Thursday, July 7, 2016

" منٹو کون تھا " ایک صاحب کا بھرپور تجزیہ :P


منٹوکی  شخصیت کے  بارے میں ایک ادبی  سائیٹ کے  تبصرہ کار  کی  راۓ ملاحظہ فرمائیں 
سعادت حسن منٹو ایک حساس شخصیت کا مالک تھا۔ وہ کسی وجہ سے کسی کو نا پسندکرتا تو پھر خاطر میں نہیں لاتا تھا۔ اس کی انا اگر مجروح ہوتی تو آگے والے کیشامت ہی آ جاتی۔ واقعات بھرے پڑے ہیں.ان کا تعلیمی کریئر حوصلہ ا‌فزا نہیں تھا۔ میٹرک کے امتحان میں تین مرتبہ فیل ہونے کےبعد  ١٩٣١میںیہ  امتحان  پاس کیا تھا۔ کثرت شراب نوشی کی وجہ سے انتقال کر گیۓ 
یہ ایک " ہکلا پھلکا " تبصرہ ہے جو اس صدی کے عظیم لکھاری  پر کیا گیا؟


Thursday, May 12, 2016

12 May 2007


Remembering 12th May 2007


آج کا دن  زبوں ہے میرے دوستو 
آج  کے دن تو یوں ہے میرے دوستو 
جیسے درد و الم کے پرانے نشاں 
سب چلے سوۓ دل کارواں ، کارواں 
ہاتھ سینے پہ رکھو تو ہر استخواں 
سے اٹھے نالۂ الا ماں ، الا ماں 

Thursday, April 7, 2016

یہ کیا گلشن ہے جس گلشن میں لوگو ............. بہا روں کا کوئی موسم نہیں ہے

یہ کیا گلشن ہے جس گلشن میں لوگو ............. بہا روں کا کوئی موسم نہیں ہے


 پاکستان کے طول ؤ وعرض میں بسنے والے اے وہ لوگو ! جواپنے پیاروں کی طاقتورحلقوں کے ہاتھوں بری 
گمشدگی کے کرب سےعاری ہو اپنے بھائیوں اور بیٹوں کی طرف نظر دوڑا ؤ ! آج وہ تمھارے پاس ہیں اس لیے تم نہ تو کسی کے دکھ کو جان پا رہے ہو اور نہ یہ تکلیف گوارہ کر رہے ہو کہ صرف اتنا سوچ لوکہ ایک قاتل ، ڈاکو ، چور اور عادی مجرم کو تو تمہاری پولیس ،عدالتیں ،حکومتیں یہ حق دیتی ہیں کہ وہ گرفتار بھی ہو اورعدالت میں پیشیا ں بھی بھگتے اور اسکے وکیل صفائی بھی ہوں مگر ایک بلوچ کو  یہ حق نہیں کہ  اس ریاست کے مروجہ طریقوں کے مطابق اسے گرفتار کیا جائے ، اس پر مقدمہ چلایا جائے  اور پھر اس کی ضمانت ہو یا اسے سزا ملے ۔ 
اس کو کیوں اسکے گھر، نوکری ،سفر، کالج سے اٹھایا جاتا ہے پھر برسوں لاپتہ رکھا جاتا ہے، پھر ظلم ،زیادتی ،جبر کا نشانہ بنایا جاتا ہے اور اپنے ان کا لے کرتوتوں پر پردہ ڈالنے کے لیے کبھی اسکی لاش کو ویرانے میں چیل کوؤں اور درندوں کے سپرد کر دیا جاتا ہے تو کبھی چونا ڈال کر ناقابل شناخت بنا  کر ایک اجتماعی قبر نامی گڑھے میں دفن کر دی جاتی ہے ؟
یہ  فرق کیوں ؟ یہ امتیاز کیوں ؟ یہ درندگی کیوں ؟ 
پاکستان کی تقدیر کے جھوٹے ٹھیکیدار اور انکے چیلے چانٹےکہتے ہیں کہ وہ  گمشدہ اور پھر قتل شدہ لوگ پاکستان سے آزادی چاہتےتھے ؟ یہ کون ثابت کرے گا کہ اجتماعی قبر میں پڑی لاش پاکستان سے علیحدگی
 چا ہتی تھی ؟ کیا لاش کسی مردہ خور پاکستانی میڈیا اینکر کو بتائے گی کہ میں گناہ گار تھی یا بے گناہ یا اسکا فیصلہ ہمیشہ کی طرح  ریاست کے گونگے بہرے  اندھے ادارے کریں گے ؟ کیا انہوں نے 68 سال میں کبھی کوئی سچ بولا، جو اب بولیں گے؟ کون بتائے گا کہ جس لاش پر ظلم کے پہاڑ توڑے گئے وہ  کسی ہتھیار بردار  حریت پسند کی تھی یا کسی طالب علم کی یا کسی  قلم سے سچائی کا علم بلند کرنے والے کی ؟ کون فیصلہ کرے گا کہ چونا  لگا کر مسخ کیا گیا کسی ماں کا بیٹا پنجابی مزدوروں کا قاتل تھا ، بلوچستان کے حقوق کے لیے آواز بلند کرنے والا دلیر تھا یا دن رات مزدوری کرکے اپنی بہن کی شادی کے خواب دیکھنے والا ایک عام سا بلوچ محنت کش ؟
اگر کوئی بے وقوف ،احمق آج کل کی دنیا میں یہ سمجھتا ہے کہ وہ کسی کو اغوا کر کے اپنی درندگی دیکھا کر کسی کی لاش ویرانوں میں پھینکوا کر یہ کہہ دے گا کہ مرا ہوا شخص “غدار ” تھا اور میرے کہنے پر یقین کرلؤ صرف اس لیے کہ میں نے کلف زدہ یونیفارم پہن رکھی ہے، چار بلے سینے پر لگا لیے ہیں، بغل میں ایک دو ٹکے کی چھڑی دبائی ہو ئی ہے تو اسکو یقینن آپنا علاج  کسی ماہر نفسیات سے کرؤ انا چاہیے 
 یہی جھوٹے الزام اور بہتان طرازیاں  تھیں جنہوں نے  پہلے بھی اس زمین کی گود اجا ڑ ی تھی انکی ہٹ دھرمی، کوتا ہ اندیشی اور تکبر پہلے بھی اس دھرتی کے ایک بیٹے کو کھا گیا تھا آج یہ پھر اس بوڑھی دھرتی  ما ں سے اسکا ایک اورسہا را چھین لینا چاہتے ہیں اور افسوس کا مقام یہ ہے کہ آج بھی میڈیا کے گوشت خوروں کی بے رحمانہ روش وہی ہے ، عدلیہ اور حکومت کی وہی نااہلیاں اوران غیر حساس اداروں کا تو کیا ہی ذکر کریں جنہوں نے اس ماں کو بربا د کرنے میں کبھی بھی کوئی کسر اٹھا نہ رکھی سر پر چادر تو کیا دیتے پاؤں کی جوتی بھی چھین لی ! دنیا جہاں میں رسوا کیا اور آج بھی اسکی اولاد کو ایک ایک کر کے اپنی آنا اور تکبر کی بھینٹ چڑھا رہے ہیں
وہ نہیں جا نتے کہ
یہ دھرتی اسی کی ہے ،جو"
ظلم کے موسموں میں
کھلے آسمانوں تلے
"اس کی مٹی میں اپنا لہو گھولتا ہے 

Tuesday, March 1, 2016

Aik Shair :)

اتنے بگڑے ہیں وہ مجھ سے کہ اگر نام ان کے
خط بھی لکھتا ہوں تو سب حرف بگڑ جاتے ہیں

Sadam Karim

Sunday, February 21, 2016

ایف سی کیمپ کے سامنے بیٹھی بلوچ ماں کی فریاد


تحریر شہداد بلوچ
گزشتہ دس دنوں سے مسلسل اک ضعیف العمر بلوچ ماں بلوچستان کے علاقے مند سورو میں واقع ایف سی کیمپ کے مین گیٹ کے سامنے خاندان کی چند خواتین و بچوں کے ہمراہ بیٹھی ہوئی ہیں جو کہ مند گیاب کی رہائشی ہیں ۔ دشمنوں کے بچوں کو تعلیم دینے کے علمبردار اس بوڑھی ماں کے چشمِ چراغ کو اُٹھا لے گئے جو کہ محدود وسائل کے باوجود اپنے قوم کے بچوں کو علم کے زیور سے آراستہ کررہا تھا۔ اُستاد منیر راہشون جو کہ مند گیاب میں واقع اسکول کے ٹیچر ہیں جنہیں رواں سال گیارہ فروری کو ایف سی اہلکاروں نے اسکول میں گھس کر شدید زد و کوب کے بعد بچوں کے سامنے بندوقیں لہراتے ہوئے اپنے ساتھ اُٹھا کر لے گئے تھے۔
اُستاد منیر راہشون کی ایف سی کے ہاتھوں اغوا نما گرفتاری کی خبر جوں ہی اہلخانہ کو دی گئی تو اُستاد منیر راہشون کی ضعیف والدہ خاندان کی کچھ عورتوں و بچوں سمیت مند سورو میں واقع ایف سی کیمپ پہنچ گئیں، گزشتہ دس دن سے مسلسل کیمپ کے مین گیٹ کو اپنے بیٹے کی رہائی کے لئیے دستک دے رہی ہیں، التجائیں کررہی ہے، دُعائیں مانگ رہی ہے، قرآن پاک کی تلاوت کررہی ہے،بوڑھی ماں سمجھ رہی ہے کہ شاید کلامِ پاک کی آواز اایف سی کیمپ میں موجود مومن مسلمان ایف سی افسران کے کانوں میں پڑنے سے اُنکے دل موم ہوجائینگے ، کیونکہ وہ تو سب سے بڑے مسلمان ہیں، اسلام کے رکھوالے ہیں، کشمیر سے لیکر فلسطین کی ماؤں بہنوں کی حالتِ زار کو دیکھ کر اِن مجاہد افسران کے دل خون کے آنسو روتے ہیں تو پھر شاید کلام اللہ کی آواز انکے دلوں میں مجھ بے سہارا بوڑھی ماں کے لئیے بھی کچھ ہمدردی پیدا کرسکےاورمیرےبڑھاپےکےسہارے،علم کی شمعیں جلانے والے بیٹےکو چھوڑ دیں
دس دن گزر گئے ، پچاس فرض نمازیں ایف سی کیمپ کے سامنے آسمان تلے لاچار بوڑھی ماں نے ادا کیں ، نہ یاسین شریف کی بلند تلاوت نے انکے ایمان کو جنجھوڑا اور نہ ہی درود شریف سے انکی صحت پر کچھ فرق پڑا ، کیونکہ یہ راحیل شریف کے پیروکار اور نواز شریف کی جی حضوری کرنے والے مذہب سے تعلق رکھتے ہیں۔ بوڑھی ماں بخوبی جانتی ہے کہ بلوچستان میں بلوچ اُساتذہ کے ساتھ بندوق بردار وردی والے کیسا سلوک کرتے ہیں۔ اُستاد صبادشتیاری ، اُستاد زاہد آسکانی ،اُستاد عبدالرحمن عارف اور کئی دوسرے بلوچ اساتذہ کی مثالیں موجود ہیں جنہیں ریاستی خفیہ اداروں نے اسی وجہ سے قتل کردیا کیونکہ وہ بلوچ معاشرے میں علم و آگہی پھیلا رہے تھے پڑھا لکھا بلوچستان اُن قوتوں سے ہر گز برداشت نہیں ہوتا جو چوبیس گھنٹے صرف ایک ہی خواب دیکھتے ہیں، ’’ ہمارا خواب پڑھا لکھا پنجاب‘‘۔مسلسل نو دِنوں تک مند سور ایف سی کیمپ کے سامنے اپنے بیٹے کے باحفاظت رہائی کا مطالبہ کرنے والی ضعیف ماں نے گزشتہ دن تُربت شہر کا رُخ کیا اور اب وہ تُربت میں واقع ایف سی ہیڈ کوارٹر کے باہر سراپا احتجاج ہیں لاچار ماں اِس امید کے ساتھ تُربت آئی ہیں کہ شاید یہاں اُنکی سُنوائی ہوسکے گی ۔ دس دنوں سے آسمان تلے اپنے بیٹے کی رہائی کے لئیے احتجاج کرنے والی بوڑھی ماں کو میڈیا نے یکسر نظر انداز کیا ہے۔ زندہ ضمیر صحافیوں اور سول سوسائٹی کو چائیے کہ وہ ضعیف ماں کے ساتھ اظہارِ یکجہتی کریں اور انکے بیٹے کے فوری رہائی کے لئیے آواز اُٹھائیں۔ دشمن کے بچوں کو پڑھانے والے میٹرک فیل وردی والے پروفیسرز کی نظر میں اُستاد مُنیر راہشون کا گناہ صرف اتنا ہے کہ انُہوں نے اپنے قوم کے بچوں کی تعلیم کا زمہ اپنے کندھوں پہ اُٹھایا تھا۔

Sunday, February 14, 2016

فیصلہ

جس کاریز سے کل تک تم پانی پیتیں تھیں 
آج  اس  میں 
لہو ہے 
یا آنسو 
اب صدیوں تم کو 
پیاسا  رہنا ھوگا 

a.s