Friday, August 28, 2015

کبڈی

کبڈی

 کبڈی پنجاب کا قومی کھیل ہے. اگرآپ خاتون ہیں اور وہ بھی ذرا نازک ترین حس لطافت کا شکار تو یہ کھیل ٹی وی پر دیکھنا بھی آپکی طبیعت پرگراں گزر سکتا ہے مگر کو شش کریں کہ بات کی تہہ تک پہنچنے کے لیے ہمت ، حوصلہ اور " مردانگی " سے کام لے سکیں .
اس کھیل کے بنیادی اصول تمام پاکستانی ریاست و سیاست پرحا وی ہوچکے ہیں اس لیے بھی کہ صوبہ پنجاب آبادی کے لحاظ سے پاکستان کا سب سے بڑا صوبہ ہے، اتنا بڑا کے اپنی آبادی کو  دوسرے صوبوں کے کونے کونے تک پہنچا دیا ہے اور اس لیے بھی کہ ملک کے  طاقت ورمقتدرہ حلقوں میں سینٹرل پنجاب کے کبڈی یافتہ افسروں کی بہتات ہے اور اگر وہ اپنے دلپسند کھیل کے بنیادی اصولوں کو اپنے محکموں پرلاگو نہیں کریں گے تو کیا میں کروں گی ؟
 کبڈی کے اس حیرت انگیز کھیل پر غور کریں. ایک کھلاڑی دوسرے سے نبرد آزما ہونے کو تیارنہیں بلکہ صرف " چھیڑخانی " کے لیے حریف ٹیم کے غول میں جاتا ہے. مزید یہ کہ اپنے حریف کے کاندھوں، بازوں یا سینے پر نہیں بلکہ جھکاؤ دیتا ہوا  اسکی ٹانگوں پر"حملہ آ ور" ہوتا ہے اس طرح کہ ہلکا سا"   چھوا " اور اسکے بعد؟  بس دم دبا کر بھاگنے کی سر توڑ کوشیں، یعنی حوصلہ بس اتنا ہی کہ ہاتھ لگا کر بھا گو!!!  اب حریف ہے جو آپکو بھاگنے نہ دے مگر اسکی بھی پہلی کو شش آپکی " ٹانگیں کھینچنے " میں ہی ہوتی ہے . دام میں آگیا  تو ٹانگیں چھوڑنے کا نام نہیں لیتا اور اگر ہاتھ سے نکل گیا تو اپنی ٹیم تک پہنچ کرایسے تکبراور  اکڑا ہٹ کا مظا ہرہ کرتا ہے کہ توبہ !
اب نظر گھوما کر اپنی سیاست ، حکومت ،پارلیمنٹ ، عدلیہ ، میڈیا اور قانون نافذ کرنے والے اداروں بشمول جاسوسی کے آلات خواتین وزیروں، مشیروں تک کے گھروں میں نصب کرنے والی ایجنسیوں کی طرف دیکھیں . " کوڈی ، کوڈی ، کوڈی کرتی ایک دوسرے سے چھیڑخانی میں مصروف ایک ہاتھ لگا یا اور پھر یہ جا وہ جا ! دھر لیۓ جائیں تو شرمندگی مٹانے کو یہ نعرے کہ " بین الاقوامی سازشیں" پیچھا کرتی ہیں اور ٹانگیں کھینچتی ہیں اور اگر دم دبا کر دوڑ لگانے میں کامیاب ہوگیے تو سینے پر ایک اور تمغہ ، کاندھوں پر ایک اور پھول!  نہ ذمہ داری کا احساس ، نہ خود احتسابی ، نہ بہادری و جوانمردی نہ ارادے کی پختگی !
ایسا لگتا ہے کہ اس پاکستان نامی گھر کا کوئی بھی ما لک مکان نہیں یا  جو مالک تھا وہ  بے چارہ سوتیلی اولاد کے ذمے چھوڑ کر اللہ کو پیارا ہوگیا ہے اور سوتیلی اولاد نے بھی ڈھونڈ  ڈھونڈ کر ایک سے بڑھ کر ایک کمبخت کرایہ دار رکھا ہے جو نہ کرایہ دیتا ہے نہ مکان چھوڑتا ہے .
 ہمارا ماضی  یقینن بہت "تابناک " ہے مگر یہ تابناکی دیکھنے اتنی دور کیوں جائیں جب کہ ابھی بھی لاکھوں نہیں کروڑوں  آنکھوں کے سامنے " کبڈی " کا عمل جاری و ساری ہے . کچھ کھلاڑی حریف کے غول میں گھسے اسکی ٹانگیں کھینچنے کے عمل کو لمبا کرتے جارہے ہیں چاہے اس عمل میں حریف کی ٹانگوں کی بجاۓ اپنا اور اسکا سر بوٹ والوں کا فٹ بال بن جاۓ مگر " کوڈی ، کوڈی " کی دھن پر بھنگڑے ڈالنا نہیں چھوڑیں گے.
بہادر اتنے ہیں کہ عورتوں اور بچوں کے ترلے منتیں کرتے جاتے ہیں " مجھے چھوڑ کر مت جانا " حالاں کہ یہ تو بہت پہلے فیصلہ ہو چکا ہے کہ " دل توڑ کے مت جیو برسات کا موسم ہے ، مجھے چھوڑ کے مت جیو بر سات کا موسم ہے " !
لطف کی بات اس بار یہ ہے کہ  اکھاڑے کے دونوں جا نب ہی کبڈی کے کھلاڑی ہیں  وگرنہ اس ملک خداداد میں اکثر ایک طرف کبڈی کے مشاق کھلاڑی  اور دوسری طرف" کنچے " کھیلنے والے مار کھانے کی نشانیاں ! یعنی ابھی وہ نشانہ باندھ کر اپنی انگلیاں ہی مروڑ رہے ہوتے ہیں کہ کبڈی کا کہنہ مشق صرف  ہاتھ لگا کر نہیں بلکہ " دو چار"  لگا کر منہ کے بل گرا کر دوڑ لگا دیتا ہے اور پھر اپنی "رسی " کے پار جاکر عوام سے اپنی " بہادری وجوانمردی " کی داد بھی  وصول کرلیتا ہے . مگر وہ کہتے ہیں نا کہ خدا کے یہاں دیر ہے اندھیر نہیں تو جناب اس بار اکھاڑہ سجا اور دنگل کا بگل بجا تو پاکستانی عوام کیا دیکھتے ہیں کہ دونوں طرف ہی " کوڈی کوڈی " کی صدا ئیں ہیں .دونوں ہی فریق  " چھیڑخانی " پر تلے ہیں. کبھی ایک" اوے" کی صدا  لگاتا ہے تو کبھی دوسرا "  جا ا وے " کا آوازہ کستا ہے.
 ایک دھاندلی  تو دوسرا کرپشن اور تیسرا  ان دونوں پر بغاوت کے الزامات لگا رہا ہے. حالانکہ ایک دوسرے کے گریبان نوچنے سے پہلے اگر اپنے سر کو خم دے کر اپنے  گریبان میں جھانکیں تو انہیں وہاں دھاندلی کے ساتھ نا انصافی ، کرپشن کے ساتھ منافقت اور بغاوت کے ساتھ  مفاد پرستی اور سودے بازی کے پھوڑے پھنسیاں ملیں گے جنہیں اب خالی مرہم کی نہیں سرجری کی بھی ضرورت ہے.
سو اے  پیارے پاکستانیوں !!   اس بارکبڈی کے میچ کا فیصلہ جلد نہ ہونے کی وجہ بھی یہی ہے کہ دونوں طرف ہے آگ برابر لگی ہوئی .... یہ بھی مخالف پر ہاتھ مار کر یہ جا وہ جا ، وہ بھی مسلسل کوشش میں کہ ٹانگیں کھینچ کر خوار کروں چاہے اس تگ و دو میں جسم پر موجود آخری کپڑا بھی اتر جاۓ .



ہی کہا تھا میری آنکھ دیکھ سکتی ہے ...... کہ مجھ پہ ٹوٹ پڑا سارا شہر. نابینا




فرزانہ مجید بلوچ بول رہیں تھیں ، مسلسل .... انکی آواز میں تلخی گھلتی جار ہی تھی ایسا لگنے لگا کہ میرے آنسوں بھی انکےگلے میں اٹکنے لگے ہیں " ہم پاگل لڑکیاں  نہیں ہیں ،ہم ڈرامہ نہیں کر رہے تم ہم سے ڈرامہ کر رہے ہو" میں نے اپنی آنکھیں بند کر لیں میرے آنسوں ،ہچکیوں میں بدل گیۓ! یا خدا ! کیا وقت ھے اس بدقسمت ملک پر ایک بہن جو اپنے بھائی کے لیے در بدر ہے انصاف ڈھونڈ رہی ہے، اسکی اس ملک کی  عدالت میں شنوائی ہے نہ حکومت میں پاکستانی میڈیا جو پچھلے تین چار ما ہ سے ان جی دار بلوچوں سے نہ نظریں ملا رہا تھا نہ انکے جائز مطالبات ملک کےطو ل وعرض میں پھیلانے کے لیے تیار تھا ایک دم سے بھوکے بھیڑیوں کی طرح ان تین ہزار کلومیٹر کا سفر کر کے اسلا م آباد کے بیدرد  و بے وفا شہر میں پہنچنے والے اپنے پیاروں کے لیے تکلیفیں سہنے والے مظلوم قافلے پر ٹوٹ پڑا
ا یک اینکر نے تو حد کر دی یہ کہہ کر کے آپ کے ساتھ ہزاروں افراد نہیں پھر کس طرح آپکی مظلومیت اور جائز مطالبات کا یقین کیا جاۓ یعنی اب ظلم کے خلاف آواز اٹھانے کے لیے بھی اسی طرح ہزاروں گواہ چاہیے ہونگے جیسے اسلامی نظر یات کونسل کے ایک بودے فیصلے کے مطابق زیادتی کا شکار خاتون چارگواہ اکھٹے کرے تو اس پر ظلم توڑنے والوں کا گریبان پکڑا جاۓ گا.
یہ پڑھے لکهے جاہل جو ہر روز پاکستانی ا سکرینوں پر آٹھ بجے اور دس بجے اپنی اپنی " چھا بڑیاں " لگا کر گرم گرم مال کی صدا لگاتے ہیں اپنی جیبیں بھر تے ہیں چاہیے انکے گرم مال سے اس عوام کا منہ ہی جل جاۓ جو سستی کی ایسی ماری ہےکہ اپنے ارد گرد پھیلے ظلم کو جاننے کے لیےبھی اسکوایک کیمرے اور اینکر کی ضرورت ہوتی ہے
حقیقت حال تو یہ ہے کہ مغربی اکثریتی آبادی کے صوبے کو یہ تک نہ  پتہ چلا کہ اس سے بڑی آبادی کا مشرقی صوبہ کب اور کس طرح بے زاری کے ایسے دریا کو پار کرگیا جہاں سے اسکا لوٹ آنا اتنا ہی مشکل تھا جتنا آج فرزانہ مجید بلوچ  کے دل میں بھرے شک اور آواز میں بسی شکایت کودور کرنا.
لیکن یہ بات وہ کیا سمجھیں گے جن کے لیے پاکستان کی تاریخ کی پہلی "فوڈاسٹریٹ  " قائیم کی گئی جہاں کوئی
شاعر ،ادیب قصہ گو، فلاسفر اور مفکر اپنی ذہانت کے موتی بکھرنے نہیں آتا بلکہ صرف اور صرف کھانا کھانے والے جاتے ہیں جنہوں نے اپنی زندگی کا مقصد ہی ہلاگلا اور کھانا پینا بنا لیا ہو انکی  تکا لیف بھی انہی بے معنی چیزوں کے گرد پھرتی ہیں ،انکی زندگی کے مسایل بھی کھانےپینے سے جڑے ہوتے ہیں اسی لیے شہروں میں پھوٹنے والے ہنگاموں کا تعلق نہ کسی ظلم کے خلاف جلوس سے ہوتا ہے نہ کسی ناانصافی کے خلاف توڑ پھوڑ سے بلکہ ادھر "سوئی گیس " غایب ہوئی ادھر ملک بھر کے بھوکے سڑکوں پر موجود اپنے حکمرانوں کو حرام و حلال جانوروں سے تشبیہہ دینے لگتے ہیں.
کاش یہ لوگ جتنا وقت ڈھول ڈھمکوں اور کھانے پینے کی عیاشی میں گزارتے ہیں اتنا اپنے دائیں بائیں ظلم کے خلاف اپنی توانائیا ں خرچ کرنے میں لگاتے تو نہ آج پاکستان کی یہ حالت ہوتی نہ بلوچستان کی اور نہ فرزانہ مجید کی آواز میں دکھ ،تلخی اور شکایت ہوتی
کاش ہمارے کا ندھوں پر رکھے سروں میں دماغ نام کی کوئی چیز ہوتی اور اس سینے میں پتھر کی بجاۓحساس دل ہوتے تو ہم جان سکتے کہ بلوچوں نے کیا سوچا ھوگا جب انکے منتخب وزیر اعلی کو پنجرے میں بند کیا گیا ،  کیا کبھی پنجاب کے اپنے آپ کو صبح شام " خادم اعلی" کہنے والے شہباز شریف کو بھی کسی پنجرے میں بند کر کے کورٹ کچہری پیش کیا جاۓ گا؟ کیا آپ ایسا کبھی سوچ بھی سکتے ہیں؟
کیا اگر نواز شریف ،چودھری شجاعت یا پھرشیخ رشید جیسے آخری صفوں کے نام نہاد رہنما کو سرداراکبر خان بگٹی شہید کی طرح پہاڑوں میں چن دیا جاۓ اور انکے تابوت کو تالے ڈال دیۓ جائیں تو محب وطنی کے دعوے دار اس ملک سے کس طرح کا سلوک کریں گے ؟ یہ تو چینی کے چار آنے بڑھنے اور آٹے کے دو روپے زیادہ ہونے پر چیخ و پکار شرو ع کردیتے ہیں اگر یہاں  ٨٠٠٠ افراد غایب کردیۓ جائیں اور پھر عدالتیں بازیابی کا حکم دیں تو انہی عدالتوں کا منہ چڑانے کوانکے پیارں کی مسخ شدہ لاشیں ویرانوں میں پھینکی جائیں کیا تب بھی یہ لوگ سب سے پہلے پاکستان کا راگ الاپیں گے ؟ کیا اس وقت یہ اتنے پرامن اور صابر رہیںگے جتنے آج ماما بلوچ اور ان کے ساتھی ہیں ؟ اگر ایسا ھوگا تو انکی وطن پرستی کو ساری بلوچ قوم سلام پیش کرے گی وگرنہ حال تو یہ ہے جو بہادرذاکر مجید بلوچ  کی عظیم بہن اور بلوچستان کے حقوق کی جنگ لڑنے والے ہراول دستے کی بلند کردار و باہمت فرزانہ مجید بلوچ نے کہا
   "ہم لوگ  ڈرامہ نہیں کر رہےآپ لوگ  ہمارے ساتھ ڈرامہ کر رہے ہو ،ڈرامہ کر رہے ہو بلوچ ماؤں اور بہنوں کے ساتھ".
مگر اس بار یہ ڈرامہ ریاست کو پہلے سے زیادہ مہنگا پڑے گا کیونکہ یہ  1970ء نہیں بلکہ 2014 ء ہے .