Thursday, October 28, 2021

" ابھی تک ہم نہیں بو لے"

عدل کی کرسی جہاں بے انتہا مضبوط ہوتی ہے وہیں اُسپر بیٹھا شخص پلِ صراط پر چلنے والا وہ  خوفزدہ انسان ہوتا ہے جسکی انصاف سے روگردانی ایک منٹ میں اُسکو جنت سے جہنم میں دھکیل دیتی ہے .افسوسناک  حقیقت یہ ہے کہ پاکستان میں اِس کرسی پر بیٹھنے والوں نے عوام کو ہمیشہ اتنا ہی مایوس کیا ہے جتنا دوسرے "حساس اداروں " نے .اپنے  فرایض منصبی کو ادا نہ کرنا اور دوسرے اداروں کے کام میں بد نیتی سے مخل ہونا  اب قومی کلچر بن چکا ہے جسکے بد اثرات نے معاشرے کو تقریبا ناقابلِ مرمت کردیا ہے 
انصاف کے دہرے میعار نے منصفوں کے چہرے پر سے نقاب تو بہت پہلے اٹھا دیے تھے مگر اب تو ایسی حد آچکی ہے کہ "محترم " کہلانے والے ججز کو گھروں ، محلوں ، گلیوں میں بیٹھے افراد گالیاں دے رہے ، جھولیاں اٹھا کر بد دعا ئیں دے رہے اور ہم سوچ سکتے ہیں کہ جس " ریاست مدینہ " میں  " قاضی القضاء " پر پاکستان مین بولے جانے والی  ہر زبان میں دل کی بھڑاس نکالی جارہی ہو اس ریاست کا انجام کیا ہوگا ؟
نسلہ ٹاورکو بموں سے منہدم کرنے کا فیصلہ ہو یا گجرنالہ کومسمار کرنے کا یا پھر ہزاروں برسرروزگار افراد کے یک جنبش ِ قلم چولہے ٹھنڈے کرنے کا، پاکستان کی  سپریم کورٹ میں بیٹھی "جج " نامی مخلوق  نے نہایت تکبر سےعام شہریوں سے وہ بد سلوکی کی ہےجو پاکستان کی عدالتی تاریخ  پر کلنک کا ٹیکہ بنی رہے گی . کمزوروں پر دانت گاڑنے والے یہی  جج  دوسری طرف بنی گالہ  کے محلات ،بحریہ ٹاؤن اوراسکی زیر نگرانی  کراچی سے پشاور تک  تعمیر ہوتی غیر قانونی ہاوسنگ سوسائیٹیز پرنہ صرف خاموش تماشائی بنے رہتے ہیں بلکہ کوئ  اپیل وغیرہ اِن تک پہنچ جائےتوجرمانے کے نام پر غیر قانونی تعمیر کو قانونی بنانے میں دیر نہیں کرتے ۔ اپنی ریٹایرمنٹ کے آخری دن تک اپنی  لاکھوں کی پنشن اور بے تحاشہ مراعات کے بعد بھی انکو "نئی نوکری " کی فکرپڑی  ہوتی ہے مگر کس جلاد صفت بےرحمی سے سوئی گیس کے ادارے سے ہزاروں افراد کو بیروزگاری کے اندھے کوئیں میں دھکیل گیے  یہ دکھڑا بھی عام لوگ  سوشل میڈیا کے ذریعے ہی سامنے لاسکےہیں  کیونکہ حکومتِ وقت انکی باندی اورمیڈیا انکا غلام جو ٹہرا
  مجھے نہیں معلوم کہ نسلہ ٹاور میں امیر لوگ رہتے ہیں یا غریب یا پھروہ مڈل کلاس طبقہ ، جو پاکستان کی جمہوریت کو تباہ کرنے میں ہمیشہ پیش پیش رہا، میں یہ بھی نہیں جانتی کہ اس ٹاور میں کونسا لسانی گروپ رہتا ہے یا سیاسی طور پر یہ لوگ کس سیاسی پارٹی کے ووٹرز ہیں اور میں یہ سب جاننا بھی نہیں چاہتی کیونکہ یہ سب معلومات  حاصل ہوجائیں تو ہماری انسانی حقوق کے لیے اٹھتی آواز یں یا تو دب جاتی ہیں یا بلکل ہی غائب ہوجاتی ہیں 
مجھے بس اتنا علم ہے کہ  لوگ کس قدر تکلیف اٹھا کر ، پائی پائی جوڑ کر اپنے گھر بناتے ہیں ، کس کی زمین تھی اور کس نے بے ایمانی کی نہ وہ جانتے ہیں نہ یہ انکا قصور ہے کیوں کہ  ریکارڈ بتا رہا ہے یہ معاملہ پچھلی چھ دہائیوں سے چل رہا ہے اور چھ دھائیوں سے مراد یہ کہ پاکستان کی سب سے زیادہ کرپٹ  شہری حکومتیں جو فوجی آمروں کی ناک تلے پنپتی ہیں وہ بھی اس تمام قضئیے میں ملوث رہیں اور یقینن اُنکی کرپشن اتنی " ڈسپلنڈ " ہوتی ہے کہ اس کرپشن کا ملبہ بیس تیس سال بعد کسی  معمولی اہلکار پر ہی گرتا ہے کسی  طاقتور اور بااختیار پر نہیں سو ایسے میں مجبوراورلاعلم لوگوں کے سروں سے چھت کھینچنا  اور وہ بھی  "دہشت گردانہ "احکامات  کے ذریعے یعنی  ہفتے بھر کی مہلت میں عمارت میں ریھائش پزیربچوں، عورتوں ، بزرگوں اور بیماروں کو بجلی، گیس، پانی سے محروم کر دیا جائے اور پھر اِن  لوگوں کی  برسوں سے سجائی،  سنوارئی ریھایش گاہوں کو " بم "سے اڑا دیا جاۓ ایک نہایت ناپسندیدہ امر ہے اور یہ نفرت انگیز کام اُس صوبائی، منتخب حکومت کو کرنا ہے جس  کی گردن  پر ہر وقت وفاق ، فوج اورعدلیہ نے مل کر چھری رکھی ہوتی ہے تاکہ  ذرا سی چوں چرا ہو توچھری  پھیرکر کوئی آئینی بحران  پیدا کیا جاسکے یعنی ایک تیر سے دو شکار
عام عوام کے خلاف یہ امتیازی فیصلےانسانی حقوق اورانصاف کے ساتھ حد درجہ ناانصافی  ہیں  جس کی نہ   اخلاق اجازت دیتا ہے نہ ملکی قوانین اور نہ ہی "ریاست مدینہ " کے دعوے داروں  کے ماضی کے نعرے
ان منصفوں کے دہرے معیار انکی دہری شخصیت کی غمازی کرتے ہیں یہی خود پسند جج ہیں جو توہینِ جج کو توہینِ عدالت بنا دیتے ہیں اور پھراِس خود پسندی پر شرمندہ ہونے کی بجاۓ اِسکے خلاف آوازیں  اُٹھانے والے افراد کو جیلوں میں ڈال کر بھول جا تے ہیں یہ تو ایسا تکبر ہے جس کو قدرت معاف نہیں کرے گی اور آنے والا وقت آج کی عدلیہ اور اسکے فیصلوں کی کالک کو کبھی  بھی دھونہیں پاۓ گا 
پاکستان کی تاریخ میں یوں تو عدلیہ نے بہت سے ناقابل بیان قسم کے افسوسناک فیصلے دیے ہیں جس سے عدلیہ کا وقار مجروح ہوا مگر  ماضی قریب میں  افتخار چودھری  کے سیاسی فیصلوں سے جو بے وقاری  کا سفر شرو ع ہوا تھا ثاقب نثار ، آصف کھوسہ سے ہوتا ہوا جج گلزار تک پہنچ گیا ہے اور جس قسم کے فیصلے آج کی عدلیہ کر رہی ہے وہ ثابت کرتے ہیں کہ انصاف کا مردہ تدفین کے انتظار میں سرانڈ دینے لگا ہے 
ہم نہیں جانتے کہ یہ بنی گالہ  اور گجر نالہ میں فرق کرنے والے ناانصاف ججز کسی دھونس دھمکی کی وجہ سے ایسے  امتیازی  فیصلے کر رہے ہیں یا  اپنے لیے پلاٹوں کے لالچ میں ،  مگر یہ بھول رہے ہیں کہ جہاں یہ موجود ہیں وہ سدا رہنے کی جگہ نہیں بلکہ اس سے زیادہ کوئی خوف کی جگہ کائنات میں بنی ہی نہیں کیوں کہ جو عدل کے نام پر عدل سے ہٹ گیا اسکا نام و نشان مٹ گیا  
بڑی بڑی کرسیوں پر بیٹھے ان عدل کے ایوانوں میں تکبر کی بولیاں بولنے والے کم ظرفوں  کے لیے 

پیرزادہ قاسم کے اشعار پیش خدمت ہیں اگر دل میں کچھ  خدا کا خوف اور روح میں انسانیت باقی ہے تو ڈریں اُس وقت سے جب مخلوق ِخدا کے بولنے کی باری آجائے گی 

 

ابھی تو آپ ہیں اور آپ کا زورِ خطابت ہے "

بہت الفاظ ہیں نادر، بہت بے ساختہ جملے

ابھی تو لب کشائی آپ کی اپنی گواہی ہے

ابھی تو آپ ہیں ظلِّ الٰہی، آپ ہی کی بادشاہی ہے

ابھی سب زر، جواہر، مال و دولت آپ ہی کے ہیں

ابھی سب شہرت و اسبابِ شہرت آپ ہی کے ہیں

ابھی کیا ہے، ابھی تو آپ کا جبروت لہجے میں عیاں ہو گا

ابھی تو آپ ہی کے نطق و لب سے آپ کا قصہ بیاں ہو گا

ابھی تو محترم بس آپ ہیں، خود اپنی نظروں میں

معظم، محتشم القاب ہیں خود اپنی نظروں میں

ابھی تو گونجتے اونچے سُروں میں آپ ہی ہیں نغمہ خواں اپنے

سبھی لطف و کرم گھر کے، مکان و لا مکاں اپنے

ابھی تو آپ ہی کہتے ہیں کتنا خوب کہتے ہیں

جو دل میں آئے کہتے ہیں، جو ہو مطلوب کہتے ہیں

مگر جب آپ کی سیرت پہ ساری گفتگو ہو لے

"تو یہ بھی یاد رکھیے گا.............. ابھی تک ہم نہیں بولے 


Tuesday, October 26, 2021

آؤ سچ بولیں !



اخبارات اور رسائل  پڑھنے کا میرا شوق  کافی پرانا ہے اور پاکستانی سیاست میں دلچسپی بھی نئی نہیں سونے پرسہاگہ سوشل  میڈیا کی آمد !  خاص طور پر ٹویٹر نے اس سلسلے میں میری سب سے زیادہ مدد کی وہ اس طرح  کہ اب " خبرنامے کی  خبروں" اور نامور صحافیوں اور دانشوروں کے  کالمز، ٹویٹس اور پوسٹس  پر " سیدھا سیدھا  " تبصرہ کرنا بہت آ سان ہوگیا ہے . پہلے یہی کا م میں " لیٹر ٹو ایڈیٹر "اور  "اوپینین " کے سیکشن میں کرتی رہی ہوں  مگرجیسے کہ  ہمارے آرٹسٹ لوگ  کہتے ہیں کہ  فلموں اور ٹی وی ڈراموں کی نسبت  ہمیں "اسٹیج "پر کام کرنا زیادہ پسند ہے کیونکہ  فورا ہی  داد یا  جوتے وصول ہوجاتے ہیں اسی طرح  اپنے "کمنٹس "  پر فورا ہی رد عمل  جاننے کے لیے  مجھے بھی سب سے بہترین ذریعہ  ٹویٹر ہی  لگتا ہے اور بارہا اس  لاحاصل جہاد سے کنارہ کشی اختیار کرنے کا ارادہ کر کے بھی اس سے علیحدگی اختیار نہیں کر سکی  کہ" چھٹتی نہیں ہے منہ سے یہ کافر لگی ہوئی "  اور اب تویہ حال ہے کہ  صحافی یا کالم نگار سوال اٹھانے پرفورا ہی بلاک کردیں تو بھی ایک ایسا سرور ملتا ہے جو صرف کسی نشے باز "جہا ز" کو نشہ پورا ہونے پر ملتا ہے

      کچھ دن پہلے ٹویٹر پر محترم خرم قریشی نے ایک لاجواب ٹویٹ کی جسمیں وہ ٹویٹتے ہیں ”پرسنل ٹویٹر اکمپلشمنٹس " یعنی” ٹویٹر پر میرے ذاتی کارنامے " اور کارناموں کی فہرست میں وہ ان افراد کے ٹویٹر پیج منسلک کرتے ہیں جنہوں نے انکو بلاک کیا انمیں گلوکارو خلائی فنکار فخرعالم ، پاکستانی امور ِ جاسوسی میں ماہر سنتھیا رچی ، تبدیلی  بٹالین کے روح رواں  میرعلی محمد خان اور وزیراعظم  کی  ماورائی خوبیوں کو تاڑنے کا تین سالہ تجربہ رکھنے والی محترمہ مہر تارڑ شامل ہیں انکے یہ "ذاتی کارنامے " دیکھ کر خاکسارہ  کے دل میں بھی یہ خواہش جاگی کہ میں بھی  اپنے " ذاتی کارناموں "کی  لسٹ بنا ہی ڈالوں ، سو پچھلے آٹھ سال سے جن  مایہ ناز افراد نے بلاک کرکےعزت بخشی انکی فہرست بنالی اورآپکو یہ سن کر خوشی ہوگی کہ جن لوگوں کو میں فالو کرتی رہی ان میں سے بلاک کرنے والوں کی اکثریت " صحافی یا کالم نگار یا تجزیہ کار" ہے حتی کہ جن کو کبھی  فالو ہی نہ کیا تھا اُن میں بھی اسی پیشے کے لوگوں کی ایک معقول تعداد موجود ہے اور لگتا ہے اُنکو کسی " الہام " کے ذریعے میرے ان  گستاخ سوالات کے بارے میں علم دیا گیا جو میں آنے والے وقت میں ان سے کر کے اُن کے منہ کا زایقه خراب کر سکتی تھی

سنجیدگی  سے سوچا کہ  میرے ساتھ ایسا کیوں ہوتا ہے تو وہ دو سوالات ہی سامنے آ ئے جن پر اکثر "پڑھے لکھے دانشوروں " نے ناراضگی کا اظہار کرتے ہوئے مجھ پراپنے گھر کے" دروازے " بند کرنا بہتر سمجھا 

پہلا سوال عموما بلوچستان ،سندھ اور پختونخواہ کے جبری لاپتہ افراد پر ریاست کا گریبان نہ پکڑنے  پر ہوتا ہے  کیونکہ میرے حساب سے صحافی اور خاص طور پر " تفتیشی صحافت "کرنےوالے  اور سیاستدانوں کے "پوشیدہ مالی جرائیم " کے بارے شو کرنےوالے اینکرز پرایسا سوال بنتا  بھی ہے  کیونکہ اگر وہ یہ چھبتا ہوا سوال ریاست کے اداروں سے نہیں کریں گے تو کون کرے گا ؟؟ 

دوسرا سوال پہلے سوال سے زیادہ تکلیف دہ ہے اور اسکی گردان بھی  روز جاری  رہتی ہے اور اسی طرح میرے بلاک ہونے کا سلسلہ بھی اور وہ سوال ہے  صحافی صاحب ، مسٹر اینکر اور شدید سینیرتجزیہ کاروں کی سیاسی وابستگی ۔

جب بھی اُنکے  یک طرفہ سیاسی جھکاؤ پر تنقید اوروضاحت مانگی جاۓ  یہ خواتین و حضرات ایسے چراغ پا ہوتے ہیں کہ لگتا ہے خدا نخواستہ  میں نے اُن سے اُنکی  اصل تنخواہ یا حقیقی عمر کے بارے پوچھ لیا ہو 

کوئی اِن اللہ کے بندوں کو ابھی تک یہ بات سمجھا نہیں پایا جواستاد ِ صحافت جناب وجاہت مسعود نے پچھلے دنوں ایک کافی بدتمیز قسم کے ٹویپ کو بہت ہی تمیز و تھذیب سے سمجھائی 

 انہوں نےاس ٹویپ کےاسی قسم کےالزامات کے جواب میں لکھا

"کہ" صحافی سیاسی طورپرغیرجانبدارنہیں ہوسکتا  ۔

درست ! یہی سچ ہے کہ خبر سیاسی ہوتواسکو سنانے والا جب اُس خبر کا تجزیہ  کرے گا تو وہ یقینن اپنےجانبدار دماغ و دل سے اُس خبرکو توڑ مروڑ کر اپنے سیا سی گرو کے حق میں اور اپنے نا پسندیدہ سیاسی رہنماوں اور  پارٹیوں کے خلاف پیش کرے گا

اور پھر پاکستان جیسے ملک میں جہاں ایک سے ذیادہ لسانی اکائیاں ہیں اِن صحافیوں ، اینکروں اور تجزیہ کاروں کا لسانی تعصب بھی ہمالیہ کی بلندیوں کوچھو رہا ہوتا ہے  ویسے یہ لفظ "اکائیاں " پاکستان کے مین اسٹریم نیوز میڈیا  کے لیے  میں نے بلاوجہ ہی استعمال کیا ہے  کیونکہ اردواور انگریزی پریس ہو یا چینلزمگر یہاں اکائیاں نہیں صرف" ڈیڑھ اکائیِ" سرگرم ِ عمل  ہے بقیہ تین  ساڑھے تین اکائیاں تو ایسے ہیں جیسے آٹے میں نمک بلکہ آٹےکوگوندھتے ہوئے صرف"نمک " کا نام ہی لے لیا جا ئے توکافی ہے

ایسے میں اِن “بے چارے دانشوروں اور تجزیہ نگاروں“ کی آزمایش کرنا اپنے آپ میں ایک ظلم ہے جو مجھ سمیت بہت سوں سے ہر روز، ہر لمحے  سرزد ہوتا رہتا ہےمگر یھاں غلطی میڈیا برادری کی بھی ہےکیونکہ ہم نے تو صحافت نہیں پڑھی مگراِنکوتوصحافت ازبر ہونی چاہیے 

جب اِنکو پتہ ہےکہ  یہ غیرجانبدارنہیں  ہوسکتے،  یہ "غیرسیاسی  بچے" نہیں بن سکتے توکیوں عوام پراپنے 

 مسیحا " ہونے کا رعب ڈالتے ہیں؟  کیسےایسا ظاہرکرتےہیں کہ  یہ " دار" پرچڑھ جانےوالےسرمد ومنصورہیں؟   کس لیے لوگوں کوسقراط کی ایکٹنگ کر کے دیکھاتے ہیں جب کہ زہرکے پیالے شہروں میں بسنے والی  نام نہاد پڑھی لکھی مڈل کلاس کو پلاتے ہیں اورخود "دودھ کے پیالوں"پر پھل پھول رہے ہیں 

اِن مین اسٹریم صحافت میں پائ جانے والی مخلوق کو ایک بارتو یہ اعتراف کُھل کرکرلینا چاہیے کہ وہ “سیاسی وابستگی” کو گناہ نہیں سمجھتے اورجب اُنکو اُنکے معتصبانہ روئیے پرتنقید کا سامنا کرنا پڑے تومجھ جیسے سوال اٹھانےاور" طعنے" دینے والوں کو بلاک کرنے کی بجائے اِنکو اِس حقیقت  کا اظہارکرنا چاہیے  کہ ہاں ! ہمارا “سیاسی جھکاؤ “ ہے کیونکہ حال یہی ہے کہ  ہر ایک سو صحافیوں،کالم نگاروں ،اینکرز اور تجزیہ کاروں میں پچاس فیصد جی ایچ  کیو میں فوجی بوٹ پالش کرکے کماتے ہیں تو انچاس فیصد جاتی عمرہ کے بیانیے کی ما لش کرکےروزی روٹی کماتے ہیں اوربقیہ ایک فیصد اِس  تمام منظر کو خاموشی سے دیکھتے رہتے ہیں مگر حقیقت سننے کوکوئی  بھی تیار نہیں اور جِس بحث کو محترم وجاہت مسعود نے دو منٹ میں نمٹا دیا  اُسپر مجھ جیسے "طفلِ مکتب "کو جو مشکل سوال کرنے پر ویسے ہی مکتب سے نکال دیا جاتا ہے  کبھی " ٹرول " تو کبھی جعلی ا کاونٹ کے القابات سے نوازکر اپنے دروازے بند کر دیتے ہیں۔  حوصلہ کرِیں جناب اور سچ بولیں کیونکہ ہر سچائی تک پہنچنے کے لیے حوصلہ چاہیے ہوتا ہے


Monday, July 26, 2021

ملک خدادا کا بھکاری بادشاہ

 بزرگ بتاتے ہیں کہ ایک  بستی  کے بادشاہ کا  انتقال پر ملال ہوگیا ،  بےاولاد تھا شاید  !!  ورنہ اتنی آرام سے کونسا بادشاہ انتقال کرتا تھا  اکثر تو اپنی اولاد کے ہاتھوں مارے جاتے تھے خیر! کہتے ہیں کہ بادشاہ کی وفات پر  وزیر باتدبیر نے ایک  انوکھا " طریقہ انتخاب " جاری کیا کہ آج سے  تین دن بعد جو پہلا شخص  بستی کے صدر دروازے پر دستک دے گا وہی ہمارا اگلا  بادشاہ ہوگا سو اس  "سلیکشن "کے نتیجے میں جو پہلا شخص تین دن بعد صدر دروازے پر آوازہ لگانے آیا وہ پھٹے پرانے کپڑے پہنے ، سر پر ٹاٹ لگی ٹوپی اور گلے میں کشکول لٹکاۓ ایک عدد "بھکاری "تھا سو  بستی والوں کی قسمت میں جو نیا بادشاہ  لکھا گیا وہ  پیشہ ور بھکاری  نکلا. 

 صدر دروازے پر دستک دے کر بھکاری سے بادشاہ  بننے والے کو وزیروں ، مشیروں نے تاجپوشی کا اعلان پڑھ کر سنایا اسکے بعد  پھٹے پرانے ٹاٹ لگے کپڑوں کی جگہ شاہانہ لباس زیب تن کروایا گیا ،  چھیتڑوں سے بنی ٹوپی ہٹا کر سر پر تاج اور سوراخوں  بھرے جوتوں کی جگہ شاہی موزے پہناۓ گیے اور کشکول ؟؟ بھلا بادشاہ کے گلے میں کشکول کیونکر لٹکتا سو سونے چاندی کی  دوہری اور سچے موتیوں کی مالا نے کشکول کی جگہ لے لی یوں " بھکاری  بادشاہ"کے دن و رات آرام و چین سے گزرنے لگے مگر دنیا میں وہ سکون کہاں جو قبر میں ملتا ہے سو ہمسایہ ملک  کے بادشاہ کو کسی نے خبر دے دی کہ  برابر والوں کا طاقتور بادشاہ تو لڑھک گیا ہے اب اسکی جگہ ایک ایسے شخص نے لے لی ہے جسکو امور حکمرانی کا اتنا ہی تجربہ ہے جتنا  ہمارے عالم پناہ کوبھیک مانگنے کا . ظل الہی نے یہ سنا تو کافی محظوظ ہوے اور کہا کہ بہت عرصے سے اس بستی پر قبضے کے خواب دیکھ رہا تھا جو پچھلے بادشاہوں کی طاقت اور عقل و فہم کی وجہ سے تعبیر نہ پاسکے مگر لگتا ہے اس بار قدرت بھی یہی چاہ رہی ہے کہ ہم اپنے ملک کو مزید وسییع کر لیں سو اے میری  سپآہ کے سالارو   ! حملے اور قبضے کی  تیاری کرو 

بستی کے مخبروں کو جب طاقتور ملک سے یہ خوفناک اطلاعات  موصول  ہوئیں تو بھاگم بھاگ دربار میں پہنچے جہاں سابقہ بھکاری عرف بادشاہ سلامت  انگور کھلانے  اور پکے راگ سنانے والوں کے درمیان موجود تھے مخبر نے تخلیے کی درخواست کی جسے عالم پناہ نے رد کر کے سرے عام " مخبری " کا حکم دیا مخبر نے ڈرتے ڈرتے کہا جان کی امان پاؤں تو عرض کروں کہ  ہمسایہ ملک کے بادشاہ اپنی افواج کو حملے کے لیے تیار کر رہے ہیں یہ سن کر بادشاہ سلامت کچھ لمحوں کے لیے ٹھٹکے اور  پھر بولے " کرتے ہیں کچھ گھبراؤ نہیں " دربار میں اس جملے سے کافی اطمینان چھاگیا  .دو روز گزر گیے  اور دشمن ہمساۓ کی فوج اپنے ملک کی  سرحدوں  سے آگے  بھکاری بادشاہ کی بستی کے حدود اربع  تک پہنچ گئی مخبر تو مخبر فصیلوں پر کھڑے پہرہ داروں  نے بھی دشمن کے عظیم الشان لشکر کی پیش قدمی کو دیکھ لیا اور سب لگے دربار کی طرف دوڑ لگانے جہاں شہنشاہ دوپہر کے بڑے کھانےکے بعد قیلولہ فرما رہے تھے کنیزوں نے "اک پھل موتیے دا "  مار مار کر جگایا کہ عالم پناہ ! خدا کی پناہ ذرا باہر کی خبر لیں کہ دشمن سرحدوں تک پہنچ گیا ہے. بادشاہ سلامت ہڑبڑا کر اٹھے دشمن افواج کی پیشقدمی کی خبریں سنیں اور بولے "ٹھیک ہے سمجھ گیا کرتے ہیں کچھ اس سلسلے میں " عوام میں جو ٹینشن دشمن افواج کے بوٹوں کی دھمک سے پھیل گئی تھی قدرے کم ہوئی 

ابھی عوام نے قبر سے باہر ہی سکون  کا سانس لیا تھا کہ صدر دروازے پر توپوں کے گولے اوربستی کے پہریداروں پر دشمن کے  اڑتے تیروں کی بوچھاڑ ہوگئی  عوام جو بادشاہ سلامت  کی طرف سے پالیسی بیان اور جنگی چالوں کو عملی جامہ پہنانے  کا انتظار کررہےتھےسخت خوفزدہ ہو گیے اپنے گھروں، دکانوں ،کھیتوں ،کھلیانوں کو چھوڑ کر محل کی طرف چل نکلے اور دوسری طرف دشمن ملک کی فوج نے بھی محل کی طرف رخ کیا اور راستے میں جس نے بھی اس پیشقدمی کو روکنے کی کوشش کی اسکو موت اور تباہی کا منہ دیکھنا پڑا یہ حالت زار بستی کی افواج کے سپہ سالار اور امور مملکت چلانے والے وزراء اور مشیروں کے ذریعے شہنشاہ تک پہنچی تو وہ سمجھ گیا کہ اب پانی سر سے اسقدر اونچا ہوچکا ہے کہ زیادہ دیر ناک منہ بند کر کے اس پانی میں رہنا موت کو دعوت دینا ہے عوام کے غیض و غضب سے بھرے نعرے محل کی در و دیوار کو ہلا رہے تھے تو دشمن کی توپیں زمین کو لرزہ رہی تھیں ایسے میں   " بھکاری بادشاہ " نے بھرے دربار میں اعلان کیا " میں نے فیصلہ کر لیا ہے " تمام درباری منتظر تھے کہ بادشاہ  اپنا فیصلہ سناۓ جس پر عملدرآمد سے بستی اور بستی کے عوام کو دشمن کی چیرہ دستیوں سے  بچایا جاۓ کہ  دیکھتے کیا ہیں عالم پناہ نے اپنی خوابگاہ کی طرف دوڑ لگا دی اور کچھ لمحوں بعد خوابگاہ سے ظل الہی کی جگہ ایک پھٹے پرانے کپڑوں ، ٹوٹی جوتی اور کشکول گلے میں ڈالے بھکاری نمودار ہوا ،گلا صاف کر کے بولا " بھائیوں ! یہ حکومت وغیرہ تو میرے بس کی بات نہیں ہاں اگر کبھی بھیک وغیرہ مانگنی ہو تو خاکسار کو ضرور یاد کر لینا  آپکی نوازشات کا شکریہ میرا تو اس مملکت میں کچھ لینا دینا نہیں سو جو کشکول اور ٹاٹ پہن کر آیا تھا وہی پہن کر جا رہا ہوں اب آپ جانیں اور آپکی بستی......... اللہ حافظ

( ہر قسم کی مماثلت اتفاقی ہے ادارہ ذمہ دار نہیں )   

Friday, July 16, 2021

اسلام کا قبرستان

    کراچی کے گٹروں پر سےگم ہوتے ڈھکنوں اور لاڑکانہ کے باؤلے کتوں سے کاٹے کے نایاب انجیکشنوں کا سفر کویٹہ ،شاہ نورانی ، پشاور ،مہمند ، سیہون کی دہشتگردی میں جانے والی جانوں سےہوتا ہوا پانامہ کیس اور سلیکٹڈ کےانتخاب سے گزرتا گزراتا گجرنالے تک آ پہنچا ہے مگر آج بھی پاکستان کی طاقتوراشرافیہ  بلوچستان ، سندھ اور پختونخواہ  کے جبری گمشدہ بیٹےبیٹیوں سے  بے پرواہ ہے اور   گلی محلوں میں بسے بے بس عوام گریہ کناں

نیوزمیڈیا توکچھ ٹکوں میں بکنے والی شے ہے مگرسوشل میڈیا پرموجود بہت سےاحمق آج بھی اس صورتحال میں پاکستان کو"اسلام  کا قلعہ" کہتےشرم سے پانی نہیں ہوتے
 اپنےبنائےہو ئےاس ٹہرے پانی کےبدبودار کوئیں سے باہر آکردیکھیں کہ پاکستان اسلام کا قلعہ ہے یا اسلام کا قبرستان بن چکا ہے ؟؟     حقیقت یہ ہے کہ ستر سال میں اس ملک کے مختلف علاقوں میں  اسلام کی صرف " تدفین " ہو ئی ہے
ویسے تو عالم اسلام کے کسی بھی ملک میں اسلام کی عزت افزائی نہیں ہو پا ئی کسی ایک اسلامی ملک میں بھی فلاحی  مملکت کا تصورموجود نہیں کہیں ڈیکٹیٹر شپ ہے تو کہیں بادشاہت اور ملا گردی اور بالفرض کوئی مغربی دنیا کی جمہوریتوں کو متاثرکرنےکو انتخابات کروا بھی دیتا ہے توحیرت انگریز نتایج کے تحت چالیس سال تک ہرانتخاب ایک ہی پارٹی یا ایک ہی شخص جیتتا چلا جاتا ہے جیسے ملک کی عوام اندھی  ہے وہ ایک پارٹی کے سوا کچھ اوردیکھ ہی نہیں سکتی مگر ان تمام ممالک میں پاکستان کوایک امتیاز حاصل ہے وہ یہ کہ اسلام کےبنیادی احکامات کو بڑی ڈھٹائی سے دفن کرنے کے باوجود یہ  بلند ا بانگ دعوے کہ "پاکستان اسلام کا قلعہ " ہے 
حقیقت یہ ہے کہ جس دن پاکستان میں حسن ناصرکوانکےنظریات کی وجہ سے شاہی قلعہ کےعقوبت خانوں میں تشدد کرکے قتل کیا گیا اورانکی میت کونامعلوم قبرمیں اتاردیا گیا اسی دن پاکستان کےسینےپرقدرت نےایک کتبہ لکھ دیا تھا کہ
 "یہاں اسلام دفن ہے"
 آج آپ مجھ سےلاکھ حجتیں کرلیں ، بحث کریں  یا منطق اٹھا لائیں  لیکن اسلام کےکسی نکتے سے یہ ثابت نہیں کرسکتے کہ کسی بھی قسم کے نظریات کا حامل کسی بھی اسلامی شق یا روایات  کی رو سے جبری گمشدگی ، ٹارچر ، ہلاکت اور پھر نامعلوم قبر کا حقدار ٹھرسکتا ہے 
 پھر کون سا اسلام اس قلعےکی حفاظت پر مامور ہے؟ یہ کونسا قلعہ ہے جہاں اسلام کےنام پردہشتگردی ناچ رہی ہے ؟ 
جنوری دو ہزارچودہ میں بلوچستان کے علاقے خضدار میں تین اجتماعی قبریں دریافت ہوئیں یہ آ ثا رقدیمہ کی دریافت نہیں تھیں جس پرمیں اورآپ فخر کرسکیں یہ میرےاورآپکےبھائیوں کی چونا لگی لاشوں کا ڈھیر تھا جوحریت پسندوں کے مطابق تو سو سےزیادہ افراد تھےمگرآپ تعصب سےکام لےکربلوچ حریت پسندوں کے دعوں کی نفی کرسکتے ہیں لیکن حکومتی اہلکاروں کےسچ کومان لیں کہ وہاں سترہ افراد اجتماعی طورپردفن تھے 
 سترہ افراد کی تشدد زدہ ، ناقابل شناخت لاشیں.... سرزمین پاکستان سے دریافت ہوتی ہیں جہاں مسلمانوں کی 97فیصد آبادی ہے جہاں کی حکومت مسلمان اور ستانوے فیصد  مسلمانوں کے آزادانہ ووٹوں سے منتخب ہے جہاں پانچ وقت مسجدوں سے اذان کی آواز گونجتی ہے جہاں رمضان میں سرے عام کھانے پینے والے پرمعاشرہ اسلامی غیرت سے سرشار ہو کر ٹوٹ پڑتا ہے یہ وہ واحد اسلامی مملکت ہے جہاں " عشق رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم " کا دن  بڑی دھوم دھام سے منایا گیا جہاں منصف توہین رسالت کے دوسٹیٹس ا پ ڈیٹس اور تین ٹویٹس کےخلاف جذباتی  ہوکرٹسوےبھاتےہیں مگرسترہ افراد کی ناقابل شناخت لاشوں کےقضیے کوآئیں بائیں شائیں کردیا جاتا ہے 
کس کی لاشیں تھیں ؟ کس نے تشدد کیا ؟ کس نے چونا ڈال کر ناقابل شناخت کیا ؟ اس ملک کے محافظوں نے یا آزادی کی جنگ لڑنے والوں نے یا ہمسایہ ممالک کی ایجنسیوں نے؟ سوال انگنت مگر جواب  ندارد ؟
 حسن ناصر کی نامعلوم قبرہو یا توتک خضدار کی  اجتماعی قبریں، اسد مینگل کی جبری گمشدگی ہو یا ذاکر مجید بلوچ اوران جیسے بہت سےنظریاتی کارکنوں کا ریاستی اغواء  ..... یہ واقعات ایک ایسا کلنک کا ٹیکہ ہیں جو ہردور میں پاکستان  کی پیشانی پرنمازوں کے نشان سے زیا دہ نمایاں رہے گا
 ہم اعتراف کریں یا نہیں مگر امر وا قعہ یہی ہے کہ برسوں سے گمشدہ افراد ، تشدد زدہ لاشیں ، نامعلوم اور اجتماعی  قبریں اسلام کے قلعےکو اسلام  کے مقبرے میں تبدیل کرچکیں.... آپ سبکو اطلاع  ہو کہ ایٹمی پاکستان اسلام کا قبرستان بن چکا ہے
آپکی پانچ نمازیں ، تہجد گزاریاں، لگاتارعمرے،حج پرحج ،رمضانوں  میں نعتوں کےدور،غیرت اسلام اورگستاخ رسول (ص ) کا سرتن سے جدا کرنے کے آسمان تک گونجتےنعرے........ یہ سب کچھ ملا جلا کربھی آپکودین و دنیا میں ایک چونا لگی ناقابل شناخت لاش پرجوابداری سے نہیں بچا پائیں گے 
بلوچستان کی اجتماعی قبریں ہم پرحد نافذ کرچکی ہیں ہر بااختیارجو مسلمان ہونے کا دعوی کرتا ہے اس پرآسمان سے حد جاری ہوچکی ہے 
حقیقت یہی ہے کہ  پاکستان نہ تواسلامی ریاست  ہے نہ ہی اسلام کا قلعہ....... اگرمیں اورآپ یہ حقیقت نہیں مانتےتوصرف اپنےآپ کو دھوکہ دےرہے ہیں اوردھوکے کا انجام جلد یا بدیر ہماری اپنی ہلاکت ہی ہوگا  

Saturday, July 10, 2021

پاکستانی نیوز چینلز اور جرنیل ضیا کی پھانسی

 کچھ روز قبل  جولائی کی پانچ تاریخ گزری ہے .اس تاریخ کے پاکستان پر ایسے گہرے اور دردناک نقوش ہیں کہ  شاید ہی کوئی پاکستآنی ہو جو اسکے اثرات سے بچا ہو  یہ سن ستتر کی پانچ جولائی تھی جس نے ملک خدا داد کے چہرے پر آمریت کی نحوست کے انمٹ داغ لگا دیے گو کہ اس نحوست سے پاکستان پہلے بھی دو بار گزر چکا تھا مگر پانچ جولائی سن ستتر کی فوجی آمریت نے گیارہ سال میں جو زہر کے بیج بوۓ وہ آئیندہ آنے والی تین نسلوں نے کاٹے اور  نہ جانے ابھی یہ سلسلہ کہاں تک جانا ہے 

اس بلاگ کو لکھنے کا مقصد ضیا آمریت کے نازل ہونے کی  وجوہات یا اس پھر اسکے پاکستانی عوام پر بد اثرات کو اجاگر کرنا نہیں حالنکہ یہ کام  ان  تمام  لوگوں کا   فرض تھا جو قلم کارہیں، تاریخ کو بیان کرنا جانتے ہیں اورپھر ان گیارہ برسوں کے عینی گواہ  بھی رہے ہیں ، اسکے ساتھ ساتھ اسکرینوں پر بیٹھے ان  تمام  "سینئیر تجزیہ کار" بمعہ  اپنی صحافت کے جھنڈے ہمارے لاؤنجز میں گاڑتے سب کے سب  صحافیوں کو بھی ضیا فوجی آمریت کا حال دہرانا  ہی چاہیے مگر فالحال ایسا نہیں ہورہا  . سو اس بلاگ کا موضو ع  ضیا آمریت کے بد اثرات نہیں بلکہ ان اثرات کو نظر انداز کرنے کا خمیازہ ہے جو نئی نسل بھگت رہی ہے  

اس سال پانچ جولائی کو پاکستان کے ایک جانے مانے صحافی جنکو" صحافی" کہتے کم از کم مجھے  کبھی سوچنا نہیں پڑتا  انہوں نے ایک بہت ہی دلچسپ پروگرام تیار کیا ویسے تو پبلک سے آراء لینے والا ہر شو ہی بہت دلچسپ  ہوتا ہے مگر مطیع اللہ جان  کا یہ شو  "دلچسپ" تو تھاہی مگر قومی شرمندگی  کا با عث بھی تھا   

مطیع اللہ جان نے فیصل مسجد اسلام آباد کے احاطے سے یہ شو کیا  اور وہاں موجود عوام سے ایک سادہ سا سوال  پوچھا کہ احاطے میں یہ "کس کی قبر  ہے" ؟ اورپھرضیا الحق کے نام بتانے کے ساتھ ہی مزید سوال و جواب. مزید  سوالات بہت ہی برجستہ تھےاور جوابات  سے ہی منسلک تھے

قارئین یقینن جانتے ہونگے کہ شہر اقتدار کی آبادی کی اکثریت شہری اور خواندگی کا تناسب پاکستان میں  سب سے زیادہ ہے مگر کیوں کہ  فیصل مسجد  ایک سیر کی جگہ تصور کی جاتی ہے اس لیے ہم فرض کر لیتے ہیں کہ شو کے دوران عوام کا کم پڑھا لکھا طبقہ بھی  یھاں  سیر کے لیے موجود  تھا  

مطیع اللہ جان کے سوال " احاطے میں کس کی قبر ہے "کا جواب تو اکثریت نے  درست بتا دیا کہ قبر ضیاالحق کی ہے مگر جس چیز کی کمی تھی وہ پاکستان کی سیاست اور تاریخ سے جڑی  عام معلومات تھی اور اس قسم کی عام معلومات کو حاصل کرنے کا زریعہ یقینن ان  پچپن ساٹھ  نیوز چینلز کو ہونا چاہیے تھا جو سن ٢٠٠٢ سے مسلسل چوبیس گھنٹے چلتے ہیں ، ہر گھنٹے پر خبریں قومی زبان اردو میں ہوتی ہیں ہر چینل پر کم از کم تین اور زیادہ سے زیادہ پانچ ٹاک شوز کیے جاتے ہیں اور سب کے سب ان چوبیس گھنٹوں میں نشر مکرر پیش کیے جاتے ہیں ان پر بیٹھے سقراط ، بقراط اور افلاطون اپنے کو ایسی اعلی مخلوق سمجھتے ہیں کہ سوشل میڈیا پر انکی شان میں ہلکی پھلکی  گستاخی بھی ہوجاۓ تو یہ ایسے  " گستاخ " کو دوسرا موقع نہیں دیتے اور بلاک کر کے بھول جاتے ہیں اور تو اور اسکرینوں سے اٹھ کر سیدھا اپنے یوٹیوب چینلز پر پہنچتے ہیں تاکہ  روپے میں ملتی لاکھوں کی تنخواہ میں ڈالرز بھی شامل کر سکیں یہ انکی لالچ کی انتہا ہے مگر انکی ان سب " آنیوں جانیوں " کا حاصل وصول یہ ہے کہ وہ طبقہ جومکانوں ، دکانوں سے جھونپڑیوں تک اور ٹی وی اسکرینوں  سے اپنے موبائلوں تک انکو دیکھتا اور سنتا ہے وہ ضیا کے بارے میں یہی جانتا ہے کہ " جرنیل ضیا کو پھانسی دی گئی تھی" 

اس بلاگ کے ذریعے میرا سوال ان تمام  تجزیہ کاروں، صحافیوں اور اینکرز سے یہ ہے کہ سن ٢٠٠٢ سے سن ٢٠٢١ تک آپ نے کیا کیا ؟؟  مطیع اللہ جان کے شو میں اکثریت  نوجوانوں کی تھی جن کا علم  اپنے ہی ملک کی تاریخ کے بارے میں اگر صفر نہیں تھا تو منفی ایک ضرور تھا سو اسکرینوں میں جلوہ افروز یہ خواتین و حضرات پچھلے انیس ، بیس برسوں میں نئی نسل کے علم میں کیا اضافہ کر سکے ؟ نوجوان افراد نہ صرف پاکستان  تاریخ سے انجان تھے بلکہ نظریاتی طور پر تقریبا  بے سمت  تھے انکو نہ جمہورت اور آمریت کا فرق پتہ تھا نہ ہی غاصب  اور منتخب کا!  ضیا کو ایک ساتھ  آمر اور ملک کا وزیراعظم بتا  رہے تھےاور کبھی بغیر داڑھی کا اسلام نافذ کرنے والا مجاہد اسپرسوال کیا جاتا کہ ایسا کیسے ہوسکتا ہے تو جواب ندارد.    اس پروگرام میں کچھ استاد بھی فیصل مسجد میں سیر کی غرض سے موجود تھے انکے جوابات سے یہ تو پتہ چل رہا تھا کہ انکا نالج کچھ بہتر ہے مگر جس طرح وہ مطیع  کے سوالات کو ٹال رہے تھے صاف اندازہ ہورہا تھا کہ ایک خوف ہے جو انکو  بہت کچھ بتانے سے روک رہا ہے اور ہم سب جانتے ہیں کہ جہالت اور کم علمی  پھیلانے میں خوف کو بھی ھتیار کے طور پر استعمال کیا جاتا رہا ہے اور اس " خوف " کے تدارک کے لیے بھی علم ، آگہی اور سیاسی شعور چاہیے ہوتا ہے مگر چوبیس گھنٹے اپنے کو معاشرے کا  خود ساختہ جج سمجھنے والے بھی اس خوف کے سامنے ویسے ہی ڈھیر ہیں جیسے وہ سیاستدان جن پر یہ " خود ساختہ جج " انگلیاں اٹھاتے ہیں 

جیسے کسی استاد کی مضمون میں دسترس اسکے شاگرد کو جانچ کر پتہ چلتی ہے اسی طرح عوام کی اپنے ہی ملک کی تاریخ سے لاعلمی  ہمارے نیوز میڈیا پر بیٹھے صحافیوں اور تجزیہ کاروں  کی نالائقی اور نااہلی کا قصّہ سنا رہی ہے انکو  لاکھوں کی تنخواہ اگر میڈیا ہاؤس کے مالک کو خوش کرنے کی ملتی ہے تو انکے لیے بہت بہتر ہوگا کہ  میڈیا مالک کے گھریلو ملازم بن جائیں نہ کہ عوام میں جہالت  اور جھوٹ پھیلائیں. آج کے پاکستان میں چلتے ان  سینکڑوں  چینلز سے تو بہت بہتروہ  "سرکاری چینل " تھا جو ایک تھا مگر کم از کم اتنا نیک ضرور تھا کہ ہم بچے اسکو حکومت کا چمچہ سمجھ کر بی بی سی ، وایس آف امریکہ ، سی این این ،انٹرنیشنل اور نیشل اخبارات سے خبریں کھوجتے تھے اور اپنے علم میں اضافہ کرتے تھے  جبکہ  یہ " نجی " اور "آزاد " کہلانے والے چینلز چلانے والے میڈیا ہاوسز خود تو "حرام " کھآتے ہی ہیں عوام  کو بھی اتنا "ھڈ حرام " بنا دیا ہے کہ جو جھوٹی خبریں ، مصالحے بھرے واقعات، مرغے لڑانے کی ترکیبیں اوریوٹیوب چینلزپرگھٹیا ہیڈنگز کی بھرمار دیکھ کرمطمین ہوجاتے ہیں کہ ہم نے اپنےتئیں ملکی سیاست اور اسمیں استعمال مہروں کو جان بھی لیا اور پہچان بھی لیا مگر حقیقت یہ  ہے کہ  نیوز چینلز کہلانے والی یہ" دکانیں" عوام کو پاکستان کی سیاسی اور قومی  تاریخ بتانے میں مکمل ناکام ہیں یہاں سواۓ "کتے ، ریچھ اور مرغے" لڑانے اور سیاسی تاریخ کو مسخ کرنے والوں کے بوٹ چمکانے کے کوئی کام نہیں ہوتا یقینن تاریخ لکھنے والے پاکستان کے اس دور کو قومی زندگی کا المیہ لکھیں گے کہ جب چوبیس گھنٹے چلتے سینکڑوں نیوز چینلز کی  موجودگی میں کوئی با ہوش وحواس  شخص  مائیک اورکیمرے کےسامنےکھڑا ہو کرکہےکہ جرنیل ضیا کوغدارکہا گیا تھا اور یہ کہ "جرنیل ضیا کو پھانسی پرلٹکا دیا گیا تھا" 

Sunday, June 20, 2021

پی ٹی آئی کی زلیخا

 کراچی کے حلقہ 249 کا  ضمنی انتخاب اس لحاظ سے منفرد تھا کہ جن پارٹیوں کے نمایندے یہاں قومی الیکشن میں سر فہرست تھے وہ ضمنی الیکشن میں سرفہرست سے  پھسل گیے  وہ عوام  کی ناپسندیدگی کی  گہری کھائی میں جاپڑے  اور ایک عدد بلیک بیلٹ ،سماجی کارکن اور پیپلزپارٹی کا جیالہ پشتون  بازی لے گیا اس انفرادیت کو تحریک انصاف اور نواز لیگ ماننے کو تیار نہ تھیں اور نواز لیگ تو کچھ عرصے سے  خود پسندی کے ایک ایسے نشے میں  مبتلا ہوچکی ہے کہ آئیندہ بھی جو ضمنی الیکشنز ہونگے کچھ بعید نہیں  اسپر انکی یہی گردان رہے گی کہ "ووٹ کو عزت دو "کا ہمارا بیانیہ ہی عوام میں مقبول ہے لحاظہ جب بھی کسی کو ووٹ پڑے وہ ہمارے ہی ہونگے نہ کہ ہمارے سامنے کھڑے مخالف سیاسی نمایندے کے .اور نون لیگ کا یہ نشہ جلدی اترتا نہیں دیکھائی دیتا کیونکہ "کچھ شہر دے صحافی بھی لفافی ہیں اور کچھ تجزیہ کار بھی بریف کیس ہیں

خیر بات ہورہی تھی جناب  عبد القادرخان  مندوخیل کی جیت کی ......جس نے سرکاری اور نیم سرکاری  پارٹیوں کو تو ضمنی الیکشن میں  پریشان کیا ہی مگر عوام کو اسوقت حیران کیا جب ایک ٹاک شو کے دوران "پنجاب کی شیر پتر " نامی گرامی پہلوان کو بیچ شو میں "پچھاڑ " دیا اور جو حالات اس وقت اس مملکت خدا داد کے چل رہے ہیں جن میں اسمبلی سے لیکر سوشل میڈیا اور میڈیا سے لیکر گلی محلوں تک اینٹ کا جواب پتھر سے دیا جاتا ہے وہاں ایک مرد کا ایک مرد نما عورت کو اپنے ضبط و برداشت سے  پچھاڑنا ایسا حیران کن منظر ہے جس نے مندوخیل جیسے گمنام سماجی کارکن کو راتوں رات اسکرینوں کا ہیرو بنا دیا ہے 

اگلے دن دیکھتی کیا ہوں کہ تمام چینلز کے پرائیم ٹایم شو ز میں قاد ر خان کا طوطی بول رہا ہے شاید یہ پہلا موقع ہے کہ کسی ممبر اسمبلی کو اسکے  گالی گلوچ یا مکے بازی، تھپڑ بازی کے میرٹ پر نہیں بلکہ برداشت اور حوصلے پر نیوز چینلز دعوت دے رہے ہیں اور قارئین  مزید انگشت بدنداں رہ جائیں کہ ممبر بھی پاکستان پیپلزپارٹی کا جس پارٹی کے کھاتے  میں پچھلے پچاس سالوں میں قلم کاروں ، تجزیہ کاروں ، صحافیوں اور اینکروں نے صرف " ملبہ " ڈالا ہے متفقہ آئین سے بینظیر انکم سپورٹ اور میزائل پروگرام سے بین الاقوامی میعار کے علاج کی مفت سہولتوں تک کو یہ "پڑھے لکھے "بہت محنت سے اپنی چاۓ کی پیالی میں گھول کر پی جاتے ہیں اور ہر وہ مسلہ جو پاکستان کے طول و عرض میں موجود ہے پیپلزپارٹی کی حکمرانی کو اسکا ذمہ دار ٹہرا کر نیوز میڈیا ہاؤس اور راولپنڈی میں قائم "پاور ہاؤس " سے برابر کی تنخواہ وصول کر لیتے ہیں 

چلیں یہ تو پرانا  درد  ہے اس لیے بار بار اسکا ذکر کرنا سواۓ درد کو بڑھانے کے کچھ نہیں کرے گا ہم تو آج کی نئی بات کرنا چاہ رہے ہیں  جو نہ صرف دلچسپ ہے بلکہ تاریخ کو ہزاروں سال بعد دہرانے وا لا معاملہ  ہے . آسمانی کتابوں میں درج ہے کہ کس طرح ایک طاقتور شخص کی بااختیار بیوی  نے حضرت یوسف کی وجاہت پر فریقتہ ہوکر انپر "حملہ " کیا اور حضرت یوسف کے بارے میں بیان ہے کہ  وہ اپنی عزت بچاتے ہوے پیٹھ دیکھا کر بھاگے اس دوران انکا کرتا زلیخا کے ہاتھوں  پیچھے سے پھٹ گیا اور یہی پیٹھ سے پھٹا کرتا  عدالت میں انکی بے گناہی  کا ثبوت بن گیا . اس وقت کا مصر یقینن آج کی "نیو ریاست مدینہ " سے بہت بہتر تھا کیونکہ عزیز مصر ہو یا زلیخا دونوں ہی پاکباز و باوقار یوسف کی بے گناہی کے کھلے کھلے ثبوت دیکھ کرکم از کم  کچھ شرافت دیکھا گیے ایک  ہماری ریاست مدینہ  ہے اوراسمیں گریبان کھینچتی ، تھپڑ لگاتی، گالم گلوچ کرتی  فردوس اور اعوان کے درمیان "عاشق " نامی خاتون  ہیں جنکی نظر میں اگرمرد اپنی عزت اور وقار انکے ہاتھوں سے بچا کر "کمرے سے نکل جاے" تو وہ مرد نہیں بلکہ " کھسرا " ہے..... وہ تو بھلا ہو زلیخا کا کہ  سیالکوٹ میں ہوش نہیں سنبھالا اور نہ ہی سیاست میں لوٹا بنتی بناتی چیف منسٹر پنجاب کی خاص الخاص معاون بنی ورنہ  جس لمحے  حضرت یوسف کا پیچھے سے پھٹا کرتا عزیز مصر کو انکی بے گناہی کی گواہی دیتا اسی لمحے  زلیخا نے گرج کے کہنا تھا " جو سچا ہے اسکو بھاگنے کی کیا ضرورت ہے جس کے دل میں چور نہیں اسکو کنڈیاں لگا کر باہر بھاگنے کی کیا ضرورت ہے؟ اور وہ بھی ایک " عورت " سے ..... یہ کیسا "کھسرا مرد" ہوگا کہ جو ایک عورت سے ڈر کر بھاگ رہا ہے یہ روایت ہے نہ آپکو زیب دیتا ہے  " .......اور یوں تاریخ کےاوراق ہمیں کچھ اور ہی کہانی سناتے ، کچھ اور ہی سبق ہماری روایات کا حصہ ہوتے پھر ہمارے الہامی مذاہب ہمیں یہی  تعلیم دیتے  کہ ہر باوقار اور عزت دار مرد "کھسرا "  ہے  اورہر بے راہ رو اور بد چلن مرد " مرد کا بچہ "   

Monday, June 14, 2021

معافیو ں کی ماں


بچپن میں اپنے بزرگوں سے "گورے کی انصاف پسند " حکومت کی تعریفیں سنتے تھے تو اکثر ناک بھوں چڑا کر کہہ دیتے تھے کہ آپ لوگوں کو بھی نہ جانے غلامی کی زندگی کیوں یاد آتی رہتی ہے مگر یہ تو عقل آنے پر پتہ چلا کہ "ناانصافی "بھی غلامی جیسا ہی طوق ہے جو مخلوق کے گلے پڑ جاۓ تو وہ زندہ لاش کی صورت اختیار کر لیتی ہے
سوانصاف کی طلب بھی کسی طرح آزادی کی خواہش سے کم نہیں مگر مسلہ یہ ہے کہ ہم ہر بار ہر نئی حکومت سے جس انصاف کی آرزو رکھتے ہیں وہ ہمیں انصاف کیوں نہیں دے پاتی ؟؟ کیوں یہ ناانصافی کا طوق ہرپیدایشی پاکستانی کے گلے کا ہار ہے ؟ کیوں ہم اس ناانصافی کے طوق کو ویسے ہی اتارناچاہتے ہیں جیسے غلام قومیں غلامی کا پٹہ اپنی گردنوں سے اتار کر آزادی کا سانس لینا چاہتی ہیں یاد رہے کہ نانصافی ہی وہ بیج تھا جو سابقہ مشرقی پاکستان میں بویا گیا اور اس سے چھٹکارہ پانے کے لیے بنگالی قوم نے جو کہ متحدہ پاکستان بنانے والی قوم تھی ،اپنے آپ کو "آزاد" کر لیا
بنگالیوں نے ناانصافی کا طوق گلے سے اتارا اور بنگلہ دیش بن گیا
اس راستے میں  بنگلہ دیش نے فوجی بغاوتوں کی کالک بھی منہ پر مل لی اور اپنے بانی اور اسکے گھر والوں کو موت کے گھاٹ بھی اتار دیا مگراپنے حقوق اورذمہ داری اب بنگالیوں نے خود اٹھا لی تھی انہوں نے اپناراستہ  خود بنایا اور آج اقوام عالم میں ترقی یافتہ نہ سہی ترقی پزیر ضرور ثابت ہوچکے  ہیں ہمارے "گھر " کی طرح پسماندہ 
اور بدنام نہیں
پھر  دوسری  طرف ہم ہیں.....بے منزل اور بے مراد 
 ہم یہاں تک کیسے پہنچے ؟
 یہ سمجھنا کوئی راکٹ سائنس نہیں آسان سا معاملہ  ہے 
 آمریت کے بطن سے نکلی ناانصافی اور جبر و استبداد نے ہمیں ترقی پزیر سے پسماندہ اقوام کی راہ پر ڈال دیا .آمر کبھی بھی اتنے لمبے عرصے مختلف قوموں کے اس مجموعے کو دبا کر نہیں رکھ سکتے تھے مگر جب مفاد پرستی اداروں میں سرایت کرچکی ہو تو آمرانہ ادوار طویل تر ہوجاتے ہیں عدلیہ کے  مکروہ کردار ، سرمایہ داروں کا پیسہ ،جاگیر داروں  کی طاقت، لوٹے نام کے سیاستدان ، قلم بیچ کر اولادوں کو حرام کھلانے والوں کا گروہ  اور شہروں میں رہتی نام نہاد تعلیم یافتہ مڈل کلاس  دولے شاہ کے چوہوں کی بٹالینز  .......  یہ سب آمروں کے ھتیار بنے 
ستر  برسوں میں ایسے بھی موقعے آ ئے کہ عدلیہ کو اپنے گناہوں پر معافی مانگنی پڑی یہی صورتحال سیاستدانوں اور میڈیا میں بیٹھے کچھ بقراطوں پر بھی آئی اور انکو یہ ماننا پڑا کہ ہماری ناانصافی ، متعصب رویوں ، کبھی لالچ تو کبھی خوف میں   پاکستان کو اس حال میں پہنچا دیا  کہ اب اس کو پاک کہتے بھی شرم آتی ہے تاریخ بتاتی ہے کہ جس خطے پر متحدہ پاکستان بنا تھا اسکی تاریخ اتنی زبوں حال نہ تھی
مختلف قومیتیں اپنے اختیارات اور اقتدار کے ساتھ اپنے  خطہ حکمرانی میں اپنی  رعایا کا خیال رکھتی تھیں حالات کبھی برے تو کبھی اچھے مگر جسطرح پاکستان پچھلے بیس سے تیس برسوں میں تیزی سے زبوں حالی کی طرف گیا ہے اسکی مثال بہت کم ممالک میں دیکھنے کو ملتی ہے ہاں ! جو ممالک جنگوں سے نبرد آزما ہیں وہاں حالات دگرگوں ہیں مگر اپنے آپ پر "جنگ " مسلط کرنا وہ بھی پیسہ کمانے کے لیے ؟؟ جی ہاں آپ نے صحیح پڑھا ہے " پیسہ کمانے کے لیے زمین زادوں کا قتل عام " اور صورتحال یہ ہے کہ افغان جنگ ہو یا گلف وار یا پھر وار آن ٹیرر ہر مال بکے گا "ڈالروں " میں کے مصداق ہمارے سرحدوں کے پاسبان خود بھی بکے اور بے گناہ سویلینز کو بھی بیچا اور تو اور ایک ایسی جنونی راہ کو ریاست کے بیانیے کے طور پر قوم کو متعارف کروایا کہ ایک پوری نسل "جنونیوں " کی پیدا ہوچکی ہے 
جسکو پاکستان کی بین الاقوامی خفت "یہود کی سازش " لگتی ہے ،  ہر وہ شخص انکو  "قادیانی " دیکھائی دیتا ہے جس سے ان دولے شاہ کے چوہوں کومذہبی یا  نظریاتی اختلاف ہوتا ہے . اپنے ہی ملک کے منتخب نمایندوں کو چور ، ڈاکو ، ہائی جیکر ، ٹین پرسنٹ ، قاتل  ،دہشتگرد، سسلین مافیا  مشہور کروانے کے لیے عوام کے خون پسینے کی کمائی کو پانی کی طرح بہایا جاتا رہا ہے اور حیرت کی بات کہ جیسے ہی یہ ٹاسک مکمل کرنے والے ریٹائیرڈ  ہوتے ہیں مزید دولت کمانے کے لیے ان "رازوں " کو اپنی خود نوشت میں  مصالحہ لگا لگا کر تحریر کرتے ہیں اور جو مال پہلے کسی کو "  مسٹر ٹین پرسنٹ " کا لقب دلوانے کے لیے غیر ملکی نامہ نگاروں پر خرچ کیا اب یہ راز فاش کرنے میں دوبارہ کمایا جاتا ہے یعنی دسیوں انگلیاں تیل میں اور سر کڑھائی میں 
 .......افسوس یہ ہے کہ بطور  پاکستانی ہماری یاداشت حد سے زیادہ کمزور ہے
 ورنہ ہم طاقت کے مینارے پر کھڑے اپنے کو "پارسا " سمجھنے والوں سے پوچھیں   کیا وہ  اپنے گریبان میں جھانک کر یہ بتانا پسند کریں گے کہ 
 کس نے پنجاب کے پانچ دریاؤں کو ڈھائی کر دیا ؟
کس نے غیر ملکی انجینیروں کی ملی بھگت سے نہری نظام بنا کر لاکھوں ایکڑ زمین تھور اور سیم کے حوالے کی ؟
کس نےسیاست کو شجرے ممنوعہ قرار دے کرسیاست میں پیسے کو داخل کیا  ؟
کس نے منتخب نمایندوں کو نہ صرف انکا عوامی حق نہ دیا بلکہ عوام میں رسوا کیا ؟
کس نے بنگال کو فوجی آپریشنوں میں دھکیل کر پاکستان کو دو لخت کرنے کا  بیچ ڈالا ؟
کس نے شراب ؤ شباب کے نشے میں ٩٠ ہزار کو ھتیار ڈالنے کا حکم دیا ؟
 کس نے خارجہ پالیسی کو آزادانہ  رہنے نہ دیا اور "بخشو " کا کردار ادا کر کے  پاکستان کا وقار بیچا ؟
کس نے پاکستان کا پہلا منتخب وزیر اعظم قتل کروایا  ؟
کس نے پاکستا ن کی نسلوں کو ہیروین اور کلاشنکوف کے بھنورمیں پھنسا دیا ؟
 کس نے مہاجر قومی موومنٹ اور پنجابی پختون اتحاد کے ذریعے منی پاکستان میں زہر کے پودے لگاۓ ؟
کس نے پاکستان کے منتخب نمایندوں کو کبھی قاتل کبھی ہائی جیکر ،کبھی کرپشن کوئین کبھی مسٹر ٹین پرسنٹ مشہور کرنے کے لیے قومی خزانے کو پانی کی طرح بہایا ؟
کس نے ذاتی اکاؤنٹس میں ڈالر بھرنے کے لیے پاکستانی بیچے ؟
کس نے اوجڑی کیمپ جیسے سانحات کرواۓ جن میں سینکڑوں بیگناہ مارے گیے؟؟
کس نے بازار سے اٹھا کر لوہاروں، کا نسٹبلو ں  اور کرکٹروں کو سیاستدان جیسی معزز نام سے مشہور کروایا ؟
کس نے امریکیوں کو پاکستان کی زمین "فروخت " کی ؟
کس نے سندھ اور بلوچستان کے معدنیات سے بھر پور خطے کو عیاش عربوں اور بے حس چینوں  میں تقسیم کیا ؟
کس نے بلوچستان میں ہر دوسری دہائی میں فوجی آپریشن کر کے بلوچستان کو آگ میں دھکیلا ؟
کس نے بلوچستان کے نمایندہ سرداروں کو کبھی جیل ،  کبھی جلاوطنی  تو کبھی  پتھروں میں دفن کر کے پاکستان اور بلوچستان میں ہمیشہ کے لیے نفرت کی دیوار اٹھا دی ؟
کس نے بجلی  نہ بنانے کی ایسی قسم کھائی کے اسکے جانے کے ١٣ سال بعد بھی یہ کمی پوری ہونے میں نہیں آرہی ؟
 یہ لسٹ مزید لمبی ہوگی ختم ہونے کا نام نہیں لے رہی 
   اگر آپ میں رتی برابر بھی سچائی ہے تو تسلیم کریں کہ سیاستدان پاکستان کی تباہی میں  صرف اتنے ھی حصے دار  ہیں جتنے کی اجازت  یہ گھر کے" مالک " بننے والے " چوکیدار"  انہیں دیتے ہیں
ان کی فیکٹری سے تیار کردہ سیاستدان معافی مانگ چکے، کچھ جج بھی اپنی حرکتوں پر  توبہ کر اٹھے اور تو اور کچھ صحافیوں نے بھی اپنی "گمراہی " کی کہانی سرے عام سنا دی  مگر ایک " آپ " ہیں جنکا نہ تکبر ختم ہونے کو آتا ہے نہ  ضمیر کا بوجھ روح پر محسوس ہوتا ہے کہ عوام سے اپنے کیے کی معافی ہی مانگ لیں 
یقینن یہ  کوئی عام معافی نہیں ہوگی ...... اس ملک کی تاریخ میں اگر کبھی ایسا دن آگیا تو یہ معافی " معافیوں کی ماں "کہلاۓ گی اے کاش ! ہم اس وقت تک زندہ رہیں