منتخب ہونا میڈیا والوں کے لیے سوہاں روح بن گیا. اب تو ایسا لگتا ہے کہ کراچی میں بوندا  باندی ہونا بھی ایسا عذاب ہے جو نہ کہیں آیا تھا نہ آے گا. آج بھی لاہور، فیصل آباد  ڈوبتا ہے ، اسلام آباد  نالہ لیئ  بن جاتا ہے ،سوات ، مردان ،   پشاور ہرسال ڈوبتے ہیں ،  بلوچستان تو صرف ڈوبتا نہیں بلکہ بیشمار ہلاکتیں بھی ہوتی رہیں مگرصحافیوں  کو کبھی مندرجہ ذیل قسم کی ٹویٹ مسلم لیگ  نون ،  میم  ، ش  اور تحریک انصاف ع ،  پ ، ایف   کے لیے  کرنے کی توفیق نہ ہوئی 







پھر محترمہ نیوز ریڈر عرف نیوز اینکر صاحبہ کا پنجاب کی بارشوں پر ٹویٹ دیکھیں اور دماغی تعصب کا علاج بھی تجویز  کریں  مطلب کراچی میں تو "عوام ذلیل و خوار " ہورہی ہے اور پنجاب میں " پاکستانیوں "پر مشکل گھڑی ہے جسمیں یہ نیک دل خاتون اللہ سے رحم طلب کر رہی ہیں 



 سندھ کےایک علاقے میں آتش زدگی سے نو ہلاکتیں ہوتی ہیں اور مری میں برف باری میں پھنسے  بائیس مسافروں کی   ہلاکتوں کی خبر بھی آتی ہے جس پرایک طرف  خبروں  اور تجزیوں میں اردو  چینلز اپنی متعصبانہ سوچ کو ظاہر کررہے تھے  تو دوسری طرف موصوف صحافی صاحب کی ٹویٹس سے  امتیاز اور تفریق ابل ابل کر باہر آرہے تھے . ملاحظہ ہو

اور تعصب کی اس بہتی گنگا میں کرکٹر ، فنکار اور کامیڈینز بھی ہاتھ دھونے پہنچ جاتے ہیں .ان موصوف سابق کرکٹر کی عقل یہ ہے کہ بیٹھے لاہور میں ہیں ،  تصویر بھارت کی ہے اور استہزاء  کراچی کا !!!  مزید ڈھیٹائی کیا ہوگی ؟ ؟ 


سوال یہ ہے کہ قدرتی آفات ، حادثات کہاں نہیں ہوتے مگر جس طرح  تقسیم ، نفرت ، منفی سوچ اور ایجنڈا چلانے والے پاکستانی نیوز میڈیا نے قدرتی آفات اور حادثات کو اپنے مذموم مقاصد کے لیے استعمال کیا ہے اور پھر سوشل میڈیا پر  سندھ اور پیپلزپارٹی کو اپنے  لسانی اور سیاسی تعصب کا نشانہ بنایا ہے وہ ناقابل فہم ہے یعنی حقارت ،  نفرت اور نسل پرستی  کا ایک ایسا سلسلہ شرو ع کر دیا گیا ہے جو آئیندہ بھی پاکستان کی جڑوں کو کمزور کرتا رہے  گا  


جاری ہے ........